<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 23:19:34 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 23:19:34 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بیلجیئم کا فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے کا فیصلہ، اسرائیل پر سخت پابندیاں عائد کرنے کا اعلان</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30480399/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بیلجیئم نے فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے کا تاریخی فیصلہ کر لیا ہے اور ساتھ ہی اسرائیل کے خلاف سخت پابندیوں کا اعلان بھی کر دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیلجیئم کے وزیر خارجہ ’میکسم پریوٹ‘ نے اپنے سرکاری بیان میں کہا کہ وہ رواں ماہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران فلسطین کو ریاستی حیثیت دینے کا باضابطہ اعلان کریں گے۔ ان کے مطابق یہ اقدام غزہ میں جاری انسانی بحران اور اسرائیل کی جانب سے بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزیوں کے جواب میں اٹھایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خارجہ کے مطابق اسرائیل پر مجموعی طور پر ’12 پابندیاں‘ نافذ کی جا رہی ہیں۔ ان میں غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے آنے والی مصنوعات کی درآمد پر مکمل پابندی، اسرائیلی کمپنیوں کے ساتھ سرکاری معاہدوں پر نظرِ ثانی، اور اسرائیلی پروازوں و ٹرانزٹ پر پابندی جیسے اقدامات شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/prevotmaxime/status/1962677161568981219"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید وضاحت کی کہ یہ پابندیاں براہِ راست اسرائیلی عوام پر نہیں بلکہ ان کی حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے عائد کی جا رہی ہیں تاکہ انسانی حقوق اور عالمی قوانین کی پاسداری کو یقینی بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ بیلجیئم سے پہلے فرانس، برطانیہ، آسٹریلیا اور کینیڈا بھی فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔ ان تمام ممالک کی جانب سے اقوام متحدہ میں اس فیصلے کا باضابطہ اعلان اسی ماہ متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بیلجیئم نے فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے کا تاریخی فیصلہ کر لیا ہے اور ساتھ ہی اسرائیل کے خلاف سخت پابندیوں کا اعلان بھی کر دیا ہے۔</strong></p>
<p>بیلجیئم کے وزیر خارجہ ’میکسم پریوٹ‘ نے اپنے سرکاری بیان میں کہا کہ وہ رواں ماہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران فلسطین کو ریاستی حیثیت دینے کا باضابطہ اعلان کریں گے۔ ان کے مطابق یہ اقدام غزہ میں جاری انسانی بحران اور اسرائیل کی جانب سے بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزیوں کے جواب میں اٹھایا گیا ہے۔</p>
<p>وزیر خارجہ کے مطابق اسرائیل پر مجموعی طور پر ’12 پابندیاں‘ نافذ کی جا رہی ہیں۔ ان میں غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے آنے والی مصنوعات کی درآمد پر مکمل پابندی، اسرائیلی کمپنیوں کے ساتھ سرکاری معاہدوں پر نظرِ ثانی، اور اسرائیلی پروازوں و ٹرانزٹ پر پابندی جیسے اقدامات شامل ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/prevotmaxime/status/1962677161568981219"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے مزید وضاحت کی کہ یہ پابندیاں براہِ راست اسرائیلی عوام پر نہیں بلکہ ان کی حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے عائد کی جا رہی ہیں تاکہ انسانی حقوق اور عالمی قوانین کی پاسداری کو یقینی بنایا جا سکے۔</p>
<p>خیال رہے کہ بیلجیئم سے پہلے فرانس، برطانیہ، آسٹریلیا اور کینیڈا بھی فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔ ان تمام ممالک کی جانب سے اقوام متحدہ میں اس فیصلے کا باضابطہ اعلان اسی ماہ متوقع ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30480399</guid>
      <pubDate>Tue, 02 Sep 2025 10:25:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/09/021022449eaa8ad.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/09/021022449eaa8ad.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
