<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 18:47:08 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 18:47:08 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ماریا کورینا مچاڈو نے امن کا نوبیل انعام صدر ٹرمپ کے نام کر دیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30486459/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا مچاڈو کو ملک میں آمریت کے خلاف جدوجہد پر 2025 کا نوبیل امن انعام دیا گیا۔ انھوں نے یہ اعزاز اپنے ملک کے عوام اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نام کیا ہے، جنہیں انہوں نے اپنی تحریک کی “فیصلہ کن حمایت” پر سراہا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/world/nobel-peace-prize-winner-be-announced-year-overshadowed-by-trump-2025-10-10/"&gt;رائٹرز&lt;/a&gt; کے مطابق 58 سالہ ماریا مچاڈو، جو ایک صنعتی انجینئر ہیں، 2024 میں وینزویلا کی عدالتوں کی جانب سے صدارتی انتخاب میں حصہ لینے سے روک دی گئی تھیں تاکہ وہ صدر نکولس مادورو کو چیلنج نہ کر سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماریا مچاڈو اس وقت خفیہ طور پر رہ رہی ہیں اور طویل عرصے سے حکومت مخالف تحریک کی نمایاں رہنما سمجھی جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;center&gt;&lt;p&gt;&lt;a href="https://whatsapp.com/channel/0029Va8czsoLNSZzP877bA0I"&gt;
&lt;img src="https://i.aaj.tv/large/2025/09/041745569b68024.webp" alt="AAJ News Whatsapp" width="728" height="90"&gt;
&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&lt;/center&gt;
&lt;p&gt;نوبیل کمیٹی کے سیکریٹری کے ساتھ فون پر گفتگو میں مچاڈو نے کہا کہ یہ انعام صرف ان کا نہیں بلکہ پورے وینزویلا کے عوام کی جدوجہد کا اعتراف ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر لکھا کہ “میں یہ انعام وینزویلا کے مظلوم عوام اور صدر ٹرمپ کے نام کرتی ہوں، جنہوں نے ہماری تحریک کے لیے فیصلہ کن کردار ادا کیا۔”&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/MariaCorinaYA/status/1976642376119549990"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ الفریڈ نوبیل کی میراث کو سب سے بڑا خراجِ تحسین یہ ہوگا کہ ہم جمہوریت کی منتقلی کو یقینی بنائیں، اپنی آزادی حاصل کریں اور اسی طرح حقیقی امن تک پہنچیں۔ وینزویلا آزاد ہوگا!&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے نوبیل کمیٹی کے فیصلے پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ کمیٹی نے “امن پر نہیں بلکہ سیاست پر توجہ دی ہے۔” بیان میں کہا گیا کہ “صدر ٹرمپ دنیا میں امن معاہدے کرنے اور جنگیں ختم کرنے کی کوشش جاری رکھیں گے۔”&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوبیل کمیٹی نے اپنے اعلامیے میں کہا کہ جب آمرانہ قوتیں اقتدار پر قابض ہوں، تو آزادی کے دفاع میں کھڑے ہونے والوں کو تسلیم کرنا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی کے سربراہ یورگن واٹنے فریڈنس نے امید ظاہر کی کہ یہ ایوارڈ وینزویلا کی اپوزیشن کو آمریت سے جمہوریت کی طرف پُرامن منتقلی کے لیے نئی توانائی دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماریا مچاڈو پہلی وینزویلین اور چھٹی لاطینی امریکی شخصیت ہیں جنہیں نوبیل امن انعام دیا گیا ہے۔ ان کے تین بچے بیرونِ ملک مقیم ہیں۔ ابھی یہ واضح نہیں کہ وہ 10 دسمبر کو اوسلو میں ہونے والی تقریب میں شریک ہو سکیں گی یا نہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا مچاڈو کو ملک میں آمریت کے خلاف جدوجہد پر 2025 کا نوبیل امن انعام دیا گیا۔ انھوں نے یہ اعزاز اپنے ملک کے عوام اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نام کیا ہے، جنہیں انہوں نے اپنی تحریک کی “فیصلہ کن حمایت” پر سراہا۔</strong></p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/world/nobel-peace-prize-winner-be-announced-year-overshadowed-by-trump-2025-10-10/">رائٹرز</a> کے مطابق 58 سالہ ماریا مچاڈو، جو ایک صنعتی انجینئر ہیں، 2024 میں وینزویلا کی عدالتوں کی جانب سے صدارتی انتخاب میں حصہ لینے سے روک دی گئی تھیں تاکہ وہ صدر نکولس مادورو کو چیلنج نہ کر سکیں۔</p>
<p>ماریا مچاڈو اس وقت خفیہ طور پر رہ رہی ہیں اور طویل عرصے سے حکومت مخالف تحریک کی نمایاں رہنما سمجھی جاتی ہیں۔</p>
<center><p><a href="https://whatsapp.com/channel/0029Va8czsoLNSZzP877bA0I">
<img src="https://i.aaj.tv/large/2025/09/041745569b68024.webp" alt="AAJ News Whatsapp" width="728" height="90">
</a></p></center>
<p>نوبیل کمیٹی کے سیکریٹری کے ساتھ فون پر گفتگو میں مچاڈو نے کہا کہ یہ انعام صرف ان کا نہیں بلکہ پورے وینزویلا کے عوام کی جدوجہد کا اعتراف ہے۔</p>
<p>انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر لکھا کہ “میں یہ انعام وینزویلا کے مظلوم عوام اور صدر ٹرمپ کے نام کرتی ہوں، جنہوں نے ہماری تحریک کے لیے فیصلہ کن کردار ادا کیا۔”</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/MariaCorinaYA/status/1976642376119549990"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ الفریڈ نوبیل کی میراث کو سب سے بڑا خراجِ تحسین یہ ہوگا کہ ہم جمہوریت کی منتقلی کو یقینی بنائیں، اپنی آزادی حاصل کریں اور اسی طرح حقیقی امن تک پہنچیں۔ وینزویلا آزاد ہوگا!</p>
<p>دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے نوبیل کمیٹی کے فیصلے پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ کمیٹی نے “امن پر نہیں بلکہ سیاست پر توجہ دی ہے۔” بیان میں کہا گیا کہ “صدر ٹرمپ دنیا میں امن معاہدے کرنے اور جنگیں ختم کرنے کی کوشش جاری رکھیں گے۔”</p>
<p>نوبیل کمیٹی نے اپنے اعلامیے میں کہا کہ جب آمرانہ قوتیں اقتدار پر قابض ہوں، تو آزادی کے دفاع میں کھڑے ہونے والوں کو تسلیم کرنا ضروری ہے۔</p>
<p>کمیٹی کے سربراہ یورگن واٹنے فریڈنس نے امید ظاہر کی کہ یہ ایوارڈ وینزویلا کی اپوزیشن کو آمریت سے جمہوریت کی طرف پُرامن منتقلی کے لیے نئی توانائی دے گا۔</p>
<p>ماریا مچاڈو پہلی وینزویلین اور چھٹی لاطینی امریکی شخصیت ہیں جنہیں نوبیل امن انعام دیا گیا ہے۔ ان کے تین بچے بیرونِ ملک مقیم ہیں۔ ابھی یہ واضح نہیں کہ وہ 10 دسمبر کو اوسلو میں ہونے والی تقریب میں شریک ہو سکیں گی یا نہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30486459</guid>
      <pubDate>Sat, 11 Oct 2025 00:08:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/10/11000808e1d60ba.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/10/11000808e1d60ba.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
