<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 01 May 2026 11:18:41 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 01 May 2026 11:18:41 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاک فضائیہ کے سامنے ہزیمت اٹھانے والے ’اُڑتے تابوت‘ مگ-21 طیاروں کو بھارت نے گراؤنڈ کردیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30484290/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاک فضائیہ کے سامنے ہزیمت اٹھانے والے ’اُڑتے تابوت‘ کے لقب سے بدنام بھارتی مگ-21 طیاروں کو فضائی سروس سے سبکدوش کردیا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چندی گڑھ ایئر بیس پر الوداعی تقریب کا انعقاد کیا گیا جہاں بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ سمیت فضائیہ کے اعلیٰ افسران اور سابق پائلٹس بھی شریک ہوئے۔ اس موقع پر دو مگ-21 طیاروں نے آخری بار پرواز کی، جس کے بعد ان کا فضائی سفر ہمیشہ کے لیے تمام ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی میڈیا مگ-21 کی خدمات کو ”قابلِ فخر تاریخ“ کے طور پر پیش کرتا رہا ہے، تاہم حقیقت اس کے برعکس ہے۔ روسی ساختہ یہ طیارے بھارت نے 1960 کی دہائی میں فضائیہ میں شامل کیے تھے، جن کی تعداد وقت کے ساتھ بڑھ کر 874 ہو گئی، مگر ان میں سے 482 طیارے مختلف حادثات میں تباہ ہوئے اور 171 پائلٹس جان سے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کے ہاتھوں مگ-21 کی پے در پے شکستیں&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مگ-21 کی کارکردگی کا سب سے واضح امتحان پاکستان کے ساتھ ہونے والی جھڑپوں اور جنگوں میں ہوا، جہاں اسے متعدد بار بدترین ہزیمت اٹھانا پڑی۔&lt;/p&gt;
&lt;center&gt;&lt;p&gt;&lt;a href="https://whatsapp.com/channel/0029Va8czsoLNSZzP877bA0I"&gt;
&lt;img src="https://i.aaj.tv/large/2025/09/041745569b68024.webp" alt="AAJ News Whatsapp" width="728" height="90"&gt;
&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&lt;/center&gt;
&lt;p&gt;1965 کی جنگ میں پاک فضائیہ کے اسکواڈرن لیڈر سجاد حیدر کی قیادت میں پٹھان کوٹ ایئر بیس پر حملے کے دوران کئی مگ-21 طیارے زمین پر ہی تباہ کر دیے گئے۔ اس کے بعد یہ طیارے پورے جنگِ ستمبر میں تقریباً غائب رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1971ء کی جنگ میں بھارت کو سوویت یونین سے بڑی تعداد میں مگ-21 طیارے اور دیگر اسلحہ ملا، جس نے کچھ برتری ضرور دی، لیکن تب بھی بھارتی فضائیہ نے مجموعی طور پر 75 طیاروں کے نقصان کا اعتراف کیا، جن میں 8 مگ-21 بھی شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1999 کی کارگل جھڑپوں میں ایک بھارتی مگ-21 پاک فوج نے مار گرایا، جب کہ 2019 میں پاک فضائیہ نے ایک اور مگ-21 طیارہ مار گرایا جو ونگ کمانڈر ابھی نندن اڑا رہے تھے۔ طیارے کی تباہی کے ساتھ پائلٹ بھی گرفتار کر لیا گیا، جس واقعے نے دنیا بھر میں بھارتی فضائی صلاحیت پر سوالات اٹھا دیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  '&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/t1fqMxX0Tog?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مگ-21 کی ریٹائرمنٹ کے ایک روز قبل ہی بھارت نے مقامی سطح پر تیار کردہ 97 ”تیجس“ لڑاکا طیاروں کی خریداری کے لیے سات ارب ڈالر کا معاہدہ کیا ہے، جس کا مقصد فضائی بیڑے کو جدید بنانا ہے۔ تاہم، مگ-21 کے تلخ تجربات نے بھارتی فضائیہ کی ساکھ پر گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جہاں حکومتی نمائندے مگ-21 کو ”ہر موسم کے پرندے“ کے طور پر یاد کر رہے ہیں، وہیں ماہرین اسے ”حادثات کا استعارہ“ قرار دیتے ہیں۔ ماضی کی کوتاہیوں اور تاخیری فیصلوں نے نہ صرف مالی نقصان پہنچایا بلکہ قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع بھی کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریٹائر ہونے والے مگ-21 طیارے ممکنہ طور پر عوامی نمائش کے لیے رکھے جائیں گے، لیکن سرکاری سطح پر اس بارے میں کوئی حتمی اعلان نہیں کیا گیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاک فضائیہ کے سامنے ہزیمت اٹھانے والے ’اُڑتے تابوت‘ کے لقب سے بدنام بھارتی مگ-21 طیاروں کو فضائی سروس سے سبکدوش کردیا گیا۔</strong></p>
