<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Life &amp; Style</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 12 May 2026 23:23:05 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 12 May 2026 23:23:05 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کیا جلد اور چہرے پر سفید دھبوں کی وجہ دھوپ ہے؟ماہرین نے حقیقت بتادی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30483666/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ہم نے عموماً چہرے پر جھائیوں اور دھبوں کے بارے میں تو سنا ہے  لیکن کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ دھوپ میں ایک دن گزارنے کے بعد جلد پر سفید دھبے بھی ابھر آتے ہیں؟  یہ دھبے زیادہ تر بازوؤں، ٹانگوں، کمر یا چہرے پر دکھائی دیتے ہیں اور اکثر لوگ انہیں غذائی کمی یا کسی بیماری سے جوڑ لیتے ہیں، حالانکہ حقیقت کچھ اور ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب ہم ساحل سمندر کی خوشگوار سیر سے واپس آتے ہیں تو یادوں کے ساتھ ساتھ دھوپ کی جھلساہٹ اور ٹین بھی ساتھ لے آتے ہیں۔  بعض اوقات طویل دھوپ میں رہنے کے بعد چہرے یا جسم پر ہلکے سفید دھبے بھی نظر آنے لگتے ہیں؟ یہ دراصل ”وائٹ اسپاٹس“ کہلاتے ہیں، جو سورج کی روشنی میں زیادہ وقت گزارنے کے بعد ظاہر ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جلد کے ماہرین کے مطابق طویل دھوپ میں رہنے سے میلنین بنانے والے خلیے میلانوسائٹس اپنی کارکردگی کھو بیٹھتے ہیں جس کے نتیجے میں مخصوص حصوں پر رنگت مدھم ہو جاتی ہے۔ اس وجہ سے جلد پر چھوٹے، ہموار اور سفید دھبے نمودار ہوتے ہیں جنہیں عام زبان میں ”سن اسپاٹس“ کہا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چاہے آپ ساحلِ سمندر کی چھٹیوں پر ہوں یا تیز دھوپ میں زیادہ وقت گزاریں، ٹین ہونے کی وجہ سے یہ سفید دھبے اور نمایاں نظر آنے لگتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.indiatoday.in/lifestyle/beauty/story/why-those-white-spots-on-your-skin-could-actually-be-sun-related-2789498-2025-09-22"&gt;انڈیا ٹوڈے&lt;/a&gt; میں شائع شدہ ایک رپورٹ کے مطابق  ڈرماٹولوجی ماہر ڈاکٹر ردھیما اروڑا کہتی ہیں، ’یہ کسی بیماری کی علامت نہیں بلکہ دھوپ میں زیادہ وقت گزارنے کا ایک قدرتی اثر ہے۔ یہ سطحی نوعیت کے ہوتے ہیں اور ان سے کینسر کا خطرہ  نہیں ہوتا ہے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ دھبے ہر کسی کو نہیں ہوتے، لیکن وہ لوگ جو زیادہ وقت باہر گزارتے ہیں، جیسے کسان، مزدور یا چھٹیوں پر ساحل سمندر کا لطف لینے والے افراد میں یہ زیادہ عام ہیں۔ عمر کے ساتھ بھی اس کا امکان بڑھتا ہے اور عموماً 40 سال کے بعد یہ زیادہ دیکھے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہر امراض جلد ڈاکٹر گلریز طیّب خان کے مطابق ،’اگرچہ دھوپ اس کی سب سے بڑی وجہ ہے، لیکن سفید دھبے الرجی، فنگل انفیکشن، ایٹوپک ڈرماٹائٹس، حتیٰ کہ وائٹیلیگو کی علامت بھی ہو سکتے ہیں۔ غذائی کمی جیسے کیلشیم یا وٹامن B12 کی کمی کم ہی براہ راست سبب بنتی ہے اور وہ بھی دیگر علامات کے ساتھ ظاہر ہوتی ہے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;center&gt;&lt;p&gt;&lt;a href="https://whatsapp.com/channel/0029Va8czsoLNSZzP877bA0I"&gt;
&lt;img src="https://i.aaj.tv/large/2025/09/041745569b68024.webp" alt="AAJ News Whatsapp" width="728" height="90"&gt;
&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&lt;/center&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="علاج-اور-احتیاط" href="#علاج-اور-احتیاط" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;علاج اور احتیاط&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;چونکہ یہ دھبے زیادہ تر بے ضرر ہوتے ہیں، اس لیے گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ تاہم جلد کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے چند احتیاطی تدابیر ضروری ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="سن-اسکرین-کا-استعمال" href="#سن-اسکرین-کا-استعمال" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;سن