<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 16 May 2026 07:08:26 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 16 May 2026 07:08:26 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکی میڈیا کا پینٹاگون کی پابندیاں ماننے سے انکار</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30487112/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی میڈیا اداروں نے پینٹاگون کی جانب سے قومی سلامتی سے متعلق معاملات پر لگائی گئی پابندیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات آزاد صحافت کے لیے سنگین خطرہ ہیں اور وہ اس دباؤ کے باوجود امریکی فوج کی کوریج جاری رکھیں گے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی این این، اے بی سی، سی بی ایس، این بی سی اور فاکس نیوز نے اپنے مشترکہ بیان میں پینٹاگون کی پالیسی کو ”غیر جمہوری اور آزادیٔ اظہار کے منافی“ قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا ہے کہ آزاد اور خودمختار صحافت کے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ امریکی عوام کو حقائق تک رسائی کا حق ہے اور ہم یہ ذمہ داری پوری کرتے رہیں گے۔ ساتھ ہی ان پابندیوں کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ عمل سے نہ صرف آزادئ صحافت پر قدغن بلکہ عوامی معلومات کا حق سلب کرنے کے بھی مترادف ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/politico/status/1978203897412895167"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں مزید کہا گیا ہم قومی سلامتی کا احترام کرتے ہیں لیکن آزاد اور خودمختار صحافت کے اصول پر کوئی سمجھوتہ قبول نہیں کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ گزشتہ ماہ پینٹاگون کے پریس آفس نے قومی سلامتی کی رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ ایک تحریری عہد نامے پر دستخط کریں۔ جس کا مقصد صحافیوں کو کسی بھی غیر منظور شدہ مواد کو حاصل کرنے یا استعمال کرنے سے گریز کرنے کا ذکر تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;center&gt;&lt;p&gt;&lt;a href="https://whatsapp.com/channel/0029Va8czsoLNSZzP877bA0I"&gt;
&lt;img src="https://i.aaj.tv/large/2025/09/041745569b68024.webp" alt="AAJ News Whatsapp" width="728" height="90"&gt;
&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&lt;/center&gt;
&lt;p&gt;پینٹاگون کے ترجمان نے خبردار کیا تھا کہ جو صحافی اس پر دستخط نہیں کریں گے انہیں پینٹاگون کی عمارت تک رسائی سے محروم کیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان پابندیوں کے خلاف ہی پانچ بڑے امریکی میڈیا اداروں  نے منگل کی سہ پہر مشترکہ بیان جاری کیا اور واضح طور پر ان دستاویزات پر دستخط سے انکار کر دیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی میڈیا اداروں نے پینٹاگون کی جانب سے قومی سلامتی سے متعلق معاملات پر لگائی گئی پابندیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات آزاد صحافت کے لیے سنگین خطرہ ہیں اور وہ اس دباؤ کے باوجود امریکی فوج کی کوریج جاری رکھیں گے۔</strong></p>
<p>سی این این، اے بی سی، سی بی ایس، این بی سی اور فاکس نیوز نے اپنے مشترکہ بیان میں پینٹاگون کی پالیسی کو ”غیر جمہوری اور آزادیٔ اظہار کے منافی“ قرار دیا ہے۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا ہے کہ آزاد اور خودمختار صحافت کے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ امریکی عوام کو حقائق تک رسائی کا حق ہے اور ہم یہ ذمہ داری پوری کرتے رہیں گے۔ ساتھ ہی ان پابندیوں کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ عمل سے نہ صرف آزادئ صحافت پر قدغن بلکہ عوامی معلومات کا حق سلب کرنے کے بھی مترادف ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/politico/status/1978203897412895167"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>بیان میں مزید کہا گیا ہم قومی سلامتی کا احترام کرتے ہیں لیکن آزاد اور خودمختار صحافت کے اصول پر کوئی سمجھوتہ قبول نہیں کریں گے۔</p>
<p>واضح رہے کہ گزشتہ ماہ پینٹاگون کے پریس آفس نے قومی سلامتی کی رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ ایک تحریری عہد نامے پر دستخط کریں۔ جس کا مقصد صحافیوں کو کسی بھی غیر منظور شدہ مواد کو حاصل کرنے یا استعمال کرنے سے گریز کرنے کا ذکر تھا۔</p>
<center><p><a href="https://whatsapp.com/channel/0029Va8czsoLNSZzP877bA0I">
<img src="https://i.aaj.tv/large/2025/09/041745569b68024.webp" alt="AAJ News Whatsapp" width="728" height="90">
</a></p></center>
<p>پینٹاگون کے ترجمان نے خبردار کیا تھا کہ جو صحافی اس پر دستخط نہیں کریں گے انہیں پینٹاگون کی عمارت تک رسائی سے محروم کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p>ان پابندیوں کے خلاف ہی پانچ بڑے امریکی میڈیا اداروں  نے منگل کی سہ پہر مشترکہ بیان جاری کیا اور واضح طور پر ان دستاویزات پر دستخط سے انکار کر دیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30487112</guid>
      <pubDate>Wed, 15 Oct 2025 10:09:55 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/10/1510165950d5865.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/10/1510165950d5865.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
