<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 14:46:09 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 14:46:09 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایک آئی فون نے 40 ہزار موبائل فونز اسمگل کرنے والا گینگ پکڑوا دیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30485876/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;برطانیہ کی پولیس نے ایک بڑے جرم کو بے نقاب کرتے ہوئے چالیس ہزار سے زائد چوری شدہ موبائل فونز کو چین اسمگل کرنے والے جرائم پیشہ گروہ کے نیٹ ورک کو گرفتار کرلیا ہے۔ اس گروہ نے گزشتہ ایک سال کے دوران برطانیہ سے چین تک لاکھوں پاؤنڈ مالیت کے اسمارٹ فونز اسمگل کیے ہیں، جن میں زیادہ تر جدید ترین آئی فونز بھی شامل تھے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی پولیس کے مطابق یہ برطانیہ کی تاریخ میں موبائل فون چوری کے خلاف سب سے بڑی کارروائی تھی۔ اس آپریشن میں 18 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، جن سے دو ہزار سے زائد چوری شدہ فونز برآمد کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میٹروپولیٹن پولیس کمانڈر اینڈریو فیدرسٹون کے مطابق، ”یہ برطانیہ میں موبائل فون چوری اور ڈکیتی کے خلاف سب سے بڑا کریک ڈاؤن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم یہاں کسی عام جرم کی بات نہیں کر رہے، بلکہ یہاں ایک منظم بین الاقوامی نیٹ ورک کی بات ہو رہی ہے جو بڑے پیمانے پر کام کر رہا تھا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--facebook  media__item--relative'&gt;&lt;div class="fb-post" data-href="https://www.facebook.com/reel/1331089971926881" data-width="auto"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کا کہنا ہے کہ یہ گروہ چین کو بڑے پیمانے پر فون اسمگل کر رہا تھا، جہاں صرف ایک جدید ترین آئی فون کی قیمت تین ہزار 700 یورو تک ہو سکتی ہے۔ پولیس کا اندازہ ہے کہ یہ گروہ لندن سے چوری ہونے والے کم از کم آدھے موبائل فونز کو اسمگل کرنے کا ذمہ دار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2025/10/07142117bcc4f3f.webp'  alt=' ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہاں قابل غور بات یہ ہے کہ تحقیقات کے نتیجے میں اس جرم میں دو افغان شہریوں کو گزشتہ ماہ گرفتار کیا گیا تھا، جبکہ بعد ازاں ایک 29 سالہ بھارتی شہری کو بھی انہی الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا۔ پولیس کو افغان شہریوں پر شبہ تھا کہ وہ لندن میں چوری ہونے والے کُل آئی فونز کا 40 فیصد اسمگل کرنے والے نیٹ ورک کے مرکزی کردار تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;center&gt;&lt;p&gt;&lt;a href="https://whatsapp.com/channel/0029Va8czsoLNSZzP877bA0I"&gt;
&lt;img src="https://i.aaj.tv/large/2025/09/041745569b68024.webp" alt="AAJ News Whatsapp" width="728" height="90"&gt;
&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&lt;/center&gt;
&lt;p&gt;اس بڑے کیس کی شروعات اس وقت ہوئی جب گزشتہ کرسمس پر ایک شہری نے اپنا چوری شدہ آئی فون الیکٹرانک طریقے سے ٹریک کیا، جو ہیئیتھرو ایئرپورٹ کے قریب ایک گودام میں پایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس افسر مارک گیون کے مطابق، سیکیورٹی عملہ فوری مدد کو تیار تھا اور جب فون کی جانچ کی گئی تو وہ ایک باکس میں 894 دیگر فونز کے ساتھ رکھا ہوا تھا۔ تقریباً تمام فونز چوری شدہ نکلے اور اُس وقت انہیں ہانگ کانگ بھیجا جا رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیقات کے دوران پولیس نے ایک ڈرامائی انداز میں سڑک کے بیچوں بیچ ملزمان کو گرفتار کیا، جس کی فوٹیج کیمرہ پر ریکارڈ کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کارروائی کے دوران کچھ افسران نے ٹیزر گنز بھی نکال لی تھیں۔ مشتبہ گاڑی سے درجنوں فونز برآمد ہوئے تھے، جنہیں ایلومینیم فوائل میں لپیٹا گیا تھا تاکہ ان کا سراغ نہ لگایا جا سکے۔ مزید تلاشی کے دوران تقریباً دو ہزار فونز مختلف مقامات سے برآمد کیے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق لندن میں موبائل فون چوری کے واقعات میں گزشتہ چار سال کے دوران تین گنا اضافہ ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سال 2020 میں موبائل چوری کی تعداد 28 ہزار 609 سے بڑھ کر 2024 میں 80 ہزار 588 تک پہنچ گئی ہے۔ لندن اب پورے برطانیہ میں موبائل فون چوری کے 75 فیصد واقعات کا مرکز بن چکا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>برطانیہ کی پولیس نے ایک بڑے جرم کو بے نقاب کرتے ہوئے چالیس ہزار سے زائد چوری شدہ موبائل فونز کو چین اسمگل کرنے والے جرائم پیشہ گروہ کے نیٹ ورک کو گرفتار کرلیا ہے۔ اس گروہ نے گزشتہ ایک سال کے دوران برطانیہ سے چین تک لاکھوں پاؤنڈ مالیت کے اسمارٹ فونز اسمگل کیے ہیں، جن میں زیادہ تر جدید ترین آئی فونز بھی شامل تھے۔</strong></p>
