<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Business &amp; Economy</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 18:49:14 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 18:49:14 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سونے کے بڑے ذخائر رکھنے والے 10 ممالک کون سے ہیں؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30486395/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی منڈی میں قیمتوں میں مسلسل اضافے سے سونا جہاں عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوا وہیں دولت مند افراد کے لیے بہترین اور محفوظ سرمایہ کاری بن چکا ہے۔ سرمایہ کار عالمی معاشی اور غیر یقینی سیاسی صورتحال کے پیش نظر محفوظ سرمایہ کاری کی تلاش میں سونا خرید رہے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ دور میں سونا ایک ’’محفوظ سرمایہ‘‘ بن چکا ہے جو معاشی اعتماد اور خطرات دونوں میں اپنی قدر برقرار رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.gold.org/goldhub/data/gold-reserves-by-country#:~:text=To%20help%20understand%20this%20sector,percentage%20of%20their%20international%20reserves."&gt;ورلڈ گولڈ کونسل&lt;/a&gt; کی تازہ رپورٹ کے مطابق اگست 2025 میں دنیا بھر کے مرکزی بینکوں نے 15 ٹن سے زائد سونے کی خریداری کی۔ جس سے سالانہ خریداری کی مجموعی مقدار ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کونسل کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق دنیا کے وہ 10 بڑے ممالک جن کے پاس سب سے زیادہ سونے کے ذخائر موجود ہیں، ان کی تفصیلات درج ذیل ہیں:&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="امریکا--8133-ٹن" href="#امریکا--8133-ٹن" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;امریکا – 8,133 ٹن&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;سونا امریکا مالیاتی نظام کا ایک مضبوط ستون ہے اور کئی دہائیوں اس لسٹ میں سرفہرست ہے۔ حالیہ برسوں میں امریکا نے کوئی بڑی خرید و فروخت نہیں کی صرف اپنے ذخائر کو مستحکم رکھا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="جرمنی--3352-ٹن" href="#جرمنی--3352-ٹن" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;جرمنی – 3,352 ٹن&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;جرمنی یورپ کی معیشت کا سب سے بڑا مرکز ہے اور اس نے حالیہ برسوں میں اپنے سونے کا بڑا حصہ واپس ملک منتقل کر دیا ہے۔ سونا جرمنی کی اقتصادی پالیسی کا ایک محفوظ ستون سمجھا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="اٹلی--2452-ٹن" href="#اٹلی--2452-ٹن" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;اٹلی – 2,452 ٹن&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;اٹلی کے ذخائر دوسری جنگِ عظیم کے بعد سے مستحکم ہیں۔ معاشی بحران کے دوران یہ ذخائر ملکی مالیاتی اعتماد کو برقرار رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="فرانس--2437-ٹن" href="#فرانس--2437-ٹن" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;فرانس – 2,437 ٹن&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;فرانس بھی اپنے ذخائر کو عالمی سطح پر کرنسی کو متوازن رکھنے کے لیے ایک اہم اسٹریٹجک اثاثہ سمجھتا ہے اور اس نے اپنے ذخائر کو بڑی حد تک محفوظ رکھا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="روس--2327-ٹن" href="#روس--2327-ٹن" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;روس – 2,327 ٹن&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;پابندیوں اور مغربی ممالک سے بڑھتی کشیدگی کے جواب میں روس نے امریکی مالیاتی نظام پر انحصار کم کرنے کے لیے سونے کی خریداری میں تیزی سے اضافہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="چین--2301-ٹن" href="#چین--2301-ٹن" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;چین – 2,301 ٹن&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;چین مسلسل سونا خرید کر ذخائر میں اضافہ کرکے اپنی کرنسی یوان کی بین الاقوامی حیثیت کو مستحکم کرنا چاہتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="سوئٹزرلینڈ--1040-ٹن" href="#سوئٹزرلینڈ--1040-ٹن" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;سوئٹزرلینڈ – 1,040 ٹن&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;اپنے محفوظ بینکنگ نظام کے لیے مشہور یہ چھوٹا مگر مالی طور پر طاقتور ملک عالمی مالیاتی استحکام کا عکاس ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="بھارت--880-ٹن" href="#بھارت--880-ٹن" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;بھارت – 880 ٹن&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;بھارت نے اس سال سونے کے ذخائر میں اضافہ کیا ہے۔ تہواروں اور زیورات کی مانگ کے پیش نظر بھارت کا ریزرو بینک سونے کے ذخائر بڑھا کر روپے کو سہارا دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="جاپان--846-ٹن" href="#جاپان--846-ٹن" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;جاپان – 846 ٹن&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;جاپان کے ذخائر کئی دہائیوں سے تقریباً مستحکم ہیں۔ سونا جاپانی ین کے استحکام کے لیے بطور حفاظتی اقدام رکھا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="ترکیہ--639-ٹن" href="#ترکیہ--639-ٹن" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;ترکیہ – 639 ٹن&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;افراطِ زر اور کرنسی بحران سے نمٹنے کے لیے ترکیہ نے سونے کو معیشت کا محفوظ سہارا بنایا اور ٹاپ 10 میں شامل ہوچکا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی منڈی میں قیمتوں میں مسلسل اضافے سے سونا جہاں عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوا وہیں دولت مند افراد کے لیے بہترین اور محفوظ سرمایہ کاری بن چکا ہے۔ سرمایہ کار عالمی معاشی اور غیر یقینی سیاسی صورتحال کے پیش نظر محفوظ سرمایہ کاری کی تلاش میں سونا خرید رہے ہیں۔</strong></p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ دور میں سونا ایک ’’محفوظ سرمایہ‘‘ بن چکا ہے جو معاشی اعتماد اور خطرات دونوں میں اپنی قدر برقرار رکھتا ہے۔</p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.gold.org/goldhub/data/gold-reserves-by-country#:~:text=To%20help%20understand%20this%20sector,percentage%20of%20their%20international%20reserves.">ورلڈ گولڈ کونسل</a> کی تازہ رپورٹ کے مطابق اگست 2025 میں دنیا بھر کے مرکزی بینکوں نے 15 ٹن سے زائد سونے کی خریداری کی۔ جس سے سالانہ خریداری کی مجموعی مقدار ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی۔</p>
<p>کونسل کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق دنیا کے وہ 10 بڑے ممالک جن کے پاس سب سے زیادہ سونے کے ذخائر موجود ہیں، ان کی تفصیلات درج ذیل ہیں:</p>
<h1><a id="امریکا--8133-ٹن" href="#امریکا--8133-ٹن" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>امریکا – 8,133 ٹن</strong></h1>
<p>سونا امریکا مالیاتی نظام کا ایک مضبوط ستون ہے اور کئی دہائیوں اس لسٹ میں سرفہرست ہے۔ حالیہ برسوں میں امریکا نے کوئی بڑی خرید و فروخت نہیں کی صرف اپنے ذخائر کو مستحکم رکھا ہے۔</p>
<h1><a id="جرمنی--3352-ٹن" href="#جرمنی--3352-ٹن" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>جرمنی – 3,352 ٹن</strong></h1>
<p>جرمنی یورپ کی معیشت کا سب سے بڑا مرکز ہے اور اس نے حالیہ برسوں میں اپنے سونے کا بڑا حصہ واپس ملک منتقل کر دیا ہے۔ سونا جرمنی کی اقتصادی پالیسی کا ایک محفوظ ستون سمجھا جاتا ہے۔</p>
<h1><a id="اٹلی--2452-ٹن" href="#اٹلی--2452-ٹن" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>اٹلی – 2,452 ٹن</strong></h1>
<p>اٹلی کے ذخائر دوسری جنگِ عظیم کے بعد سے مستحکم ہیں۔ معاشی بحران کے دوران یہ ذخائر ملکی مالیاتی اعتماد کو برقرار رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔</p>
<h1><a id="فرانس--2437-ٹن" href="#فرانس--2437-ٹن" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>فرانس – 2,437 ٹن</strong></h1>
<p>فرانس بھی اپنے ذخائر کو عالمی سطح پر کرنسی کو متوازن رکھنے کے لیے ایک اہم اسٹریٹجک اثاثہ سمجھتا ہے اور اس نے اپنے ذخائر کو بڑی حد تک محفوظ رکھا ہے۔</p>
<h1><a id="روس--2327-ٹن" href="#روس--2327-ٹن" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>روس – 2,327 ٹن</strong></h1>
<p>پابندیوں اور مغربی ممالک سے بڑھتی کشیدگی کے جواب میں روس نے امریکی مالیاتی نظام پر انحصار کم کرنے کے لیے سونے کی خریداری میں تیزی سے اضافہ کیا ہے۔</p>
<h1><a id="چین--2301-ٹن" href="#چین--2301-ٹن" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>چین – 2,301 ٹن</strong></h1>
<p>چین مسلسل سونا خرید کر ذخائر میں اضافہ کرکے اپنی کرنسی یوان کی بین الاقوامی حیثیت کو مستحکم کرنا چاہتا ہے۔</p>
<h1><a id="سوئٹزرلینڈ--1040-ٹن" href="#سوئٹزرلینڈ--1040-ٹن" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>سوئٹزرلینڈ – 1,040 ٹن</strong></h1>
<p>اپنے محفوظ بینکنگ نظام کے لیے مشہور یہ چھوٹا مگر مالی طور پر طاقتور ملک عالمی مالیاتی استحکام کا عکاس ہے۔</p>
<h1><a id="بھارت--880-ٹن" href="#بھارت--880-ٹن" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>بھارت – 880 ٹن</strong></h1>
<p>بھارت نے اس سال سونے کے ذخائر میں اضافہ کیا ہے۔ تہواروں اور زیورات کی مانگ کے پیش نظر بھارت کا ریزرو بینک سونے کے ذخائر بڑھا کر روپے کو سہارا دیتا ہے۔</p>
<h1><a id="جاپان--846-ٹن" href="#جاپان--846-ٹن" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>جاپان – 846 ٹن</strong></h1>
<p>جاپان کے ذخائر کئی دہائیوں سے تقریباً مستحکم ہیں۔ سونا جاپانی ین کے استحکام کے لیے بطور حفاظتی اقدام رکھا جاتا ہے۔</p>
<h1><a id="ترکیہ--639-ٹن" href="#ترکیہ--639-ٹن" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>ترکیہ – 639 ٹن</strong></h1>
<p>افراطِ زر اور کرنسی بحران سے نمٹنے کے لیے ترکیہ نے سونے کو معیشت کا محفوظ سہارا بنایا اور ٹاپ 10 میں شامل ہوچکا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Economy</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30486395</guid>
      <pubDate>Fri, 10 Oct 2025 16:07:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/10/101557441773a4e.webp" type="image/webp" medium="image" height="1500" width="2500">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/10/101557441773a4e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/10/10155822fc1608d.webp" type="image/webp" medium="image" height="1500" width="2500">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/10/10155822fc1608d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