<p>چندی گڑھ ایئر بیس پر الوداعی تقریب کا انعقاد کیا گیا جہاں بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ سمیت فضائیہ کے اعلیٰ افسران اور سابق پائلٹس بھی شریک ہوئے۔ اس موقع پر دو مگ-21 طیاروں نے آخری بار پرواز کی، جس کے بعد ان کا فضائی سفر ہمیشہ کے لیے تمام ہوا۔</p>
<p>بھارتی میڈیا مگ-21 کی خدمات کو ”قابلِ فخر تاریخ“ کے طور پر پیش کرتا رہا ہے، تاہم حقیقت اس کے برعکس ہے۔ روسی ساختہ یہ طیارے بھارت نے 1960 کی دہائی میں فضائیہ میں شامل کیے تھے، جن کی تعداد وقت کے ساتھ بڑھ کر 874 ہو گئی، مگر ان میں سے 482 طیارے مختلف حادثات میں تباہ ہوئے اور 171 پائلٹس جان سے گئے۔</p>
<p><strong>پاکستان کے ہاتھوں مگ-21 کی پے در پے شکستیں</strong></p>
<p>مگ-21 کی کارکردگی کا سب سے واضح امتحان پاکستان کے ساتھ ہونے والی جھڑپوں اور جنگوں میں ہوا، جہاں اسے متعدد بار بدترین ہزیمت اٹھانا پڑی۔</p>
<center><p><a href="https://whatsapp.com/channel/0029Va8czsoLNSZzP877bA0I">
<img src="https://i.aaj.tv/large/2025/09/041745569b68024.webp" alt="AAJ News Whatsapp" width="728" height="90">
</a></p></center>
<p>1965 کی جنگ میں پاک فضائیہ کے اسکواڈرن لیڈر سجاد حیدر کی قیادت میں پٹھان کوٹ ایئر بیس پر حملے کے دوران کئی مگ-21 طیارے زمین پر ہی تباہ کر دیے گئے۔ اس کے بعد یہ طیارے پورے جنگِ ستمبر میں تقریباً غائب رہے۔</p>
<p>1971ء کی جنگ میں بھارت کو سوویت یونین سے بڑی تعداد میں مگ-21 طیارے اور دیگر اسلحہ ملا، جس نے کچھ برتری ضرور دی، لیکن تب بھی بھارتی فضائیہ نے مجموعی طور پر 75 طیاروں کے نقصان کا اعتراف کیا، جن میں 8 مگ-21 بھی شامل تھے۔</p>
<p>1999 کی کارگل جھڑپوں میں ایک بھارتی مگ-21 پاک فوج نے مار گرایا، جب کہ 2019 میں پاک فضائیہ نے ایک اور مگ-21 طیارہ مار گرایا جو ونگ کمانڈر ابھی نندن اڑا رہے تھے۔ طیارے کی تباہی کے ساتھ پائلٹ بھی گرفتار کر لیا گیا، جس واقعے نے دنیا بھر میں بھارتی فضائی صلاحیت پر سوالات اٹھا دیے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  '>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/t1fqMxX0Tog?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>مگ-21 کی ریٹائرمنٹ کے ایک روز قبل ہی بھارت نے مقامی سطح پر تیار کردہ 97 ”تیجس“ لڑاکا طیاروں کی خریداری کے لیے سات ارب ڈالر کا معاہدہ کیا ہے، جس کا مقصد فضائی بیڑے کو جدید بنانا ہے۔ تاہم، مگ-21 کے تلخ تجربات نے بھارتی فضائیہ کی ساکھ پر گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔</p>
<p>جہاں حکومتی نمائندے مگ-21 کو ”ہر موسم کے پرندے“ کے طور پر یاد کر رہے ہیں، وہیں ماہرین اسے ”حادثات کا استعارہ“ قرار دیتے ہیں۔ ماضی کی کوتاہیوں اور تاخیری فیصلوں نے نہ صرف مالی نقصان پہنچایا بلکہ قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع بھی کیا۔</p>
<p>ریٹائر ہونے والے مگ-21 طیارے ممکنہ طور پر عوامی نمائش کے لیے رکھے جائیں گے، لیکن سرکاری سطح پر اس بارے میں کوئی حتمی اعلان نہیں کیا گیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30484290</guid>
      <pubDate>Fri, 26 Sep 2025 23:30:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/09/262242168d756ad.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/09/262242168d756ad.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