<p>برطانوی پولیس کے مطابق یہ برطانیہ کی تاریخ میں موبائل فون چوری کے خلاف سب سے بڑی کارروائی تھی۔ اس آپریشن میں 18 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، جن سے دو ہزار سے زائد چوری شدہ فونز برآمد کیے گئے ہیں۔</p>
<p>میٹروپولیٹن پولیس کمانڈر اینڈریو فیدرسٹون کے مطابق، ”یہ برطانیہ میں موبائل فون چوری اور ڈکیتی کے خلاف سب سے بڑا کریک ڈاؤن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم یہاں کسی عام جرم کی بات نہیں کر رہے، بلکہ یہاں ایک منظم بین الاقوامی نیٹ ورک کی بات ہو رہی ہے جو بڑے پیمانے پر کام کر رہا تھا۔“</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--facebook  media__item--relative'><div class="fb-post" data-href="https://www.facebook.com/reel/1331089971926881" data-width="auto"></div></div>
        
    </figure></p>
<p>حکام کا کہنا ہے کہ یہ گروہ چین کو بڑے پیمانے پر فون اسمگل کر رہا تھا، جہاں صرف ایک جدید ترین آئی فون کی قیمت تین ہزار 700 یورو تک ہو سکتی ہے۔ پولیس کا اندازہ ہے کہ یہ گروہ لندن سے چوری ہونے والے کم از کم آدھے موبائل فونز کو اسمگل کرنے کا ذمہ دار ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2025/10/07142117bcc4f3f.webp'  alt=' ' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>یہاں قابل غور بات یہ ہے کہ تحقیقات کے نتیجے میں اس جرم میں دو افغان شہریوں کو گزشتہ ماہ گرفتار کیا گیا تھا، جبکہ بعد ازاں ایک 29 سالہ بھارتی شہری کو بھی انہی الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا۔ پولیس کو افغان شہریوں پر شبہ تھا کہ وہ لندن میں چوری ہونے والے کُل آئی فونز کا 40 فیصد اسمگل کرنے والے نیٹ ورک کے مرکزی کردار تھے۔</p>
<center><p><a href="https://whatsapp.com/channel/0029Va8czsoLNSZzP877bA0I">
<img src="https://i.aaj.tv/large/2025/09/041745569b68024.webp" alt="AAJ News Whatsapp" width="728" height="90">
</a></p></center>
<p>اس بڑے کیس کی شروعات اس وقت ہوئی جب گزشتہ کرسمس پر ایک شہری نے اپنا چوری شدہ آئی فون الیکٹرانک طریقے سے ٹریک کیا، جو ہیئیتھرو ایئرپورٹ کے قریب ایک گودام میں پایا گیا تھا۔</p>
<p>پولیس افسر مارک گیون کے مطابق، سیکیورٹی عملہ فوری مدد کو تیار تھا اور جب فون کی جانچ کی گئی تو وہ ایک باکس میں 894 دیگر فونز کے ساتھ رکھا ہوا تھا۔ تقریباً تمام فونز چوری شدہ نکلے اور اُس وقت انہیں ہانگ کانگ بھیجا جا رہا تھا۔</p>
<p>تحقیقات کے دوران پولیس نے ایک ڈرامائی انداز میں سڑک کے بیچوں بیچ ملزمان کو گرفتار کیا، جس کی فوٹیج کیمرہ پر ریکارڈ کی گئی تھی۔</p>
<p>کارروائی کے دوران کچھ افسران نے ٹیزر گنز بھی نکال لی تھیں۔ مشتبہ گاڑی سے درجنوں فونز برآمد ہوئے تھے، جنہیں ایلومینیم فوائل میں لپیٹا گیا تھا تاکہ ان کا سراغ نہ لگایا جا سکے۔ مزید تلاشی کے دوران تقریباً دو ہزار فونز مختلف مقامات سے برآمد کیے گئے تھے۔</p>
<p>برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق لندن میں موبائل فون چوری کے واقعات میں گزشتہ چار سال کے دوران تین گنا اضافہ ہوا ہے۔</p>
<p>سال 2020 میں موبائل چوری کی تعداد 28 ہزار 609 سے بڑھ کر 2024 میں 80 ہزار 588 تک پہنچ گئی ہے۔ لندن اب پورے برطانیہ میں موبائل فون چوری کے 75 فیصد واقعات کا مرکز بن چکا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30485876</guid>
      <pubDate>Tue, 07 Oct 2025 20:00:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/10/071437265a19535.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/10/071437265a19535.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
