<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 17:47:50 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 24 Jun 2026 17:47:50 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نیپال: سوشل میڈیا پر پابندی کے خلاف جین زی کا پرتشدد احتجاج، وزیراعظم نے استعفیٰ دے دیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30481487/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نیپال میں سوشل میڈیا پر پابندی کے خلاف جین زی کے پرتشدد احتجاج کے بعد نیپال کے وزیراعظم کے پی شرما اولی نے استعفیٰ دے دیا۔ دارالحکومت کھٹمنڈو میں کرفیو کے نفاذ کے باوجود احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو میں منگل کی صبح سے ہی مظاہرین مختلف علاقوں میں احتجاج کرتے رہے۔ اس دوران پرتشدد ہجوم نے وزیراعظم کے پی شرما اولی  اور صدر رام چندر پاؤڈل کی ذاتی رہاش گاہوں کو آگ لگادی۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں لوگوں کو صدر کی رہائش گاہ کے اندر توڑ پھوڑ کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشتعل افراد نے سابق وزرائے اعظم پشپا کمل دہال (پرچنڈا) اور شیر بہادر دیوبا کے گھروں سمیت وزیر توانائی دیپک کھڑکا کی رہائش گاہ کو بھی نقصان پہنچایا۔ جب کہ پارلیمنٹ ہاؤس کو بھی نذر آتش کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://www.independenturdu.com/sites/default/files/styles/800x600/public/article/main-image/2025/09/08/387794-228029803.jpg?itok=Pa3iF6xX'  alt=' ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کی جانب سے ملک بھر میں کرفیو کے نفاذ کے باوجود احتجاج جاری رہنے پر کئی وزراء نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے کر حکومت سے لاتعلقی کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عوامی دباؤ بڑھنے پر وزیراعظم کے پی شرما اولی نے اپوزیشن کی تمام جماعتوں کو طلب کرکے کہا کہ پرتشدد احتجاج کسی کے مفاد میں نہیں اور وہ مسائل کا حل بات چیت کے ذریعے تلاش کریں گے۔ تاہم احتجاج جاری رہنے پر وزیراعظم نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;center&gt;&lt;p&gt;&lt;a href="https://whatsapp.com/channel/0029Va8czsoLNSZzP877bA0I"&gt;
&lt;img src="https://i.aaj.tv/large/2025/09/041745569b68024.webp" alt="AAJ News Whatsapp" width="728" height="90"&gt;
&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&lt;/center&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب نیپال کے سابق وزیراعظم جھالا ناتھ کھنال کی اہلیہ راج لکشمی چترکر ہنگاموں کے دوران اپنے گھر میں آگ لگنے سے شدید زخمی ہوگئیں اور بعدازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ راج لشکمی کو نازک حالت میں کیرتی پور برن اسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ جانبر نہ ہو سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیپال میں پرتشدد احتجاج کا سلسلہ پیر کو اس وقت شروع ہوا تھا جب حکومت نے سوشل میڈیا پر پابندی عائد کردی تھی۔ کھٹمنڈو سمیت دیگر شہروں میں ہونے والے احتجاج کے دوران پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں ہوئیں اور مختلف واقعات میں 19 افراد ہلاک ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="احتجاج-کی-وجہ" href="#احتجاج-کی-وجہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;احتجاج کی وجہ&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے حکومت نے فیس بک، ایکس (ٹوئٹر) اور یوٹیوب سمیت بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پابندی عائد کی تھی۔ اگرچہ پیر کو حکومت نے دباؤ کے تحت پابندی ہٹا دی تھی مگر عوامی غصہ صرف اس پابندی تک محدود نہ رہا۔ پیر کے روز مظاہروں کے دوران تشدد میں کم از کم 19 افراد ہلاک ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مظاہرین بدعنوانی اور حکومتی اشرافیہ کے بچوں کو ملنے والے ناجائز فوائد (نیپو کڈز اور نیپو بیبیز) کے خلاف بھی نعرے بازی کررہے ہیں۔ ان کے ہاتھوں میں بینرز تھے جن پر لکھا تھا، ”بدعنوانی بند کرو، سوشل میڈیا نہیں“, ”سوشل میڈیا پر پابندی ہٹاؤ“ اور ”نوجوان بدعنوانی کے خلاف ہیں“۔ سوشل میڈیا پر بھی &lt;a href="/trends/NepoKid"&gt;#NepoKid&lt;/a&gt;، &lt;a href="/trends/NepoBabies"&gt;#NepoBabies&lt;/a&gt; اور &lt;a href="/trends/PoliticiansNepoBabyNepal"&gt;#PoliticiansNepoBabyNepal&lt;/a&gt; جیسے ہیش ٹیگز ٹرینڈ کرنے لگے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا کی بندش کے خلاف احتجاج کرنے والے نرائن آچاریہ نے کہا کہ“ہم اس لیے احتجاج کر رہے ہیں کہ ہمارے نوجوان قتل کیے جا رہے ہیں، انصاف ملنا چاہیے اور کے پی اولی کو جانا ہوگا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح درگانہ دہال نے کہا کہ“یہ حکومت ہٹلر جیسی ہے جو نوجوانوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ جب تک یہ حکومت رہے گی عوام مشکلات کا شکار رہیں گے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا پر پابندی کے خلاف ہونے والے احتجاج کو ”جین زی کا احتجاج“ قرار دیا جا رہا ہے، جس میں 1996 سے 2010 کے درمیان پیدا ہونے والے نوجوان پیش پیش ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>نیپال میں سوشل میڈیا پر پابندی کے خلاف جین زی کے پرتشدد احتجاج کے بعد نیپال کے وزیراعظم کے پی شرما اولی نے استعفیٰ دے دیا۔ دارالحکومت کھٹمنڈو میں کرفیو کے نفاذ کے باوجود احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔</strong></p>
