<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Life &amp; Style</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 12 May 2026 13:31:29 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 12 May 2026 13:31:29 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آسٹریلیا کے سب سے خطرناک جنگلات میں ایک نایاب اور وزنی ترین کیڑے کی دریافت</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30476052/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;زمین کے سب سے خطرناک جنگلات میں سے ایک، آسٹریلیا کے شمالی علاقے کے گھنے، نم اور پہاڑی برساتی جنگلات، جہاں زہریلے سانپ، مکڑیاں اور دیگر خوفناک مخلوقات پائے جاتے ہیں، وہاں قدرت نے ایک ایسا راز چھپا رکھا تھا جو اب جا کر دنیا کے سامنے آیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ دریافت صرف ایک نئے کیڑے کی نہیں، بلکہ قدرت کے عظیم تخلیقی نظام کی ایک جھلک ہے، جو وقت اور ماحول کے ساتھ حیرت انگیز شکلیں اختیار کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آسٹریلیا کی معروف جیمز کُک یونیورسٹی کے ماہرینِ حیاتیات نے حال ہی میں ’Acrophylla alta‘ نامی ایک نئی اسٹک انسیکٹ یعنی لکڑی کی مانند دکھائی دینے والے کیڑے کی دریافت کی ہے، جو نہ صرف طویل قامت ہے بلکہ اسے آسٹریلیا کا وزنی ترین کیڑا بھی قرار دیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/ABC/status/1950849316685217945"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کیڑا 44 گرام وزنی ہے، جو تقریباً ایک گالف بال کے وزن کے برابر ہے، اور اس کی لمبائی 40 سینٹی میٹریعنی تقریباً 16 انچ ہے۔ اس حیرت انگیز مخلوق کو شمالی کوئنزلینڈ کے دور افتادہ پہاڑی برساتی جنگل کے درختوں کی چھتریوں میں پایا گیا ہے، جہاں تک عام انسان کی رسائی بہت مشکل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2025/08/01105405a7c3b47.jpg'  alt='  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیقی ٹیم کے رکن اینگس ایماٹ کے مطابق، اس کیڑے کی غیر معمولی جسامت ممکنہ طور پر اس کے ٹھنڈے اور مرطوب ماحول کا نتیجہ ہے۔ ’ٹھنڈے موسم میں جسم کی کثافت زندگی کے تحفظ میں مدد دیتی ہے،‘ انہوں نے وضاحت کی، ’اور یہی وجہ ہے کہ لاکھوں برسوں میں یہ مخلوق اتنی بڑی بن چکی ہے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30396370/"&gt;دنیا کا واحد ’کیڑا‘، جس کی قیمت نئی کار سے بھی زیادہ ہے&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کی نایابی کا ایک سبب اس کا مخصوص رہائشی علاقہ بھی ہے، ایک محدود بلند و بالا برساتی خطہ جہاں یہ کیڑا عام طور پر درختوں کی بلندی پر رہتا ہے، اور زمین پر شاذ و نادر ہی آتا ہے۔ اکثر یہ کسی طوفان یا پرندے کی مدد سے ہی نیچے آتا ہے، یہی وجہ ہے کہ یہ عرصہ دراز تک انسانوں کی نظروں سے اوجھل رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دلچسپ بات یہ ہے کہ ہر اسٹک انسیکٹ کی طرح، اس نئی قسم کے کیڑے کے انڈے بھی منفرد نوعیت کے ہیں، ان کی سطح، بناوٹ اور ساخت سب مختلف ہوتی ہیں۔ یہی خصوصیات اس نئی نوع کی شناخت کا بنیادی ذریعہ بنیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30417175/"&gt;کار کے سائز کا 340 ملین سال پرانا کیڑا دریافت&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس وقت اس نایاب کیڑے کے دو نمونے کوئنزلینڈ میوزیم کے ذخیرے میں شامل کیے جا چکے ہیں تاکہ آئندہ تحقیق میں مدد مل سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قدرت اپنے اندر نہ جانے کتنے انمول راز چھپائے بیٹھی ہے۔ جہاں انسانی قدم آج بھی نہیں پہنچ پاتے، وہیں زمین پر ایسی حیرت انگیز مخلوقات موجود ہیں جو بقا اور ماحول سے ہم آہنگی کی شاندار مثالیں پیش کرتی ہیں۔ ’ایکروفلا ایلٹا‘ نہ صرف ایک نئی نوع کا اضافہ ہے، بلکہ سائنس کی دنیا میں تحقیق اور جستجو کے سفر میں ایک نیا سنگ میل بھی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>زمین کے سب سے خطرناک جنگلات میں سے ایک، آسٹریلیا کے شمالی علاقے کے گھنے، نم اور پہاڑی برساتی جنگلات، جہاں زہریلے سانپ، مکڑیاں اور دیگر خوفناک مخلوقات پائے جاتے ہیں، وہاں قدرت نے ایک ایسا راز چھپا رکھا تھا جو اب جا کر دنیا کے سامنے آیا ہے۔</strong></p>