اسکرین کا استعمال&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;کم از کم ایس پی ایف 30 یا اس سے زیادہ والے برانڈ کا استعمال کریں اور اسے کھلے حصوں پر بار بار لگائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="ڈھیلے-ڈھالے-کپڑے-پہنیں" href="#ڈھیلے-ڈھالے-کپڑے-پہنیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;ڈھیلے ڈھالے کپڑے پہنیں&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;گرمی میں ایسا کرنا مشکل ضرور ہے لیکن ڈھیلے اور پوری آستین کے  کپڑوں سے دھوپ سے بچاؤ کیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="تیز-دھوپ-سے-بچیں" href="#تیز-دھوپ-سے-بچیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;تیز دھوپ سے بچیں&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;صبح 10 بجے سے شام 4 بجے تک دھوپ کی شدت سب سے زیادہ ہوتی ہے، اس وقت سایہ یا چھتری کا سہارا لیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="اینٹی-آکسیڈنٹ-غذا-اور-اسکِن-کیئر" href="#اینٹی-آکسیڈنٹ-غذا-اور-اسکِن-کیئر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;اینٹی آکسیڈنٹ غذا اور اسکِن کیئر&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;وٹامن C، E یا نیا سینامائڈ والے پروڈکٹس جلد کو مضبوط بناتے ہیں، جبکہ بیر، ہری سبزیاں اور میوے جیسے غذائی اجزاء اندر سے جلد کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="گھریلو-ٹوٹکوں-سے-گریز" href="#گھریلو-ٹوٹکوں-سے-گریز" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;گھریلو ٹوٹکوں سے گریز&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;ماہرین نے واضح کیا ہے کہ لیموں، ہلدی یا تیل رگڑنے جیسے گھریلو ٹوٹکے ان دھبوں کو ختم نہیں کرتے بلکہ بعض اوقات جلن اور نقصان کا باعث بھی بن سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دھوپ کے بعد ظاہر ہونے والے سفید دھبے عام طور پر نقصان دہ نہیں ہوتے، لیکن یہ جلد پر پڑنے والے دباؤ اورسورج کی مضر رساں شعاعوں سے ہونے والے نقصان کا اشارہ ضرور ہیں۔ اس لیے جلد کا خیال رکھنا اور احتیاطی تدابیر اپنانا نہایت ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات ذہن نشین رکھنا ضروری ہے کہ ہر سفید دھبہ ایک جیسا نہیں ہوتا۔ ان کے پیچھے مختلف وجوہات کارفرما ہو سکتی ہیں اور اصل وجہ صرف ماہرِ امراضِ جلد ہی بتا سکتا ہے۔ درست تشخیص اور بروقت علاج سے ان میں سے بیشتر دھبے غائب ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ہم نے عموماً چہرے پر جھائیوں اور دھبوں کے بارے میں تو سنا ہے  لیکن کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ دھوپ میں ایک دن گزارنے کے بعد جلد پر سفید دھبے بھی ابھر آتے ہیں؟  یہ دھبے زیادہ تر بازوؤں، ٹانگوں، کمر یا چہرے پر دکھائی دیتے ہیں اور اکثر لوگ انہیں غذائی کمی یا کسی بیماری سے جوڑ لیتے ہیں، حالانکہ حقیقت کچھ اور ہے۔</strong></p>
<p>جب ہم ساحل سمندر کی خوشگوار سیر سے واپس آتے ہیں تو یادوں کے ساتھ ساتھ دھوپ کی جھلساہٹ اور ٹین بھی ساتھ لے آتے ہیں۔  بعض اوقات طویل دھوپ میں رہنے کے بعد چہرے یا جسم پر ہلکے سفید دھبے بھی نظر آنے لگتے ہیں؟ یہ دراصل ”وائٹ اسپاٹس“ کہلاتے ہیں، جو سورج کی روشنی میں زیادہ وقت گزارنے کے بعد ظاہر ہو سکتے ہیں۔</p>
<p>جلد کے ماہرین کے مطابق طویل دھوپ میں رہنے سے میلنین بنانے والے خلیے میلانوسائٹس اپنی کارکردگی کھو بیٹھتے ہیں جس کے نتیجے میں مخصوص حصوں پر رنگت مدھم ہو جاتی ہے۔ اس وجہ سے جلد پر چھوٹے، ہموار اور سفید دھبے نمودار ہوتے ہیں جنہیں عام زبان میں ”سن اسپاٹس“ کہا جاتا ہے۔</p>
<p>چاہے آپ ساحلِ سمندر کی چھٹیوں پر ہوں یا تیز دھوپ میں زیادہ وقت گزاریں، ٹین ہونے کی وجہ سے یہ سفید دھبے اور نمایاں نظر آنے لگتے ہیں۔</p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.indiatoday.in/lifestyle/beauty/story/why-those-white-spots-on-your-skin-could-actually-be-sun-related-2789498-2025-09-22">انڈیا ٹوڈے</a> میں شائع شدہ ایک رپورٹ کے مطابق  ڈرماٹولوجی ماہر ڈاکٹر ردھیما اروڑا کہتی ہیں، ’یہ کسی بیماری کی علامت نہیں بلکہ دھوپ میں زیادہ وقت گزارنے کا ایک قدرتی اثر ہے۔ یہ سطحی نوعیت کے ہوتے ہیں اور ان سے کینسر کا خطرہ  نہیں ہوتا ہے۔‘</p>