<p>نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو میں منگل کی صبح سے ہی مظاہرین مختلف علاقوں میں احتجاج کرتے رہے۔ اس دوران پرتشدد ہجوم نے وزیراعظم کے پی شرما اولی  اور صدر رام چندر پاؤڈل کی ذاتی رہاش گاہوں کو آگ لگادی۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں لوگوں کو صدر کی رہائش گاہ کے اندر توڑ پھوڑ کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔</p>
<p>مشتعل افراد نے سابق وزرائے اعظم پشپا کمل دہال (پرچنڈا) اور شیر بہادر دیوبا کے گھروں سمیت وزیر توانائی دیپک کھڑکا کی رہائش گاہ کو بھی نقصان پہنچایا۔ جب کہ پارلیمنٹ ہاؤس کو بھی نذر آتش کردیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://www.independenturdu.com/sites/default/files/styles/800x600/public/article/main-image/2025/09/08/387794-228029803.jpg?itok=Pa3iF6xX'  alt=' ' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>حکومت کی جانب سے ملک بھر میں کرفیو کے نفاذ کے باوجود احتجاج جاری رہنے پر کئی وزراء نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے کر حکومت سے لاتعلقی کا اظہار کیا۔</p>
<p>عوامی دباؤ بڑھنے پر وزیراعظم کے پی شرما اولی نے اپوزیشن کی تمام جماعتوں کو طلب کرکے کہا کہ پرتشدد احتجاج کسی کے مفاد میں نہیں اور وہ مسائل کا حل بات چیت کے ذریعے تلاش کریں گے۔ تاہم احتجاج جاری رہنے پر وزیراعظم نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔</p>
<center><p><a href="https://whatsapp.com/channel/0029Va8czsoLNSZzP877bA0I">
<img src="https://i.aaj.tv/large/2025/09/041745569b68024.webp" alt="AAJ News Whatsapp" width="728" height="90">
</a></p></center>
<p>دوسری جانب نیپال کے سابق وزیراعظم جھالا ناتھ کھنال کی اہلیہ راج لکشمی چترکر ہنگاموں کے دوران اپنے گھر میں آگ لگنے سے شدید زخمی ہوگئیں اور بعدازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسیں۔</p>
<p>اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ راج لشکمی کو نازک حالت میں کیرتی پور برن اسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ جانبر نہ ہو سکیں۔</p>
<p>نیپال میں پرتشدد احتجاج کا سلسلہ پیر کو اس وقت شروع ہوا تھا جب حکومت نے سوشل میڈیا پر پابندی عائد کردی تھی۔ کھٹمنڈو سمیت دیگر شہروں میں ہونے والے احتجاج کے دوران پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں ہوئیں اور مختلف واقعات میں 19 افراد ہلاک ہوئے۔</p>
<h1><a id="احتجاج-کی-وجہ" href="#احتجاج-کی-وجہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>احتجاج کی وجہ</strong></h1>
<p>گزشتہ ہفتے حکومت نے فیس بک، ایکس (ٹوئٹر) اور یوٹیوب سمیت بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پابندی عائد کی تھی۔ اگرچہ پیر کو حکومت نے دباؤ کے تحت پابندی ہٹا دی تھی مگر عوامی غصہ صرف اس پابندی تک محدود نہ رہا۔ پیر کے روز مظاہروں کے دوران تشدد میں کم از کم 19 افراد ہلاک ہوئے۔</p>
<p>مظاہرین بدعنوانی اور حکومتی اشرافیہ کے بچوں کو ملنے والے ناجائز فوائد (نیپو کڈز اور نیپو بیبیز) کے خلاف بھی نعرے بازی کررہے ہیں۔ ان کے ہاتھوں میں بینرز تھے جن پر لکھا تھا، ”بدعنوانی بند کرو، سوشل میڈیا نہیں“, ”سوشل میڈیا پر پابندی ہٹاؤ“ اور ”نوجوان بدعنوانی کے خلاف ہیں“۔ سوشل میڈیا پر بھی <a href="/trends/NepoKid">#NepoKid</a>، <a href="/trends/NepoBabies">#NepoBabies</a> اور <a href="/trends/PoliticiansNepoBabyNepal">#PoliticiansNepoBabyNepal</a> جیسے ہیش ٹیگز ٹرینڈ کرنے لگے۔</p>
<p>سوشل میڈیا کی بندش کے خلاف احتجاج کرنے والے نرائن آچاریہ نے کہا کہ“ہم اس لیے احتجاج کر رہے ہیں کہ ہمارے نوجوان قتل کیے جا رہے ہیں، انصاف ملنا چاہیے اور کے پی اولی کو جانا ہوگا۔“</p>
<p>اسی طرح درگانہ دہال نے کہا کہ“یہ حکومت ہٹلر جیسی ہے جو نوجوانوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ جب تک یہ حکومت رہے گی عوام مشکلات کا شکار رہیں گے۔“</p>
<p>سوشل میڈیا پر پابندی کے خلاف ہونے والے احتجاج کو ”جین زی کا احتجاج“ قرار دیا جا رہا ہے، جس میں 1996 سے 2010 کے درمیان پیدا ہونے والے نوجوان پیش پیش ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30481487</guid>
      <pubDate>Tue, 09 Sep 2025 18:50:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/09/091413151edd68a.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/09/091413151edd68a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
