<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 03:50:55 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 03:50:55 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چارلی کرک کے قتل کا 100 فیصد امکان تھا؛ انہیں پہلے ہی خبردار کردیا تھا، سیکیورٹی ماہر کا دعویٰ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30482205/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی اتحادی اور &lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30481893/"&gt;&lt;strong&gt;قدامت پسند رہنما چارلی کرک&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کو بدھ کے روز یوٹاہ ویلی یونیورسٹی میں ایک تقریب کے دوران قتل کر دیا گیا تھا جس پر ان کے مداح آج بھی غمزدہ ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ایک سیکیورٹی ماہر نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ چارلی کرک کو پہلے ہی خبردار کر دیا گیا تھا کہ اگر ضروری حفاظتی تدابیر نہ اپنائی گئیں تو ان کے مارے جانے کا 100 فیصد امکان ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی اخبار دی مرر کی &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.mirror.co.uk/news/us-news/top-security-expert-gave-charlie-35885881"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق، بیورلی ہلز کی سیکیورٹی ایجنسی ”دی باڈی گارڈ گروپ“ کے مالک کرس ہرزوگ نے چارلی کرک کو 6 مارچ کو کیلیفورنیا اسٹیٹ یونیورسٹی میں ملاقات کے دوران یہ انتباہ جاری کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے چارلی کرک کو کہا تھا کہ اگر احتیاطی تدابیر نہ اپنائی گئیں تو وہ آئندہ کے کسی بھی یونیورسٹی کے اسپیچ ایونٹ میں &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.the-express.com/news/us-news/183491/security-expert-reveals-one-simple-change-would-have-saved-charlie-kirk-s-life"&gt; 100 فیصد مارے&lt;/a&gt; جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی حکام نے جمعہ کو بتایا تھا کہ چارلی کرک کے قتل کے الزام میں ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جس کی گرفتاری اس کے خاندان کے ایک رکن کی مدد سے ہوئی ہے، جس نے اسے پولیس کے حوالے کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;center&gt;&lt;p&gt;&lt;a href="https://whatsapp.com/channel/0029Va8czsoLNSZzP877bA0I"&gt;
&lt;img src="https://i.aaj.tv/large/2025/09/041745569b68024.webp" alt="AAJ News Whatsapp" width="728" height="90"&gt;
&lt;p&gt;&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&lt;/center&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;31 سالہ کرک کو یوٹاہ ویلی یونیورسٹی میں ایک بڑے اجتماع کے دوران گردن پر گولی مار کر ہلاک کردیا گیا تھا۔ وہ شرکا سے خطاب کر ہی رہے تھے کہ اچانک گولی لگنے سے زندگی کی بازی ہار گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کرس ہرزوگ نے ڈیلی میل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ، “اگرچہ کرک نے چند سیکیورٹی ہدایات پر عمل کیا تھا، لیکن وہ مجھ سے دوبارہ رابطہ نہیں کر پائے۔ ان کا کہنا تھا کہ، ”مجھے افسوس ہے کہ چارلی نے مجھ سے دوبارہ رابطہ نہیں کیا اور اب ان کا قتل ہو گیا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہرزوگ نے یہ بھی بتایا کہ ان کی ٹیم کے تمام افراد نے محسوس کیا تھا کہ کرک کی سیکیورٹی انتہائی ناکافی تھی اور انہیں اپنے کسی آنے والے ایونٹ میں گولی لگنے اور قتل ہونے کا شدید خطرہ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیکیورٹی ماہر نے کرک کو مشورہ دیا تھا کہ وہ اپنے تحفظ کے لیے بلٹ پروف گلاس کا استعمال کریں اور 700 میٹر کے دائرے میں موجود ہر شخص کو میٹل ڈیٹیکٹر سے چیک کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ قتل میں ملوث گرفتار ملزم ٹائلر رابنسن کو جمعرات کی رات تقریباً 33 گھنٹے کی تحقیقات کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی اتحادی اور <a href="https://www.aaj.tv/news/30481893/"><strong>قدامت پسند رہنما چارلی کرک</strong></a> کو بدھ کے روز یوٹاہ ویلی یونیورسٹی میں ایک تقریب کے دوران قتل کر دیا گیا تھا جس پر ان کے مداح آج بھی غمزدہ ہیں۔</strong></p>
<p>تاہم ایک سیکیورٹی ماہر نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ چارلی کرک کو پہلے ہی خبردار کر دیا گیا تھا کہ اگر ضروری حفاظتی تدابیر نہ اپنائی گئیں تو ان کے مارے جانے کا 100 فیصد امکان ہیں۔</p>
<p>برطانوی اخبار دی مرر کی <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.mirror.co.uk/news/us-news/top-security-expert-gave-charlie-35885881"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق، بیورلی ہلز کی سیکیورٹی ایجنسی ”دی باڈی گارڈ گروپ“ کے مالک کرس ہرزوگ نے چارلی کرک کو 6 مارچ کو کیلیفورنیا اسٹیٹ یونیورسٹی میں ملاقات کے دوران یہ انتباہ جاری کیا تھا۔</p>
<p>انہوں نے چارلی کرک کو کہا تھا کہ اگر احتیاطی تدابیر نہ اپنائی گئیں تو وہ آئندہ کے کسی بھی یونیورسٹی کے اسپیچ ایونٹ میں <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.the-express.com/news/us-news/183491/security-expert-reveals-one-simple-change-would-have-saved-charlie-kirk-s-life"> 100 فیصد مارے</a> جائیں گے۔</p>
<p>امریکی حکام نے جمعہ کو بتایا تھا کہ چارلی کرک کے قتل کے الزام میں ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جس کی گرفتاری اس کے خاندان کے ایک رکن کی مدد سے ہوئی ہے، جس نے اسے پولیس کے حوالے کیا۔</p>
<center><p><a href="https://whatsapp.com/channel/0029Va8czsoLNSZzP877bA0I">
<img src="https://i.aaj.tv/large/2025/09/041745569b68024.webp" alt="AAJ News Whatsapp" width="728" height="90">
<p></a></p></center></p>
<p>31 سالہ کرک کو یوٹاہ ویلی یونیورسٹی میں ایک بڑے اجتماع کے دوران گردن پر گولی مار کر ہلاک کردیا گیا تھا۔ وہ شرکا سے خطاب کر ہی رہے تھے کہ اچانک گولی لگنے سے زندگی کی بازی ہار گئے۔</p>
<p>کرس ہرزوگ نے ڈیلی میل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ، “اگرچہ کرک نے چند سیکیورٹی ہدایات پر عمل کیا تھا، لیکن وہ مجھ سے دوبارہ رابطہ نہیں کر پائے۔ ان کا کہنا تھا کہ، ”مجھے افسوس ہے کہ چارلی نے مجھ سے دوبارہ رابطہ نہیں کیا اور اب ان کا قتل ہو گیا ہے۔“</p>
<p>ہرزوگ نے یہ بھی بتایا کہ ان کی ٹیم کے تمام افراد نے محسوس کیا تھا کہ کرک کی سیکیورٹی انتہائی ناکافی تھی اور انہیں اپنے کسی آنے والے ایونٹ میں گولی لگنے اور قتل ہونے کا شدید خطرہ تھا۔</p>
<p>سیکیورٹی ماہر نے کرک کو مشورہ دیا تھا کہ وہ اپنے تحفظ کے لیے بلٹ پروف گلاس کا استعمال کریں اور 700 میٹر کے دائرے میں موجود ہر شخص کو میٹل ڈیٹیکٹر سے چیک کیا جائے۔</p>
<p>یاد رہے کہ قتل میں ملوث گرفتار ملزم ٹائلر رابنسن کو جمعرات کی رات تقریباً 33 گھنٹے کی تحقیقات کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30482205</guid>
      <pubDate>Sun, 14 Sep 2025 12:10:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/09/14114707b46de90.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/09/14114707b46de90.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
