<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 23:51:25 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 23:51:25 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>یورپ ہمارے میزائلوں کی پہنچ میں ہے، امریکا بھی نشانہ بن سکتا ہے، ایرانی عہدیدار کا دعویٰ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30477916/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایرانی پارلیمنٹ میں قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے رکن میجر جنرل  نے دعویٰ کیا ہے کہ یورپ ہمارے میزائلوں کی پہنچ میں ہے، جن سے امریکہ کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دی یروشلم پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق میجر جنرل امیر حیات نے کہا ہے کہ ایرانی میزائل برطانیہ، فرانس، جرمنی، مغربی و مشرقی یورپ کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ خارج از امکان نہیں کہ آئندہ ایرانی میزائل واشنگٹن اور نیویارک تک پہنچیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے عندیہ دیا ہے کہ وہ ایران پر اقوام متحدہ کی پابندیاں دوبارہ عائد کرنے کے لیے تیار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی رکن پارلیمنٹ امیر حیات مقدم نے ایرانی خبر رساں ادارے دیدبان ایران سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) کی ایرو اسپیس فورس نے گزشتہ 20 سالوں سے ایرانی جنگی و بحری جہازوں کے ذریعے حملے کرنے کی صلاحیت پر کام کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ہم اپنے جہازوں کو امریکا کے 2 ہزار کلومیٹر کے فاصلے تک لے جا سکتے ہیں، اور وہاں سے واشنگٹن، نیویارک اور دیگر شہروں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حیات مقدم نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ فی الوقت، تمام یورپی ممالک ہماری رینج میں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے باضابطہ طور پر ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ اگست کے اختتام تک جوہری مذاکرات میں واپس نہ آیا تو وہ اقوام متحدہ کی پابندیوں کی بحالی کا عمل شروع کر دیں گے۔ یہ وہ پابندیاں ہیں جو 2015 کے معاہدے کے تحت اٹھائی گئی تھیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایرانی پارلیمنٹ میں قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے رکن میجر جنرل  نے دعویٰ کیا ہے کہ یورپ ہمارے میزائلوں کی پہنچ میں ہے، جن سے امریکہ کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔</strong></p>
<p>دی یروشلم پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق میجر جنرل امیر حیات نے کہا ہے کہ ایرانی میزائل برطانیہ، فرانس، جرمنی، مغربی و مشرقی یورپ کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ خارج از امکان نہیں کہ آئندہ ایرانی میزائل واشنگٹن اور نیویارک تک پہنچیں۔</p>
<p>یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے عندیہ دیا ہے کہ وہ ایران پر اقوام متحدہ کی پابندیاں دوبارہ عائد کرنے کے لیے تیار ہیں۔</p>
<p>ایرانی رکن پارلیمنٹ امیر حیات مقدم نے ایرانی خبر رساں ادارے دیدبان ایران سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) کی ایرو اسپیس فورس نے گزشتہ 20 سالوں سے ایرانی جنگی و بحری جہازوں کے ذریعے حملے کرنے کی صلاحیت پر کام کیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ ہم اپنے جہازوں کو امریکا کے 2 ہزار کلومیٹر کے فاصلے تک لے جا سکتے ہیں، اور وہاں سے واشنگٹن، نیویارک اور دیگر شہروں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔</p>
<p>حیات مقدم نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ فی الوقت، تمام یورپی ممالک ہماری رینج میں ہیں۔</p>
<p>واضح رہے کہ برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے باضابطہ طور پر ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ اگست کے اختتام تک جوہری مذاکرات میں واپس نہ آیا تو وہ اقوام متحدہ کی پابندیوں کی بحالی کا عمل شروع کر دیں گے۔ یہ وہ پابندیاں ہیں جو 2015 کے معاہدے کے تحت اٹھائی گئی تھیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30477916</guid>
      <pubDate>Mon, 18 Aug 2025 11:23:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/08/18111900548ab50.png" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/08/18111900548ab50.png"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
