<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Technology</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 19:10:00 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 19:10:00 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’پابندی سے بچے نہیں بچا پاؤ گے‘: یوٹیوب کی آسٹریلوی حکومت کو تنبیہ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30486770/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم یوٹیوب نے آسٹریلوی حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ بچوں پرسوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی اگرچہ نیک نیتی سے کی جا رہی ہے، لیکن یہ اقدام بچوں کو آن لائن خطرات سے محفوظ نہیں رکھ پائے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آسٹریلیا کے وزیرِاعظم انتھونی البنیز نے گزشتہ سال ایک تاریخی قانون متعارف کرانے کا اعلان کیا تھا جس کے تحت 16 سال سے کم عمر بچوں کو 2025 کے اختتام تک سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے استعمال سے روک دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://m.economictimes.com/tech/technology/youtube-warns-australia-social-media-ban-will-not-keep-children-safe/amp_articleshow/124516267.cms"&gt;اس قانون کے تحت&lt;/a&gt; فیس بک، انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور دیگر پلیٹ فارمز پر بھاری جرمانے عائد کیے جائیں گے اگر وہ پابندی کی خلاف ورزی کرتے پائے گئے۔ جرمانے کی زیادہ سے زیادہ حد 49.5 ملین آسٹریلوی ڈالر  یعنی تقریباً 28 ملین امریکی ڈالرمقرر کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوٹیوب، جو اس قانون کے دائرے میں شامل ہے، نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ روایتی معنوں میں ’سوشل میڈیا پلیٹ فارم‘ نہیں بلکہ ایک ویڈیو شیئرنگ سروس ہے، لہٰذا اسے اس قانون سے استثنا دیا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کے مقامی ترجمان رچل لارڈ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ حکومت کا یہ قدم نیک نیتی پر مبنی ضرور ہے لیکن اس کے غیر ارادی منفی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ, ’یہ قانون نہ صرف عمل درآمد کے لحاظ سے انتہائی مشکل ہوگا بلکہ یہ بچوں کو محفوظ رکھنے کا مقصد بھی پورا نہیں کر پائے گا۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رچل لارڈ نے مزید کہا کہ مؤثر قانون سازی تب ہی ممکن ہے جب حکومت اور انڈسٹری مل کر ذمہ دارانہ آن لائن ماحول بنانے کے لیے تعاون کریں۔ ان کے مطابق، ’بچوں کو محفوظ بنانے کا حل انہیں آن لائن دنیا سے دور کرنا نہیں بلکہ انہیں ذمہ دارانہ اور محفوظ آن لائن استعمال کی تربیت دینا ہے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30482486/"&gt;آسٹریلیا 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پابندی لگانے والا پہلا ملک بننے کو تیار&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت نے ابھی تک یہ واضح نہیں کیا کہ پابندی کو عملی طور پر کس طریقے سے نافذ کیا جائے گا، کیونکہ عمر(Age) کی تصدیق کا نظام موجود نہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ کمپنیوں کو تمام صارفین کی عمر کی تصدیق کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی، تاہم انہیں ’معقول اقدامات‘ کرنے ہوں گے تاکہ کم عمر صارفین کی نشاندہی اور ان کے اکاؤنٹس بند کیے جا سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;center&gt;&lt;p&gt;&lt;a href="https://whatsapp.com/channel/0029Va8czsoLNSZzP877bA0I"&gt;
&lt;img src="https://i.aaj.tv/large/2025/09/041745569b68024.webp" alt="AAJ News Whatsapp" width="728" height="90"&gt;
&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&lt;/center&gt;
