<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 04:01:48 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 04:01:48 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>یورپ جانیوالے تارکین وطن کی کشتی ڈوب گئی، 40 افراد ہلاک</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30488568/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یورپ جانیوالے تارکین وطن کی کشتی کو تیونس میں حادثہ پیش آیا جس میں 40 افراد ہلاک ہوگئے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق تیونس کے حکام کا کہنا ہے کہ کشتی بحیرۂ روم کے وسطی علاقے میں تیونس کے بندرگاہی شہر مہدیہ کے قریب ڈوبی، کشتی میں تقریباً 70 افراد سوار تھے، جن کا تعلق صحرائے صحارا کے جنوبی افریقی ممالک سے تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب تک تقریباً 30 افراد کو زندہ بچا لیا گیا ہے جبکہ لاپتا افراد کی تلاش کے لیے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ حکام نے واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سانحہ ان درجنوں حادثات میں سے ایک ہے جو افریقہ سے یورپ کے خطرناک سمندری راستے کے ذریعے ہجرت کی کوششوں کے دوران پیش آتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;center&gt;&lt;p&gt;&lt;a href="https://whatsapp.com/channel/0029Va8czsoLNSZzP877bA0I"&gt;
&lt;img src="https://i.aaj.tv/large/2025/09/041745569b68024.webp" alt="AAJ News Whatsapp" width="728" height="90"&gt;
&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&lt;/center&gt;
&lt;p&gt;اقوامِ متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق 2023 میں 2 لاکھ 10 ہزار سے زائد افراد نے مرکزی بحیرۂ روم کے راستے یورپ پہنچنے کی کوشش کی۔ ان میں سے 60 ہزار سے زائد افراد کو روک کر واپس افریقا بھیجا گیا جبکہ تقریباً 2 ہزار افراد سمندر میں ہلاک ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیونس کے حکام کے مطابق مہدیہ کے قریب پیش آنے والا یہ سانحہ بدھ کے روز پیش آیا، جس کے بعد مقامی کوسٹ گارڈ اور امدادی ٹیموں نے فوری کارروائی کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیونس کو حالیہ برسوں میں بڑھتے ہوئے تارکینِ وطن کے دباؤ کا سامنا ہے، جو اپنے ممالک میں جنگ، غربت اور عدم استحکام کے باعث بہتر زندگی کی تلاش میں یورپ کا رخ کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بحیرۂ روم کا یہ راستہ دنیا کے سب سے خطرناک سمندری ہجرتی راستوں میں شمار ہوتا ہے۔ رواں سال فروری میں بھی تیونس کے شہر صفاقس کے قریب ایک کشتی ڈوبنے سے 40 سے زائد سوڈانی باشندے ہلاک ہو گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ یورپی یونین (EU) نے 2023 میں تیونس کے ساتھ غیر قانونی ہجرت روکنے کے معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت 118 ملین ڈالر فراہم کیے جائیں گے تاکہ اسمگلنگ کے خاتمے، سرحدوں کی نگرانی اور مہاجرین کی واپسی کے اقدامات کو مضبوط کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>یورپ جانیوالے تارکین وطن کی کشتی کو تیونس میں حادثہ پیش آیا جس میں 40 افراد ہلاک ہوگئے۔</strong></p>
<p>برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق تیونس کے حکام کا کہنا ہے کہ کشتی بحیرۂ روم کے وسطی علاقے میں تیونس کے بندرگاہی شہر مہدیہ کے قریب ڈوبی، کشتی میں تقریباً 70 افراد سوار تھے، جن کا تعلق صحرائے صحارا کے جنوبی افریقی ممالک سے تھا۔</p>
<p>اب تک تقریباً 30 افراد کو زندہ بچا لیا گیا ہے جبکہ لاپتا افراد کی تلاش کے لیے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ حکام نے واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔</p>
<p>یہ سانحہ ان درجنوں حادثات میں سے ایک ہے جو افریقہ سے یورپ کے خطرناک سمندری راستے کے ذریعے ہجرت کی کوششوں کے دوران پیش آتے ہیں۔</p>
<center><p><a href="https://whatsapp.com/channel/0029Va8czsoLNSZzP877bA0I">
<img src="https://i.aaj.tv/large/2025/09/041745569b68024.webp" alt="AAJ News Whatsapp" width="728" height="90">
</a></p></center>
<p>اقوامِ متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق 2023 میں 2 لاکھ 10 ہزار سے زائد افراد نے مرکزی بحیرۂ روم کے راستے یورپ پہنچنے کی کوشش کی۔ ان میں سے 60 ہزار سے زائد افراد کو روک کر واپس افریقا بھیجا گیا جبکہ تقریباً 2 ہزار افراد سمندر میں ہلاک ہو گئے۔</p>
<p>تیونس کے حکام کے مطابق مہدیہ کے قریب پیش آنے والا یہ سانحہ بدھ کے روز پیش آیا، جس کے بعد مقامی کوسٹ گارڈ اور امدادی ٹیموں نے فوری کارروائی کی۔</p>
<p>تیونس کو حالیہ برسوں میں بڑھتے ہوئے تارکینِ وطن کے دباؤ کا سامنا ہے، جو اپنے ممالک میں جنگ، غربت اور عدم استحکام کے باعث بہتر زندگی کی تلاش میں یورپ کا رخ کرتے ہیں۔</p>
<p>بحیرۂ روم کا یہ راستہ دنیا کے سب سے خطرناک سمندری ہجرتی راستوں میں شمار ہوتا ہے۔ رواں سال فروری میں بھی تیونس کے شہر صفاقس کے قریب ایک کشتی ڈوبنے سے 40 سے زائد سوڈانی باشندے ہلاک ہو گئے تھے۔</p>
<p>واضح رہے کہ یورپی یونین (EU) نے 2023 میں تیونس کے ساتھ غیر قانونی ہجرت روکنے کے معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت 118 ملین ڈالر فراہم کیے جائیں گے تاکہ اسمگلنگ کے خاتمے، سرحدوں کی نگرانی اور مہاجرین کی واپسی کے اقدامات کو مضبوط کیا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30488568</guid>
      <pubDate>Thu, 23 Oct 2025 16:02:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/10/2315471878e8a94.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/10/2315471878e8a94.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
