<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 14 May 2026 08:01:21 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 14 May 2026 08:01:21 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹرمپ کی دعوت کو مودی کا ٹھکرانا، بھارت، امریکا تعلقات میں تلخی کا باعث بنی، امریکی جریدے کا انکشاف</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30476827/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی جریدے بلومبرگ نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کو خدشہ تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات نہ کرا دیں۔ اسی خدشے کے پیشِ نظر مودی نے 17 جون کو امریکی صدر کی کھانے کی دعوت قبول کرنے سے انکار کردیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا اور بھارت کے درمیان تعلقات میں کشیدگی  کی اصل وجہ 17 جون کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے درمیان ایک ٹیلی فون کال بنی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی جریدے بلومبرگ نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے اس ٹیلی فون کال کے فوراً بعد وائٹ ہاؤس نے پاک فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر کے اعزاز میں ظہرانہ دیا، جس نے بھارتی قیادت کو سخت پریشان کر دیا۔ مودی اور ان کے قریبی حلقوں نے اس واقعے پر سخت ردعمل ظاہر کیا اور بتایا گیا کہ ان کے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30476729/"&gt;بھارت پر ٹیرف عائد کئے ابھی چند گھنٹے ہوئے ہیں، روسی تیل کی خریداری بند نہ کی تو مزید ٹیرف لگایا جائے گا، ٹرمپ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی کو خدشہ تھا کہ  ڈونلڈ ٹرمپ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات نہ کرا دیں۔ اسی خدشے کے پیشِ نظر مودی نے 17 جون کو امریکی صدر کی کھانے کی دعوت قبول کرنے سے انکار کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی جریدے کے مطابق 17 جون کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کی 45 منٹ ٹیلی فونک گفتگو ہوئی تھی، 35 منٹ کی گفتگو میں ٹرمپ نے مودی کی باتیں سنی ان سنی کردیں ۔ یہ 45 منٹ کی گفتگو ہی امریکا  اور بھارت کے تعلقات کے درمیان ٹرننگ پوائنٹ بنی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں، مودی نے جی سیون اجلاس کے بعد امریکا جانے کے اپنے ارادے کو ترک کر دیا، جو کہ تعلقات میں سرد مہری کی واضح نشانی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30476711/"&gt;بھارت پر مزید 25 فیصد ٹیرف عائد: نئی دہلی نے فیصلہ غیر منصفانہ قرار دے دیا&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا اور بھارت کے درمیان کشیدگی کی ایک اور نمایاں علامت 50 فیصد ٹیرف کی صورت میں سامنے آئی ہے، جس سے دونوں ممالک کے تجارتی تعلقات متاثر ہو رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی جریدے نے لکھا کہ تناؤ بھری گفتگو کے بعد ہی امریکا ، بھارت تعلقات میں تلخی آنا شروع ہوئی۔ تناؤ کی جھلک اس وقت بھی سامنے آئی جب ٹرمپ نے بھارتی معیشت کو مردہ کہا۔ اسی تناؤ کے نتیجے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارتی مصنوعات پر 50 فیصد ٹیرف بھی عائد کیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی جریدے بلومبرگ نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کو خدشہ تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات نہ کرا دیں۔ اسی خدشے کے پیشِ نظر مودی نے 17 جون کو امریکی صدر کی کھانے کی دعوت قبول کرنے سے انکار کردیا۔</strong></p>
<p>امریکا اور بھارت کے درمیان تعلقات میں کشیدگی  کی اصل وجہ 17 جون کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے درمیان ایک ٹیلی فون کال بنی۔</p>
<p>امریکی جریدے بلومبرگ نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے اس ٹیلی فون کال کے فوراً بعد وائٹ ہاؤس نے پاک فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر کے اعزاز میں ظہرانہ دیا، جس نے بھارتی قیادت کو سخت پریشان کر دیا۔ مودی اور ان کے قریبی حلقوں نے اس واقعے پر سخت ردعمل ظاہر کیا اور بتایا گیا کہ ان کے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔</p>
<p><strong><a href="https://www.aaj.tv/news/30476729/">بھارت پر ٹیرف عائد کئے ابھی چند گھنٹے ہوئے ہیں، روسی تیل کی خریداری بند نہ کی تو مزید ٹیرف لگایا جائے گا، ٹرمپ</a></strong></p>
<p>رپورٹ کے مطابق بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی کو خدشہ تھا کہ  ڈونلڈ ٹرمپ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات نہ کرا دیں۔ اسی خدشے کے پیشِ نظر مودی نے 17 جون کو امریکی صدر کی کھانے کی دعوت قبول کرنے سے انکار کردیا۔</p>
<p>امریکی جریدے کے مطابق 17 جون کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کی 45 منٹ ٹیلی فونک گفتگو ہوئی تھی، 35 منٹ کی گفتگو میں ٹرمپ نے مودی کی باتیں سنی ان سنی کردیں ۔ یہ 45 منٹ کی گفتگو ہی امریکا  اور بھارت کے تعلقات کے درمیان ٹرننگ پوائنٹ بنی۔</p>
<p>مزید برآں، مودی نے جی سیون اجلاس کے بعد امریکا جانے کے اپنے ارادے کو ترک کر دیا، جو کہ تعلقات میں سرد مہری کی واضح نشانی ہے۔</p>
<p><strong><a href="https://www.aaj.tv/news/30476711/">بھارت پر مزید 25 فیصد ٹیرف عائد: نئی دہلی نے فیصلہ غیر منصفانہ قرار دے دیا</a></strong></p>
<p>امریکا اور بھارت کے درمیان کشیدگی کی ایک اور نمایاں علامت 50 فیصد ٹیرف کی صورت میں سامنے آئی ہے، جس سے دونوں ممالک کے تجارتی تعلقات متاثر ہو رہے ہیں۔</p>
<p>امریکی جریدے نے لکھا کہ تناؤ بھری گفتگو کے بعد ہی امریکا ، بھارت تعلقات میں تلخی آنا شروع ہوئی۔ تناؤ کی جھلک اس وقت بھی سامنے آئی جب ٹرمپ نے بھارتی معیشت کو مردہ کہا۔ اسی تناؤ کے نتیجے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارتی مصنوعات پر 50 فیصد ٹیرف بھی عائد کیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30476827</guid>
      <pubDate>Fri, 08 Aug 2025 22:26:44 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/08/0819024930662eb.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/08/0819024930662eb.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
