<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Business &amp; Economy</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 13 May 2026 02:05:53 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 13 May 2026 02:05:53 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>خیبرپختونخوا: 2018 سے 2021 تک صحت انصاف کارڈ میں اربوں روپے کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30476917/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;محکمہ صحت خیبرپختونخوا کی آڈٹ رپورٹ  میں 2018  سے 2021 تک صحت انصاف کارڈ میں مالی بے ضابطگیوں کا  انکشاف ہوا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آڈٹ  رپورٹ کے مطابق  صحت کارڈ  اور دیگر منصوبوں میں 28 ارب 61 کروڑ روپے کی مالی بے قاعدگیاں سامنے آئی ہیں۔ رپورٹ میں سامنے آیا ہے کہ نجی اسپتالوں کو غیرضروری طور  پر صحت سہولت کارڈ پینل میں شامل کیا گیا، پینل میں شامل نہ ہونے والے بعض نجی اسپتالوں کو  اربوں  روپےکی ادائیگیاں  کی گئیں۔ 10اضلاع&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محکمہ صحت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ صحت کارڈ پلس سے اربوں روپے وصول کرنے والے 10 اضلاع کے 17 اسپتال ہیلتھ کیئر کمیشن سے رجسٹرڈ ہی نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آج نیوز کو موصول ہونے والی دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ سوات کے 2 غیر رجسٹرڈ اسپتالوں کو صحت سہولت کارڈ کے تحت ایک ارب 2 کروڑ 80 لاکھ کی رقم دی گئی ہیں۔ اسی طرح صحت کارڈ کی مد میں انشورنس کو 27 ارب کی ادائیگی کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آڈٹ  رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان ادائیگیوں میں 2 ارب 16 کروڑ روپے انکم ٹیکس کی کٹوتی نہیں کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دستاویز کے مطابق 18-2017 سے 22-2021  تک صحت کے شعبے میں مالی بے ضابطگیوں سے فنڈز کا نقصان ہوا۔ خیبر پختونخوا کے محکمہ صحت کو 32 اضلاع  کے اسپتالوں میں ضرورت سے زائد سیکیورٹی عملے اور چوکیدار کی بھرتی پر 82 کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ صحت سہولت کارڈ پروگرام کے لیے نادرا کا سینٹرل مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم تاحال نہیں بن سکا جبکہ صحت کارڈ کے مریضوں کا مکمل ڈیٹا بھی دستیاب نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آڈٹ رپورٹ دستاویز میں انکشاف ہوا ہے کہ غیر تدریسی اسپتالوں میں اصلاحات پر 2 ارب روپے کے اخراجات مشکوک، انشورنس کے پی ایس آر پروگرام میں ایک ارب 16 کروڑ روپے کا مالی فرق، محکمہ صحت نے پبلک اسپتالوں سے 25 فیصد حصہ وصول نہیں کیا جس سے خزانے کو 27 کروڑ کا نقصان ہوا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>محکمہ صحت خیبرپختونخوا کی آڈٹ رپورٹ  میں 2018  سے 2021 تک صحت انصاف کارڈ میں مالی بے ضابطگیوں کا  انکشاف ہوا ہے۔</strong></p>
<p>آڈٹ  رپورٹ کے مطابق  صحت کارڈ  اور دیگر منصوبوں میں 28 ارب 61 کروڑ روپے کی مالی بے قاعدگیاں سامنے آئی ہیں۔ رپورٹ میں سامنے آیا ہے کہ نجی اسپتالوں کو غیرضروری طور  پر صحت سہولت کارڈ پینل میں شامل کیا گیا، پینل میں شامل نہ ہونے والے بعض نجی اسپتالوں کو  اربوں  روپےکی ادائیگیاں  کی گئیں۔ 10اضلاع</p>
<p>محکمہ صحت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ صحت کارڈ پلس سے اربوں روپے وصول کرنے والے 10 اضلاع کے 17 اسپتال ہیلتھ کیئر کمیشن سے رجسٹرڈ ہی نہیں ہیں۔</p>
<p>آج نیوز کو موصول ہونے والی دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ سوات کے 2 غیر رجسٹرڈ اسپتالوں کو صحت سہولت کارڈ کے تحت ایک ارب 2 کروڑ 80 لاکھ کی رقم دی گئی ہیں۔ اسی طرح صحت کارڈ کی مد میں انشورنس کو 27 ارب کی ادائیگی کی گئی۔</p>
<p>آڈٹ  رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان ادائیگیوں میں 2 ارب 16 کروڑ روپے انکم ٹیکس کی کٹوتی نہیں کی گئی ہے۔</p>
<p>دستاویز کے مطابق 18-2017 سے 22-2021  تک صحت کے شعبے میں مالی بے ضابطگیوں سے فنڈز کا نقصان ہوا۔ خیبر پختونخوا کے محکمہ صحت کو 32 اضلاع  کے اسپتالوں میں ضرورت سے زائد سیکیورٹی عملے اور چوکیدار کی بھرتی پر 82 کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔</p>
<p>رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ صحت سہولت کارڈ پروگرام کے لیے نادرا کا سینٹرل مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم تاحال نہیں بن سکا جبکہ صحت کارڈ کے مریضوں کا مکمل ڈیٹا بھی دستیاب نہیں۔</p>
<p>آڈٹ رپورٹ دستاویز میں انکشاف ہوا ہے کہ غیر تدریسی اسپتالوں میں اصلاحات پر 2 ارب روپے کے اخراجات مشکوک، انشورنس کے پی ایس آر پروگرام میں ایک ارب 16 کروڑ روپے کا مالی فرق، محکمہ صحت نے پبلک اسپتالوں سے 25 فیصد حصہ وصول نہیں کیا جس سے خزانے کو 27 کروڑ کا نقصان ہوا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Economy</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30476917</guid>
      <pubDate>Sun, 10 Aug 2025 20:02:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (کاشان اعوان)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/08/1019594772ee4c6.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="400" width="700">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/08/1019594772ee4c6.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
