<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 12:51:57 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 12:51:57 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>افغانستان کی طالبان حکومت نے ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس بند کردی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30484730/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;افغانستان میں طالبان حکومت نے ملک بھر میں فائبر آپٹک انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی ہیں، جس سے نہ صرف دارالحکومت کابل بلکہ متعدد صوبے بھی شدید متاثر ہوئے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افغانستان کی خبر رساں ویب سائیٹ &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://kabulnow.com/2025/09/taliban-tighten-control-with-internet-blackout-reaching-the-capital/"&gt;کابل ناؤ&lt;/a&gt; کے مطابق انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کی اس تازہ لہر نے شہریوں، کاروباری طبقے، طلبہ اور میڈیا اداروں کو مشکلات میں ڈال دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فائبر آپٹک نیٹ ورک کی بندش کا آغاز 29 ستمبر پیر کی شام ہوا، جو اب پورے ملک میں پھیل چکی ہے۔ کابل سمیت کئی علاقوں میں ہائی اسپیڈ انٹرنیٹ مکمل طور پر بند ہے، جب کہ موبائل ڈیٹا بھی صرف 2G رفتار پر کام کر رہا ہے، جو بمشکل بنیادی رابطے قائم رکھنے کے قابل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;center&gt;&lt;p&gt;&lt;a href="https://whatsapp.com/channel/0029Va8czsoLNSZzP877bA0I"&gt;
&lt;img src="https://i.aaj.tv/large/2025/09/041745569b68024.webp" alt="AAJ News Whatsapp" width="728" height="90"&gt;
&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&lt;/center&gt;
&lt;p&gt;متعدد انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں نے تصدیق کی ہے کہ انٹرنیٹ کی بندش طالبان حکومت کے حکم پر کی گئی ہے۔ ایک افغان میڈیا ادارے نے بھی خبردار کیا ہے کہ اس اقدام سے ان کی نشریاتی سرگرمیاں شدید متاثر ہوں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طالبان حکام کا مؤقف ہے کہ انٹرنیٹ سروسز کی معطلی کا مقصد ”غیراخلاقی اور نقصان دہ مواد“ تک عوامی رسائی کو روکنا ہے۔ تاہم، شہری اور کاروباری حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام دراصل اظہارِ رائے کی آزادی کو دبانے اور آزاد میڈیا کو خاموش کرنے کی کوشش ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افغانی خبر رساں ادارے کے مطابق طلبہ نے بھی آن لائن کلاسز اور اسکالرشپ پروگرامز تک رسائی ختم ہونے کی شکایت کی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور میڈیا واچ ڈاگز نے انٹرنیٹ بندش کو بنیادی شہری آزادیوں کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سائبر سیکیورٹی اور انٹرنیٹ گورننس پر نظر رکھنے والی ادارے نیٹ بلاکس نے ’ایکس‘ اپنی ٹوئیٹ میں بتایا کہ  پورے ملک میں ٹیلی کمیونی کیشن کا بلیک آؤٹ نافذ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/netblocks/status/1972679896729014371"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادارے کے مطابق قومی سطح پر انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی عام حالات کے مقابلے میں صرف 14 فیصد رہ گئی ہے اور یہ صورتحال جان بوجھ کر انٹرنیٹ سروسز کو منقطع کرنے کے مترادف لگتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مبصرین کا کہنا ہے کہ طالبان کا یہ اقدام ڈیجیٹل کنٹرول کو سخت کرنے اور افغانستان کو عالمی برادری سے مزید تنہا کرنے کی ایک اور کوشش ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>افغانستان میں طالبان حکومت نے ملک بھر میں فائبر آپٹک انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی ہیں، جس سے نہ صرف دارالحکومت کابل بلکہ متعدد صوبے بھی شدید متاثر ہوئے ہیں۔</strong></p>
<p>افغانستان کی خبر رساں ویب سائیٹ <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://kabulnow.com/2025/09/taliban-tighten-control-with-internet-blackout-reaching-the-capital/">کابل ناؤ</a> کے مطابق انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کی اس تازہ لہر نے شہریوں، کاروباری طبقے، طلبہ اور میڈیا اداروں کو مشکلات میں ڈال دیا ہے۔</p>
<p>فائبر آپٹک نیٹ ورک کی بندش کا آغاز 29 ستمبر پیر کی شام ہوا، جو اب پورے ملک میں پھیل چکی ہے۔ کابل سمیت کئی علاقوں میں ہائی اسپیڈ انٹرنیٹ مکمل طور پر بند ہے، جب کہ موبائل ڈیٹا بھی صرف 2G رفتار پر کام کر رہا ہے، جو بمشکل بنیادی رابطے قائم رکھنے کے قابل ہے۔</p>
<center><p><a href="https://whatsapp.com/channel/0029Va8czsoLNSZzP877bA0I">
<img src="https://i.aaj.tv/large/2025/09/041745569b68024.webp" alt="AAJ News Whatsapp" width="728" height="90">
</a></p></center>
<p>متعدد انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں نے تصدیق کی ہے کہ انٹرنیٹ کی بندش طالبان حکومت کے حکم پر کی گئی ہے۔ ایک افغان میڈیا ادارے نے بھی خبردار کیا ہے کہ اس اقدام سے ان کی نشریاتی سرگرمیاں شدید متاثر ہوں گی۔</p>
<p>طالبان حکام کا مؤقف ہے کہ انٹرنیٹ سروسز کی معطلی کا مقصد ”غیراخلاقی اور نقصان دہ مواد“ تک عوامی رسائی کو روکنا ہے۔ تاہم، شہری اور کاروباری حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام دراصل اظہارِ رائے کی آزادی کو دبانے اور آزاد میڈیا کو خاموش کرنے کی کوشش ہے۔</p>
<p>افغانی خبر رساں ادارے کے مطابق طلبہ نے بھی آن لائن کلاسز اور اسکالرشپ پروگرامز تک رسائی ختم ہونے کی شکایت کی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور میڈیا واچ ڈاگز نے انٹرنیٹ بندش کو بنیادی شہری آزادیوں کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔</p>
<p>سائبر سیکیورٹی اور انٹرنیٹ گورننس پر نظر رکھنے والی ادارے نیٹ بلاکس نے ’ایکس‘ اپنی ٹوئیٹ میں بتایا کہ  پورے ملک میں ٹیلی کمیونی کیشن کا بلیک آؤٹ نافذ ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/netblocks/status/1972679896729014371"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>ادارے کے مطابق قومی سطح پر انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی عام حالات کے مقابلے میں صرف 14 فیصد رہ گئی ہے اور یہ صورتحال جان بوجھ کر انٹرنیٹ سروسز کو منقطع کرنے کے مترادف لگتی ہے۔</p>
<p>مبصرین کا کہنا ہے کہ طالبان کا یہ اقدام ڈیجیٹل کنٹرول کو سخت کرنے اور افغانستان کو عالمی برادری سے مزید تنہا کرنے کی ایک اور کوشش ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30484730</guid>
      <pubDate>Mon, 29 Sep 2025 22:07:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/09/292159094f4d8dc.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/09/292159094f4d8dc.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
