<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 20 May 2026 09:50:58 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 20 May 2026 09:50:58 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مودی کیلئے نئی مشکل: ٹرمپ نے بھارت کو ایرانی بندرگاہ پر دی گئی چھوٹ واپس لے لی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30482932/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ  نے بھارت ایک اور جھٹکا دے دیا، ایران کی چاہ بہار بندرگاہ پر کام کرنے پر عائد پابندیوں سے دیا گیا استثنیٰ ختم کر دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://https://economictimes.indiatimes.com/news/economy/foreign-trade/us-revokes-sanctions-exemption-on-irans-chabahar-port-what-it-means-for-indias-strategic-gateway/articleshow/123979793.cms?from=mdr"&gt;بھارتی میڈیا کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ ایران پر مزید دباؤ ڈالنے&lt;/a&gt; کے لیے یہ فیصلہ کیا گیا ہے اور اب 29 ستمبر 2025 سے یہ چھوٹ مؤثر نہیں رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس فیصلے کے بعد بھارتی آپریٹرز کو چابہار بندرگاہ پر سرمایہ کاری اور آپریشنز کے سلسلے میں امریکی پابندیوں اور سخت سزاؤں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کی بندرگاہ چابہار، جسے خطے میں تجارتی روابط اور جغرافیائی حکمتِ عملی کے اعتبار سے کلیدی حیثیت حاصل ہے، ایک بار پھر غیر یقینی صورتِ حال سے دوچار ہو گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت نے 2016 میں ایران کے ساتھ معاہدہ کر کے چابہار بندرگاہ کی ترقی میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری شروع کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;center&gt;&lt;p&gt;&lt;a href="https://whatsapp.com/channel/0029Va8czsoLNSZzP877bA0I"&gt;
&lt;img src="https://i.aaj.tv/large/2025/09/041745569b68024.webp" alt="AAJ News Whatsapp" width="728" height="90"&gt;
&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&lt;/center&gt;
&lt;p&gt;چابہار بندرگاہ بھارت کے لیے افغانستان اور وسط ایشیا تک تجارتی رسائی کا اہم دروازہ سمجھی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت طویل عرصے سے اسے پاکستان کے زمینی راستوں کا متبادل بنانے کی کوشش کرتا آیا ہے، لیکن امریکی فیصلے کے بعد نئی دہلی کی اس حکمتِ عملی کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی میڈیا نے اس پیش رفت کو نہ صرف “تجارتی منصوبوں کے لیے خطرے کی گھنٹی” قرار دیا ہے بلکہ خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس کے نتیجے میں بھارتی کمپنیوں کی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ  نے بھارت ایک اور جھٹکا دے دیا، ایران کی چاہ بہار بندرگاہ پر کام کرنے پر عائد پابندیوں سے دیا گیا استثنیٰ ختم کر دیا ہے۔</strong></p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://https://economictimes.indiatimes.com/news/economy/foreign-trade/us-revokes-sanctions-exemption-on-irans-chabahar-port-what-it-means-for-indias-strategic-gateway/articleshow/123979793.cms?from=mdr">بھارتی میڈیا کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ ایران پر مزید دباؤ ڈالنے</a> کے لیے یہ فیصلہ کیا گیا ہے اور اب 29 ستمبر 2025 سے یہ چھوٹ مؤثر نہیں رہے گی۔</p>
<p>اس فیصلے کے بعد بھارتی آپریٹرز کو چابہار بندرگاہ پر سرمایہ کاری اور آپریشنز کے سلسلے میں امریکی پابندیوں اور سخت سزاؤں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔</p>
<p>ایران کی بندرگاہ چابہار، جسے خطے میں تجارتی روابط اور جغرافیائی حکمتِ عملی کے اعتبار سے کلیدی حیثیت حاصل ہے، ایک بار پھر غیر یقینی صورتِ حال سے دوچار ہو گئی۔</p>
<p>بھارت نے 2016 میں ایران کے ساتھ معاہدہ کر کے چابہار بندرگاہ کی ترقی میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری شروع کی تھی۔</p>
<center><p><a href="https://whatsapp.com/channel/0029Va8czsoLNSZzP877bA0I">
<img src="https://i.aaj.tv/large/2025/09/041745569b68024.webp" alt="AAJ News Whatsapp" width="728" height="90">
</a></p></center>
<p>چابہار بندرگاہ بھارت کے لیے افغانستان اور وسط ایشیا تک تجارتی رسائی کا اہم دروازہ سمجھی جاتی ہے۔</p>
<p>بھارت طویل عرصے سے اسے پاکستان کے زمینی راستوں کا متبادل بنانے کی کوشش کرتا آیا ہے، لیکن امریکی فیصلے کے بعد نئی دہلی کی اس حکمتِ عملی کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے۔</p>
<p>بھارتی میڈیا نے اس پیش رفت کو نہ صرف “تجارتی منصوبوں کے لیے خطرے کی گھنٹی” قرار دیا ہے بلکہ خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس کے نتیجے میں بھارتی کمپنیوں کی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30482932</guid>
      <pubDate>Thu, 18 Sep 2025 23:24:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/09/182318106337f1e.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/09/182318106337f1e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