<p>یہ دھبے ہر کسی کو نہیں ہوتے، لیکن وہ لوگ جو زیادہ وقت باہر گزارتے ہیں، جیسے کسان، مزدور یا چھٹیوں پر ساحل سمندر کا لطف لینے والے افراد میں یہ زیادہ عام ہیں۔ عمر کے ساتھ بھی اس کا امکان بڑھتا ہے اور عموماً 40 سال کے بعد یہ زیادہ دیکھے جاتے ہیں۔</p>
<p>ماہر امراض جلد ڈاکٹر گلریز طیّب خان کے مطابق ،’اگرچہ دھوپ اس کی سب سے بڑی وجہ ہے، لیکن سفید دھبے الرجی، فنگل انفیکشن، ایٹوپک ڈرماٹائٹس، حتیٰ کہ وائٹیلیگو کی علامت بھی ہو سکتے ہیں۔ غذائی کمی جیسے کیلشیم یا وٹامن B12 کی کمی کم ہی براہ راست سبب بنتی ہے اور وہ بھی دیگر علامات کے ساتھ ظاہر ہوتی ہے۔‘</p>
<center><p><a href="https://whatsapp.com/channel/0029Va8czsoLNSZzP877bA0I">
<img src="https://i.aaj.tv/large/2025/09/041745569b68024.webp" alt="AAJ News Whatsapp" width="728" height="90">
</a></p></center>
<h1><a id="علاج-اور-احتیاط" href="#علاج-اور-احتیاط" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>علاج اور احتیاط</strong></h1>
<p>چونکہ یہ دھبے زیادہ تر بے ضرر ہوتے ہیں، اس لیے گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ تاہم جلد کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے چند احتیاطی تدابیر ضروری ہیں۔</p>
<h1><a id="سن-اسکرین-کا-استعمال" href="#سن-اسکرین-کا-استعمال" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>سن اسکرین کا استعمال</strong></h1>
<p>کم از کم ایس پی ایف 30 یا اس سے زیادہ والے برانڈ کا استعمال کریں اور اسے کھلے حصوں پر بار بار لگائیں۔</p>
<h1><a id="ڈھیلے-ڈھالے-کپڑے-پہنیں" href="#ڈھیلے-ڈھالے-کپڑے-پہنیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>ڈھیلے ڈھالے کپڑے پہنیں</strong></h1>
<p>گرمی میں ایسا کرنا مشکل ضرور ہے لیکن ڈھیلے اور پوری آستین کے  کپڑوں سے دھوپ سے بچاؤ کیا جا سکتا ہے۔</p>
<h1><a id="تیز-دھوپ-سے-بچیں" href="#تیز-دھوپ-سے-بچیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>تیز دھوپ سے بچیں</strong></h1>
<p>صبح 10 بجے سے شام 4 بجے تک دھوپ کی شدت سب سے زیادہ ہوتی ہے، اس وقت سایہ یا چھتری کا سہارا لیں۔</p>
<h1><a id="اینٹی-آکسیڈنٹ-غذا-اور-اسکِن-کیئر" href="#اینٹی-آکسیڈنٹ-غذا-اور-اسکِن-کیئر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>اینٹی آکسیڈنٹ غذا اور اسکِن کیئر</strong></h1>
<p>وٹامن C، E یا نیا سینامائڈ والے پروڈکٹس جلد کو مضبوط بناتے ہیں، جبکہ بیر، ہری سبزیاں اور میوے جیسے غذائی اجزاء اندر سے جلد کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔</p>
<h1><a id="گھریلو-ٹوٹکوں-سے-گریز" href="#گھریلو-ٹوٹکوں-سے-گریز" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>گھریلو ٹوٹکوں سے گریز</strong></h1>
<p>ماہرین نے واضح کیا ہے کہ لیموں، ہلدی یا تیل رگڑنے جیسے گھریلو ٹوٹکے ان دھبوں کو ختم نہیں کرتے بلکہ بعض اوقات جلن اور نقصان کا باعث بھی بن سکتے ہیں۔</p>
<p>دھوپ کے بعد ظاہر ہونے والے سفید دھبے عام طور پر نقصان دہ نہیں ہوتے، لیکن یہ جلد پر پڑنے والے دباؤ اورسورج کی مضر رساں شعاعوں سے ہونے والے نقصان کا اشارہ ضرور ہیں۔ اس لیے جلد کا خیال رکھنا اور احتیاطی تدابیر اپنانا نہایت ضروری ہے۔</p>
<p>یہ بات ذہن نشین رکھنا ضروری ہے کہ ہر سفید دھبہ ایک جیسا نہیں ہوتا۔ ان کے پیچھے مختلف وجوہات کارفرما ہو سکتی ہیں اور اصل وجہ صرف ماہرِ امراضِ جلد ہی بتا سکتا ہے۔ درست تشخیص اور بروقت علاج سے ان میں سے بیشتر دھبے غائب ہو سکتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30483666</guid>
      <pubDate>Tue, 23 Sep 2025 10:55:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/09/23104507a27aaf4.webp" type="image/webp" medium="image" height="1200" width="2000">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/09/23104507a27aaf4.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
