<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Life &amp; Style</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 12 Apr 2026 03:00:07 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 12 Apr 2026 03:00:07 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اب فوڈ ڈیلیوری بائیکس نہیں ڈرونز کے ذریعے ہوگی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30486665/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;برطانیہ میں آئندہ چند برسوں میں ڈرونز کے ذریعے ریسٹورنٹس اور دکانوں سے کھانے پینے کی اشیاء کی ترسیل ممکن ہو سکتی ہے۔ آئرلینڈ کے دارالحکومت ڈبلن میں کامیاب آزمائش کے بعد آئرش کمپنی مانا (Manna) اب یہی سروس 2026 تک برطانیہ میں بھی شروع کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے، جو حکومتی منظوری سے مشروط ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://news.sky.com/story/food-delivery-drones-could-soon-be-roaming-british-skies-13447794"&gt;اسکائی نیوز&lt;/a&gt; کے مطابق کمپنی گزشتہ دو برس سے ڈبلن میں ڈرون کے ذریعے فوڈ ڈیلیوری سروس چلا رہی ہے۔ گاہکوں کو ڈرونز کے ذریعے برگر، چپس اور دوسرے فاسٹ فوڈز کے علاوہ انڈے اور تازہ گوشت جیسی ضروری اشیائے خوردونوش کی فوری ترسیل کی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="یہ-سروس-کیسے-کام-کرتی-ہے" href="#یہ-سروس-کیسے-کام-کرتی-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;یہ سروس کیسے کام کرتی ہے؟&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;ul&gt;
&lt;li&gt;یہ جدید کواڈ کاپٹر ڈرونز تقریباً 2 کلوگرام وزن اٹھا سکتے ہیں اور 65 میٹر کی بلندی پر اڑتے ہیں۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;ہر آرڈر چند ہی منٹوں میں صارف کے گھر تک پہنچ جاتا ہے۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;ڈرون آرڈر کی ترسیل کے لیے 14 میٹر تک آتا ہے اور رسی کے ذریعے پیکج آہستہ سے زمین پر اتارتا ہے۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;یہ سسٹم خودکار ہے تاہم حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کے لیے نگرانی بھی کی جارہی ہوتی ہے۔&lt;/li&gt;
&lt;/ul&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کا کہنا ہے کہ حکومتی منظوری مل گئی تو 2026 تک یہ سروس برطانیہ میں بھی شروع کی جا سکتی ہے۔ ایسا ہوا تو آنے والے چند برسوں میں برطانوی شہری اپنی پسندیدہ خوراک کو ڈرون کے ذریعے منٹوں میں اپنے گھر منگوا سکیں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>برطانیہ میں آئندہ چند برسوں میں ڈرونز کے ذریعے ریسٹورنٹس اور دکانوں سے کھانے پینے کی اشیاء کی ترسیل ممکن ہو سکتی ہے۔ آئرلینڈ کے دارالحکومت ڈبلن میں کامیاب آزمائش کے بعد آئرش کمپنی مانا (Manna) اب یہی سروس 2026 تک برطانیہ میں بھی شروع کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے، جو حکومتی منظوری سے مشروط ہے۔</strong></p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://news.sky.com/story/food-delivery-drones-could-soon-be-roaming-british-skies-13447794">اسکائی نیوز</a> کے مطابق کمپنی گزشتہ دو برس سے ڈبلن میں ڈرون کے ذریعے فوڈ ڈیلیوری سروس چلا رہی ہے۔ گاہکوں کو ڈرونز کے ذریعے برگر، چپس اور دوسرے فاسٹ فوڈز کے علاوہ انڈے اور تازہ گوشت جیسی ضروری اشیائے خوردونوش کی فوری ترسیل کی جاتی ہے۔</p>
<h1><a id="یہ-سروس-کیسے-کام-کرتی-ہے" href="#یہ-سروس-کیسے-کام-کرتی-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>یہ سروس کیسے کام کرتی ہے؟</strong></h1>
<ul>
<li>یہ جدید کواڈ کاپٹر ڈرونز تقریباً 2 کلوگرام وزن اٹھا سکتے ہیں اور 65 میٹر کی بلندی پر اڑتے ہیں۔</li>
<li>ہر آرڈر چند ہی منٹوں میں صارف کے گھر تک پہنچ جاتا ہے۔</li>
<li>ڈرون آرڈر کی ترسیل کے لیے 14 میٹر تک آتا ہے اور رسی کے ذریعے پیکج آہستہ سے زمین پر اتارتا ہے۔</li>
<li>یہ سسٹم خودکار ہے تاہم حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کے لیے نگرانی بھی کی جارہی ہوتی ہے۔</li>
</ul>
<p>کمپنی کا کہنا ہے کہ حکومتی منظوری مل گئی تو 2026 تک یہ سروس برطانیہ میں بھی شروع کی جا سکتی ہے۔ ایسا ہوا تو آنے والے چند برسوں میں برطانوی شہری اپنی پسندیدہ خوراک کو ڈرون کے ذریعے منٹوں میں اپنے گھر منگوا سکیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30486665</guid>
      <pubDate>Sun, 12 Oct 2025 14:16:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/10/121416281c6f689.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/10/121416281c6f689.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
