<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 12 May 2026 03:08:27 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 12 May 2026 03:08:27 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ریاست مخالف مواد: اسلام آباد کی عدالت کا 27 یوٹیوب چینلز کو بلاک کرنے کا حکم</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30470774/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسلام آباد کی مقامی عدالت نے ریاست مخالف مواد پھیلانے پر 27 یوٹیوب چینلز کو فوری طور پر بلاک کرنے کا حکم جاری کر دیا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ عباس شاہ نے یوٹیوب چینلز کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کے بعد دو صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامہ جاری کیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے 2 جون کو ان چینلز کے خلاف ریاست مخالف مواد کی بنیاد پر انکوائری کا آغاز کیا تھا۔ عدالت نے ایف آئی اے کے انکوائری افسر کے دلائل اور دستیاب ریکارڈ کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد فیصلہ سنایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2025/07/08153432f51b9a2.jpg'  alt=' ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت کے مطابق پیش کیے گئے شواہد سے واضح ہوتا ہے کہ مذکورہ یوٹیوب چینلز پر موجود مواد ”پیکا ایکٹ“ (Prevention of Electronic Crimes Act) اور تعزیراتِ پاکستان کے تحت قابلِ سزا جرم کے زمرے میں آتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکم نامے میں یوٹیوب کے افسر انچارج کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر ان 27 چینلز کو بلاک کرنے کے اقدامات کرے تاکہ ملک میں ریاست مخالف پروپیگنڈے کا سدباب کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسلام آباد کی مقامی عدالت نے ریاست مخالف مواد پھیلانے پر 27 یوٹیوب چینلز کو فوری طور پر بلاک کرنے کا حکم جاری کر دیا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ عباس شاہ نے یوٹیوب چینلز کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کے بعد دو صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامہ جاری کیا۔</strong></p>
<p>حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے 2 جون کو ان چینلز کے خلاف ریاست مخالف مواد کی بنیاد پر انکوائری کا آغاز کیا تھا۔ عدالت نے ایف آئی اے کے انکوائری افسر کے دلائل اور دستیاب ریکارڈ کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد فیصلہ سنایا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2025/07/08153432f51b9a2.jpg'  alt=' ' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>عدالت کے مطابق پیش کیے گئے شواہد سے واضح ہوتا ہے کہ مذکورہ یوٹیوب چینلز پر موجود مواد ”پیکا ایکٹ“ (Prevention of Electronic Crimes Act) اور تعزیراتِ پاکستان کے تحت قابلِ سزا جرم کے زمرے میں آتا ہے۔</p>
<p>حکم نامے میں یوٹیوب کے افسر انچارج کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر ان 27 چینلز کو بلاک کرنے کے اقدامات کرے تاکہ ملک میں ریاست مخالف پروپیگنڈے کا سدباب کیا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30470774</guid>
      <pubDate>Tue, 08 Jul 2025 15:34:47 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (آصف نوید)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/07/08145921cee65d7.jpg?r=150028" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/07/08145921cee65d7.jpg?r=150028"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
