<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Business &amp; Economy</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 04:03:48 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 04:03:48 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فواد حسن فواد نے 30 کروڑ ڈالر کی چینی درآمد کرنے پر سوالات اٹھا دیے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30471954/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سابق پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد نے حکومت کی جانب سے 30 کروڑ ڈالر کی چینی برآمد کے بعد پھر سے درآمد کرنے کے معاملے پر سوالات اٹھا دیے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فواد حسن فواد نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ چینی کی 30 کروڑ ڈالر کی درآمد عوامی مفاد میں نہیں لہٰذا اس کا فوراً جائزہ لیا جائے، عام آدمی چینی کا بڑا صارف نہیں بلکہ اصل فائدہ خوراک و مشروبات کی صنعت کو ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سابق پرنسپل سیکریٹری نے کہا کہ پہلے چینی کی برآمد کی اجازت دی اور اب صنعتکاروں کو فائدہ پہنچانے کے لیے درآمد؟ فی کس چینی کا استعمال سالانہ 28 کلو گرام ہے اصل مسئلہ مافیا کا کردار ہے، یہ انسانی صحت کے لیے خطرناک ہے قیمتی زرمبادلہ اس پر خرچ کیوں کیا جا رہا ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی قیمتوں پر کنٹرول میں ناکامی درآمد کی دلیل نہیں بن سکتی، عام آدمی نہ مشروبات خرید سکتا ہے اور نہ مٹھائیاں پھر ان کے نام پر درآمد کیوں؟ برآمد کی اجازت دینے پر کیا کوئی جواب دہ ہوگا؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/fawadhasanpk/status/1944266030429200673"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فواد حسن فواد کا کہنا تھا کہ چینی مافیا، بروکرز اور ذخیرہ اندوزی کی تحقیقات کب ہوں گی؟ کیا ایف بی آر نے پچھلے 5 سال میں چینی کی صنعت کے منافع پر ٹیکس لیا؟ ایف بی آر صرف شوگر سیکٹر کے منافع پر 35 فیصد ٹیکس لے تو خسارہ کم ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ چند روز قبل وفاقی کابینہ نے 5 لاکھ ٹن چینی درآمد کرنے کا حتمی فیصلہ کیا۔ وزارت غذائی تحفظ نے کہا کہ پانچ لاکھ ٹن شوگر درآمد کرنے کا فیصلہ حتمی طور پر ہوگیا ہے اور درآمد حکومتی شعبے کے ذریعے کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت کا کہنا تھا کہ درآمد کیلیے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں اور اس پر فوری عمل درآمد شروع کیا جا رہا ہے، یہ اقدام قیمتوں میں توازن برقرار رکھنے کیلیے اٹھایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت غذائی تحفظ کے مطابق درآمد کا جو طریقہ اختیار کیا گیا ہے وہ ماضی کی حکومتوں سے مختلف اور واضح طور پر بہتر حکمت عملی کی نمائندگی کرتا ہے، ماضی میں اکثر اس کی مصنوعی قلت پیدا کر کے قومی خزانے پر بوجھ ڈال کر سبسڈی پر انحصار کیا جاتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت نے بتایا کہ موجودہ حکومت نے چینی برآمد کرنے کا فیصلہ اُس وقت کیا تھا جب چینی وافر مقدار میں دستیاب تھی، لیکن اب چینی کی قیمتوں میں استحکام کے لیے چینی درآمد کی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سابق پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد نے حکومت کی جانب سے 30 کروڑ ڈالر کی چینی برآمد کے بعد پھر سے درآمد کرنے کے معاملے پر سوالات اٹھا دیے۔</strong></p>
<p>فواد حسن فواد نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ چینی کی 30 کروڑ ڈالر کی درآمد عوامی مفاد میں نہیں لہٰذا اس کا فوراً جائزہ لیا جائے، عام آدمی چینی کا بڑا صارف نہیں بلکہ اصل فائدہ خوراک و مشروبات کی صنعت کو ہے۔</p>
<p>سابق پرنسپل سیکریٹری نے کہا کہ پہلے چینی کی برآمد کی اجازت دی اور اب صنعتکاروں کو فائدہ پہنچانے کے لیے درآمد؟ فی کس چینی کا استعمال سالانہ 28 کلو گرام ہے اصل مسئلہ مافیا کا کردار ہے، یہ انسانی صحت کے لیے خطرناک ہے قیمتی زرمبادلہ اس پر خرچ کیوں کیا جا رہا ہے؟</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی قیمتوں پر کنٹرول میں ناکامی درآمد کی دلیل نہیں بن سکتی، عام آدمی نہ مشروبات خرید سکتا ہے اور نہ مٹھائیاں پھر ان کے نام پر درآمد کیوں؟ برآمد کی اجازت دینے پر کیا کوئی جواب دہ ہوگا؟</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/fawadhasanpk/status/1944266030429200673"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>فواد حسن فواد کا کہنا تھا کہ چینی مافیا، بروکرز اور ذخیرہ اندوزی کی تحقیقات کب ہوں گی؟ کیا ایف بی آر نے پچھلے 5 سال میں چینی کی صنعت کے منافع پر ٹیکس لیا؟ ایف بی آر صرف شوگر سیکٹر کے منافع پر 35 فیصد ٹیکس لے تو خسارہ کم ہو سکتا ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ چند روز قبل وفاقی کابینہ نے 5 لاکھ ٹن چینی درآمد کرنے کا حتمی فیصلہ کیا۔ وزارت غذائی تحفظ نے کہا کہ پانچ لاکھ ٹن شوگر درآمد کرنے کا فیصلہ حتمی طور پر ہوگیا ہے اور درآمد حکومتی شعبے کے ذریعے کی جائے گی۔</p>
<p>وزارت کا کہنا تھا کہ درآمد کیلیے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں اور اس پر فوری عمل درآمد شروع کیا جا رہا ہے، یہ اقدام قیمتوں میں توازن برقرار رکھنے کیلیے اٹھایا گیا ہے۔</p>
<p>وزارت غذائی تحفظ کے مطابق درآمد کا جو طریقہ اختیار کیا گیا ہے وہ ماضی کی حکومتوں سے مختلف اور واضح طور پر بہتر حکمت عملی کی نمائندگی کرتا ہے، ماضی میں اکثر اس کی مصنوعی قلت پیدا کر کے قومی خزانے پر بوجھ ڈال کر سبسڈی پر انحصار کیا جاتا تھا۔</p>
<p>وزارت نے بتایا کہ موجودہ حکومت نے چینی برآمد کرنے کا فیصلہ اُس وقت کیا تھا جب چینی وافر مقدار میں دستیاب تھی، لیکن اب چینی کی قیمتوں میں استحکام کے لیے چینی درآمد کی جا رہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Economy</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30471954</guid>
      <pubDate>Sun, 13 Jul 2025 19:53:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/07/13193738f563ce9.jpg?r=193743" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/07/13193738f563ce9.jpg?r=193743"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