<p>یہ دریافت صرف ایک نئے کیڑے کی نہیں، بلکہ قدرت کے عظیم تخلیقی نظام کی ایک جھلک ہے، جو وقت اور ماحول کے ساتھ حیرت انگیز شکلیں اختیار کرتا ہے۔</p>
<p>آسٹریلیا کی معروف جیمز کُک یونیورسٹی کے ماہرینِ حیاتیات نے حال ہی میں ’Acrophylla alta‘ نامی ایک نئی اسٹک انسیکٹ یعنی لکڑی کی مانند دکھائی دینے والے کیڑے کی دریافت کی ہے، جو نہ صرف طویل قامت ہے بلکہ اسے آسٹریلیا کا وزنی ترین کیڑا بھی قرار دیا جا رہا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/ABC/status/1950849316685217945"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>یہ کیڑا 44 گرام وزنی ہے، جو تقریباً ایک گالف بال کے وزن کے برابر ہے، اور اس کی لمبائی 40 سینٹی میٹریعنی تقریباً 16 انچ ہے۔ اس حیرت انگیز مخلوق کو شمالی کوئنزلینڈ کے دور افتادہ پہاڑی برساتی جنگل کے درختوں کی چھتریوں میں پایا گیا ہے، جہاں تک عام انسان کی رسائی بہت مشکل ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2025/08/01105405a7c3b47.jpg'  alt='  ' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>تحقیقی ٹیم کے رکن اینگس ایماٹ کے مطابق، اس کیڑے کی غیر معمولی جسامت ممکنہ طور پر اس کے ٹھنڈے اور مرطوب ماحول کا نتیجہ ہے۔ ’ٹھنڈے موسم میں جسم کی کثافت زندگی کے تحفظ میں مدد دیتی ہے،‘ انہوں نے وضاحت کی، ’اور یہی وجہ ہے کہ لاکھوں برسوں میں یہ مخلوق اتنی بڑی بن چکی ہے۔‘</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30396370/">دنیا کا واحد ’کیڑا‘، جس کی قیمت نئی کار سے بھی زیادہ ہے</a></p>
<p>اس کی نایابی کا ایک سبب اس کا مخصوص رہائشی علاقہ بھی ہے، ایک محدود بلند و بالا برساتی خطہ جہاں یہ کیڑا عام طور پر درختوں کی بلندی پر رہتا ہے، اور زمین پر شاذ و نادر ہی آتا ہے۔ اکثر یہ کسی طوفان یا پرندے کی مدد سے ہی نیچے آتا ہے، یہی وجہ ہے کہ یہ عرصہ دراز تک انسانوں کی نظروں سے اوجھل رہا۔</p>
<p>دلچسپ بات یہ ہے کہ ہر اسٹک انسیکٹ کی طرح، اس نئی قسم کے کیڑے کے انڈے بھی منفرد نوعیت کے ہیں، ان کی سطح، بناوٹ اور ساخت سب مختلف ہوتی ہیں۔ یہی خصوصیات اس نئی نوع کی شناخت کا بنیادی ذریعہ بنیں۔</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30417175/">کار کے سائز کا 340 ملین سال پرانا کیڑا دریافت</a></p>
<p>اس وقت اس نایاب کیڑے کے دو نمونے کوئنزلینڈ میوزیم کے ذخیرے میں شامل کیے جا چکے ہیں تاکہ آئندہ تحقیق میں مدد مل سکے۔</p>
<p>قدرت اپنے اندر نہ جانے کتنے انمول راز چھپائے بیٹھی ہے۔ جہاں انسانی قدم آج بھی نہیں پہنچ پاتے، وہیں زمین پر ایسی حیرت انگیز مخلوقات موجود ہیں جو بقا اور ماحول سے ہم آہنگی کی شاندار مثالیں پیش کرتی ہیں۔ ’ایکروفلا ایلٹا‘ نہ صرف ایک نئی نوع کا اضافہ ہے، بلکہ سائنس کی دنیا میں تحقیق اور جستجو کے سفر میں ایک نیا سنگ میل بھی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30476052</guid>
      <pubDate>Fri, 01 Aug 2025 16:03:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/08/0110421852ccb25.jpg?r=104546" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/08/0110421852ccb25.jpg?r=104546"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
