<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 14:02:52 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 14:02:52 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سعودی عرب سے دفاعی معاہدے کے بعد حوثیوں کی پاکستان کو دھمکی، بھارتی پروپیگنڈا بے نقاب</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30483155/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان 16 ستمبر 2025 کو ریاض میں طے پانے والے ”اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے“ کے بعد بھارتی سوشل میڈیا صارفین ایک حوثی اہلکار کی پرانی ویڈیو کلپ کو بنیاد بنا کر پاکستان کے خلاف جھوٹی مہم چلانے کی کوشش کر رہے ہیں، جس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ایک حوثی عہدیدار نے پاکستان کو مبینہ طور پر سعودی عرب کے لیے یمن کی سرحد پر فوجی بھیجنے پر دھمکی دی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم فیکٹ چیکٹ کی ویب سائٹ &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://iverifypakistan.com/viral-video-does-not-show-houthi-official-threatening-pakistan-after-mutual-defence-deal-with-saudi-arabia/"&gt;آئی ویری فائی پاکستان&lt;/a&gt; نے یہ بھارتی دعویٰ غلط اور گمراہ کن قرار دیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ ویڈیو کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعے کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر متعدد بھارتی صارفین نے ایک ویڈیو کلپ شیئر کیا، جس میں ایک شخص کو حوثی عہدیدار ظاہر کیا گیا، اور دعویٰ کیا گیا کہ وہ پاکستان کو دھمکی دے رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;center&gt;&lt;p&gt;&lt;a href="https://whatsapp.com/channel/0029Va8czsoLNSZzP877bA0I"&gt;
&lt;img src="https://i.aaj.tv/large/2025/09/041745569b68024.webp" alt="AAJ News Whatsapp" width="728" height="90"&gt;
&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&lt;/center&gt;
&lt;p&gt;بھارتی سوشل میڈیا صارفین نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ویڈیو پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان 16 ستمبر کو ریاض میں طے پانے والے اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے کے بعد سامنے آئی ہے، جس میں پاکستان نے اس معاہدے کے تحت 25 ہزار فوجی یمن کی سرحد پر تعینات کیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک بھارتی پروپیگنڈہ اکاؤنٹ نے 19 ستمبر وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی تصویر کے ساتھ ایک حوثی اہلکار کی ویڈیو شیئر کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/RealBababanaras/status/1968941935793459293"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پوسٹ کے کیپشن میں لکھا گیا تھا کہ پاکستان نے نئے دفاعی معاہدے کے تحت سعودیہ۔یمن سرحد پر اپنے 25 ہزار فوجی تعینات کر دیے، جس کے جواب میں حوثی جنگجوؤں نے سنگین دھمکی دی ہے کہ وہ سعودیہ۔یمن سرحد کو پاکستانی فوجیوں کے لیے قبرستان بنا دیں گے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پوسٹ نہ صرف وائرل ہوئی بلکہ 3 لاکھ 59 ہزار سے زائد بار دیکھی گئی اور متعدد بھارتی اکاؤنٹس نے اسے ری شئیر بھی کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم مذکورہ ویڈیو میں کوئی سب ٹائٹل یا ترجمہ شامل نہیں تھا اور نہ ہی اس میں بولنے والے شخص کی شناخت ظاہر کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویڈیو کو اے آئی ٹولز کے ذریعے ترجمہ کیا گیا تھا، جس سے معلوم ہوا کہ اس میں بولنے والے نے پاکستان کا ذکر ہی نہیں کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30483139"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویڈیو میں دراصل حوثی ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحییٰ سریع نظر آ رہے ہیں، جو غزہ پر اسرائیلی حملوں کے خلاف بیان دے رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے حقیقی الفظ یہ تھے کہ، ’غزہ ہمارے لیے ایک سرخ لکیر ہے، ہماری مقدسات اور ہمارا اسلام سرخ لکیریں ہیں، اور ہم ان پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ اگر دشمن نے غزہ پر جارحیت جاری رکھی تو ہم ایسے اہداف کو نشانہ بنائیں گے جن کا تصور بھی دشمن نے نہیں کیا ہوگا۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریورس امیج سرچ سے معلوم ہوا کہ یہ ویڈیو لبنانی نیوز چینل المیادین نے 14 مئی 2024 کو &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.youtube.com/watch?v=NtHNNLIp_IY"&gt;یوٹیوب چینل&lt;/a&gt; پر جاری ہوئی تھی۔ اور اسی تاریخ کو ایرانی نیوز آؤٹ لیٹ ”پریس ٹی وی“ نے بھی اسے شائع کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم فیکٹ چیک سے یہ ثابت ہوا ہے کہ وائرل ویڈیو میں نظر آنے والے حوثی اہلکار نے پاکستان کو دھمکی تو دور کی بات بلکہ ذکر تک موجود نہیں تھا، یہ ویڈیو مئی 2024 کی ہے اور اس میں یحییٰ سریع نے پاکستان کے حوالے سے نہیں بلکہ اسرائیل اور غزہ کے تنازع پر گفتگو کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ واقعہ بھارتی سوشل میڈیا حلقوں میں پھیلائے جانے والے جھوٹے بیانیوں اور پاکستان مخالف پروپیگنڈے کی ایک تازہ مثال ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان 16 ستمبر 2025 کو ریاض میں طے پانے والے ”اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے“ کے بعد بھارتی سوشل میڈیا صارفین ایک حوثی اہلکار کی پرانی ویڈیو کلپ کو بنیاد بنا کر پاکستان کے خلاف جھوٹی مہم چلانے کی کوشش کر رہے ہیں، جس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ایک حوثی عہدیدار نے پاکستان کو مبینہ طور پر سعودی عرب کے لیے یمن کی سرحد پر فوجی بھیجنے پر دھمکی دی ہے۔</strong></p>
<p>تاہم فیکٹ چیکٹ کی ویب سائٹ <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://iverifypakistan.com/viral-video-does-not-show-houthi-official-threatening-pakistan-after-mutual-defence-deal-with-saudi-arabia/">آئی ویری فائی پاکستان</a> نے یہ بھارتی دعویٰ غلط اور گمراہ کن قرار دیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ ویڈیو کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔</p>
<p>جمعے کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر متعدد بھارتی صارفین نے ایک ویڈیو کلپ شیئر کیا، جس میں ایک شخص کو حوثی عہدیدار ظاہر کیا گیا، اور دعویٰ کیا گیا کہ وہ پاکستان کو دھمکی دے رہا ہے۔</p>
<center><p><a href="https://whatsapp.com/channel/0029Va8czsoLNSZzP877bA0I">
<img src="https://i.aaj.tv/large/2025/09/041745569b68024.webp" alt="AAJ News Whatsapp" width="728" height="90">
</a></p></center>
<p>بھارتی سوشل میڈیا صارفین نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ویڈیو پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان 16 ستمبر کو ریاض میں طے پانے والے اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے کے بعد سامنے آئی ہے، جس میں پاکستان نے اس معاہدے کے تحت 25 ہزار فوجی یمن کی سرحد پر تعینات کیے ہیں۔</p>
<p>ایک بھارتی پروپیگنڈہ اکاؤنٹ نے 19 ستمبر وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی تصویر کے ساتھ ایک حوثی اہلکار کی ویڈیو شیئر کی۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/RealBababanaras/status/1968941935793459293"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>پوسٹ کے کیپشن میں لکھا گیا تھا کہ پاکستان نے نئے دفاعی معاہدے کے تحت سعودیہ۔یمن سرحد پر اپنے 25 ہزار فوجی تعینات کر دیے، جس کے جواب میں حوثی جنگجوؤں نے سنگین دھمکی دی ہے کہ وہ سعودیہ۔یمن سرحد کو پاکستانی فوجیوں کے لیے قبرستان بنا دیں گے۔‘</p>
<p>یہ پوسٹ نہ صرف وائرل ہوئی بلکہ 3 لاکھ 59 ہزار سے زائد بار دیکھی گئی اور متعدد بھارتی اکاؤنٹس نے اسے ری شئیر بھی کیا۔</p>
<p>تاہم مذکورہ ویڈیو میں کوئی سب ٹائٹل یا ترجمہ شامل نہیں تھا اور نہ ہی اس میں بولنے والے شخص کی شناخت ظاہر کی گئی تھی۔</p>
<p>ویڈیو کو اے آئی ٹولز کے ذریعے ترجمہ کیا گیا تھا، جس سے معلوم ہوا کہ اس میں بولنے والے نے پاکستان کا ذکر ہی نہیں کیا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30483139"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ویڈیو میں دراصل حوثی ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحییٰ سریع نظر آ رہے ہیں، جو غزہ پر اسرائیلی حملوں کے خلاف بیان دے رہے تھے۔</p>
<p>ان کے حقیقی الفظ یہ تھے کہ، ’غزہ ہمارے لیے ایک سرخ لکیر ہے، ہماری مقدسات اور ہمارا اسلام سرخ لکیریں ہیں، اور ہم ان پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ اگر دشمن نے غزہ پر جارحیت جاری رکھی تو ہم ایسے اہداف کو نشانہ بنائیں گے جن کا تصور بھی دشمن نے نہیں کیا ہوگا۔‘</p>
<p>ریورس امیج سرچ سے معلوم ہوا کہ یہ ویڈیو لبنانی نیوز چینل المیادین نے 14 مئی 2024 کو <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.youtube.com/watch?v=NtHNNLIp_IY">یوٹیوب چینل</a> پر جاری ہوئی تھی۔ اور اسی تاریخ کو ایرانی نیوز آؤٹ لیٹ ”پریس ٹی وی“ نے بھی اسے شائع کیا تھا۔</p>
<p>تاہم فیکٹ چیک سے یہ ثابت ہوا ہے کہ وائرل ویڈیو میں نظر آنے والے حوثی اہلکار نے پاکستان کو دھمکی تو دور کی بات بلکہ ذکر تک موجود نہیں تھا، یہ ویڈیو مئی 2024 کی ہے اور اس میں یحییٰ سریع نے پاکستان کے حوالے سے نہیں بلکہ اسرائیل اور غزہ کے تنازع پر گفتگو کی تھی۔</p>
<p>یہ واقعہ بھارتی سوشل میڈیا حلقوں میں پھیلائے جانے والے جھوٹے بیانیوں اور پاکستان مخالف پروپیگنڈے کی ایک تازہ مثال ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30483155</guid>
      <pubDate>Sat, 20 Sep 2025 13:06:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/09/2011482176abf71.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/09/2011482176abf71.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