&lt;p&gt;ڈیجیٹل پالیسی ماہرین کے مطابق، اگر نفاذ کے طریقہ کار کو مضبوط نہ بنایا گیا تو یہ قانون صرف علامتی حیثیت اختیار کر سکتا ہے۔ کئی ٹیک کمپنیاں اس قانون کو مبہم، عجلت میں بنایا گیا اور عملی طور پر غیر مؤثر قرار دے چکی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آسٹریلیا ان چند ممالک میں شامل ہے جو آن لائن نقصان اور سائبر بُلنگ کے خلاف عالمی سطح پر سخت اقدامات کرنے میں پیش پیش ہیں، تاہم یہ نئی پابندیاں اس بات پر ایک نئی بحث کا دروازہ کھول رہی ہیں کہ بچوں کا آن لائن تحفظ اور ان کی ڈیجیٹل آزادی کے درمیان توازن کیسے قائم کیا جائے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم یوٹیوب نے آسٹریلوی حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ بچوں پرسوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی اگرچہ نیک نیتی سے کی جا رہی ہے، لیکن یہ اقدام بچوں کو آن لائن خطرات سے محفوظ نہیں رکھ پائے گا۔</strong></p>
<p>آسٹریلیا کے وزیرِاعظم انتھونی البنیز نے گزشتہ سال ایک تاریخی قانون متعارف کرانے کا اعلان کیا تھا جس کے تحت 16 سال سے کم عمر بچوں کو 2025 کے اختتام تک سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے استعمال سے روک دیا جائے گا۔</p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://m.economictimes.com/tech/technology/youtube-warns-australia-social-media-ban-will-not-keep-children-safe/amp_articleshow/124516267.cms">اس قانون کے تحت</a> فیس بک، انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور دیگر پلیٹ فارمز پر بھاری جرمانے عائد کیے جائیں گے اگر وہ پابندی کی خلاف ورزی کرتے پائے گئے۔ جرمانے کی زیادہ سے زیادہ حد 49.5 ملین آسٹریلوی ڈالر  یعنی تقریباً 28 ملین امریکی ڈالرمقرر کی گئی ہے۔</p>
<p>یوٹیوب، جو اس قانون کے دائرے میں شامل ہے، نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ روایتی معنوں میں ’سوشل میڈیا پلیٹ فارم‘ نہیں بلکہ ایک ویڈیو شیئرنگ سروس ہے، لہٰذا اسے اس قانون سے استثنا دیا جانا چاہیے۔</p>
<p>کمپنی کے مقامی ترجمان رچل لارڈ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ حکومت کا یہ قدم نیک نیتی پر مبنی ضرور ہے لیکن اس کے غیر ارادی منفی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ, ’یہ قانون نہ صرف عمل درآمد کے لحاظ سے انتہائی مشکل ہوگا بلکہ یہ بچوں کو محفوظ رکھنے کا مقصد بھی پورا نہیں کر پائے گا۔‘</p>
<p>رچل لارڈ نے مزید کہا کہ مؤثر قانون سازی تب ہی ممکن ہے جب حکومت اور انڈسٹری مل کر ذمہ دارانہ آن لائن ماحول بنانے کے لیے تعاون کریں۔ ان کے مطابق، ’بچوں کو محفوظ بنانے کا حل انہیں آن لائن دنیا سے دور کرنا نہیں بلکہ انہیں ذمہ دارانہ اور محفوظ آن لائن استعمال کی تربیت دینا ہے۔‘</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30482486/">آسٹریلیا 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پابندی لگانے والا پہلا ملک بننے کو تیار</a></p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت نے ابھی تک یہ واضح نہیں کیا کہ پابندی کو عملی طور پر کس طریقے سے نافذ کیا جائے گا، کیونکہ عمر(Age) کی تصدیق کا نظام موجود نہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ کمپنیوں کو تمام صارفین کی عمر کی تصدیق کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی، تاہم انہیں ’معقول اقدامات‘ کرنے ہوں گے تاکہ کم عمر صارفین کی نشاندہی اور ان کے اکاؤنٹس بند کیے جا سکیں۔</p>
<center><p><a href="https://whatsapp.com/channel/0029Va8czsoLNSZzP877bA0I">
<img src="https://i.aaj.tv/large/2025/09/041745569b68024.webp" alt="AAJ News Whatsapp" width="728" height="90">
</a></p></center>
<p>ڈیجیٹل پالیسی ماہرین کے مطابق، اگر نفاذ کے طریقہ کار کو مضبوط نہ بنایا گیا تو یہ قانون صرف علامتی حیثیت اختیار کر سکتا ہے۔ کئی ٹیک کمپنیاں اس قانون کو مبہم، عجلت میں بنایا گیا اور عملی طور پر غیر مؤثر قرار دے چکی ہیں۔</p>
<p>آسٹریلیا ان چند ممالک میں شامل ہے جو آن لائن نقصان اور سائبر بُلنگ کے خلاف عالمی سطح پر سخت اقدامات کرنے میں پیش پیش ہیں، تاہم یہ نئی پابندیاں اس بات پر ایک نئی بحث کا دروازہ کھول رہی ہیں کہ بچوں کا آن لائن تحفظ اور ان کی ڈیجیٹل آزادی کے درمیان توازن کیسے قائم کیا جائے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30486770</guid>
      <pubDate>Mon, 13 Oct 2025 09:56:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/10/130928212d9a827.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/10/130928212d9a827.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
