<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 11 Apr 2026 10:20:44 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 11 Apr 2026 10:20:44 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا نے ایران کی فوجی فنڈنگ کو نشانہ بنانے کے لیے نئی پابندیاں عائد کردیں</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30482645/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکا نے ایران کی فوجی فنڈنگ کو نشانہ بنانے کے لیے نئی پابندیاں عائد کردی ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق پابندیاں ہانگ کانگ اور یو اے ای کی شخصیات اور اداروں پر لگائی گئیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/business/finance/us-sanctions-target-financing-irans-military-treasury-says-2025-09-16/"&gt;برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق&lt;/a&gt; امریکی محکمہ خزانہ نے ایران سے متعلق نئی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے ایسے افراد اور اداروں کو نشانہ بنایا ہے جن پر تہران کی فوجی سرگرمیوں کے لیے مالی معاونت فراہم کرنے کا الزام ہے۔ ان میں ہانگ کانگ اور متحدہ عرب امارات میں موجود بعض ادارے بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق پابندیوں کی زد میں آنے والے افراد اور کمپنیوں نے فنڈز کی منتقلی میں کردار ادا کیا، جس میں ایرانی تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقوم بھی شامل ہیں۔ یہ رقوم ایران کی فوجی فورس، اسلامی انقلابی گارڈ کور، قدس فورس اور وزارتِ دفاع و مسلح افواج لاجسٹکس کے استعمال میں لائی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;center&gt;&lt;p&gt;&lt;a href="https://whatsapp.com/channel/0029Va8czsoLNSZzP877bA0I"&gt;
&lt;img src="https://i.aaj.tv/large/2025/09/041745569b68024.webp" alt="AAJ News Whatsapp" width="728" height="90"&gt;
&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&lt;/center&gt;
&lt;p&gt;امریکی بیان میں مزید کہا گیا کہ ایران کے ’’شیڈو بینکنگ‘‘ نیٹ ورکس غیر قانونی مالی سہولت کاروں کے ذریعے چلائے جا رہے ہیں جو بین الاقوامی مالیاتی نظام کا غلط استعمال کرتے ہیں۔ یہ نیٹ ورکس بیرونِ ملک فرنٹ کمپنیوں اور کرپٹو کرنسی کے ذریعے منی لانڈرنگ کرکے عالمی پابندیوں سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی قوانین کے تحت، پابندیوں کا نشانہ بننے والے افراد یا اداروں کے ساتھ کسی بھی قسم کی کاروباری لین دین امریکی شہریوں اور کمپنیوں کے لیے ممنوع ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکا نے ایران کی فوجی فنڈنگ کو نشانہ بنانے کے لیے نئی پابندیاں عائد کردی ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق پابندیاں ہانگ کانگ اور یو اے ای کی شخصیات اور اداروں پر لگائی گئیں۔</strong></p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/business/finance/us-sanctions-target-financing-irans-military-treasury-says-2025-09-16/">برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق</a> امریکی محکمہ خزانہ نے ایران سے متعلق نئی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے ایسے افراد اور اداروں کو نشانہ بنایا ہے جن پر تہران کی فوجی سرگرمیوں کے لیے مالی معاونت فراہم کرنے کا الزام ہے۔ ان میں ہانگ کانگ اور متحدہ عرب امارات میں موجود بعض ادارے بھی شامل ہیں۔</p>
<p>امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق پابندیوں کی زد میں آنے والے افراد اور کمپنیوں نے فنڈز کی منتقلی میں کردار ادا کیا، جس میں ایرانی تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقوم بھی شامل ہیں۔ یہ رقوم ایران کی فوجی فورس، اسلامی انقلابی گارڈ کور، قدس فورس اور وزارتِ دفاع و مسلح افواج لاجسٹکس کے استعمال میں لائی گئیں۔</p>
<center><p><a href="https://whatsapp.com/channel/0029Va8czsoLNSZzP877bA0I">
<img src="https://i.aaj.tv/large/2025/09/041745569b68024.webp" alt="AAJ News Whatsapp" width="728" height="90">
</a></p></center>
<p>امریکی بیان میں مزید کہا گیا کہ ایران کے ’’شیڈو بینکنگ‘‘ نیٹ ورکس غیر قانونی مالی سہولت کاروں کے ذریعے چلائے جا رہے ہیں جو بین الاقوامی مالیاتی نظام کا غلط استعمال کرتے ہیں۔ یہ نیٹ ورکس بیرونِ ملک فرنٹ کمپنیوں اور کرپٹو کرنسی کے ذریعے منی لانڈرنگ کرکے عالمی پابندیوں سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔</p>
<p>امریکی قوانین کے تحت، پابندیوں کا نشانہ بننے والے افراد یا اداروں کے ساتھ کسی بھی قسم کی کاروباری لین دین امریکی شہریوں اور کمپنیوں کے لیے ممنوع ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30482645</guid>
      <pubDate>Wed, 17 Sep 2025 08:59:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/09/17085546673553a.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/09/17085546673553a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
