<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 18:27:33 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 18:27:33 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>روسی تیل پر امریکی پابندیاں؛ کیا بھارت اب بھی روس سے تیل خرید سکے گا؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30488584/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکا کی جانب سے روس کی دو تیل کمپنیوں پر پابندی کے بعد بھارت نے روسی تیل کی درآمدات میں کمی لانے پر غور شروع کر دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://home.treasury.gov/news/press-releases/sb0290"&gt;امریکی محکمہ خزانہ&lt;/a&gt; نے روس کی دو بڑی آئل کمپنیوں، روسنیفٹ (Rosneft) اور لوک آئل (Lukoil) پر پابندی عائد کردی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ دو کمپنیاں کریملن کی ”جنگی مشین“ کو مالی معاونت فراہم کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان پابندیوں کے اثرات روس کے ساتھ ساتھ اُن ممالک پر بھی مرتب ہوں گے جو روسی تیل پر انحصار کرتے ہیں، جن میں بھارت  بھی شامل ہے.&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="بھارت-روسی-تیل-کا-سب-بڑا-خریدار" href="#بھارت-روسی-تیل-کا-سب-بڑا-خریدار" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;بھارت، روسی تیل کا سب بڑا خریدار&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://timesofindia.indiatimes.com/business/india-business/trump-sanctions-on-russia-oil-firms-what-does-us-move-mean-for-indian-refiners-contracts-being-reviewed/articleshow/124753950.cms"&gt;ٹائمز آف انڈیا&lt;/a&gt; کےمطابق بھارت اپنی خام تیل کی تقریباً 66 فیصد ضروریات مشرقِ وسطیٰ کے ممالک سے پوری کرتا تھا، جن میں عراق، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نمایاں سپلائرز ہیں۔ تاہم مغربی ممالک کی جانب سے روس پر پابندیاں عائد ہونے کے بعد بھارت نے رعایتی نرخوں پر روس سے تیل خریدنا شروع کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس فیصلے کے پیچھے اہم وجہ رعایتی قیمتوں پر تیل حاصل کرنا تھا، جو 2023 میں فی بیرل 19 سے 20 ڈالر تک تھی اور اب کم ہو کر 3.5 سے 5 ڈالر فی بیرل رہ گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی میڈیا کے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.ndtv.com/world-news/what-us-sanctions-on-russian-oil-mean-for-india-9502222?pfrom=home-ndtv_topscroll"&gt;مطابق&lt;/a&gt; بھارت 2022 میں یوکرین پر روس کے حملے کے بعد سے روسی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے۔ بھارت نے رواں سال ابتدائی نو ماہ میں سمندری راستے سے رعایتی قیمت پر یومیہ تقریباً 17 لاکھ بیرل روسی خام تیل درآمد کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="پابندی-کے-بھارت-پر-اثرات-اور-ممکنہ-ردعمل" href="#پابندی-کے-بھارت-پر-اثرات-اور-ممکنہ-ردعمل" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;پابندی کے بھارت پر اثرات اور ممکنہ ردعمل&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;حالیہ امریکی پابندیوں سے بھارت کے لیے بھی کئی چیلنجز پیدا ہوئے ہیں، جس کی وجہ یہی ہے کہ بھارت کا روس کے سستے تیل پر انحصار بہت زیادہ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکئی پابندیوں کا اعلان ہوتے ہی عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو گیا۔ بھارت کو اب اگر متبادل اور مہنگے ذرائع سے تیل خریدنا پڑتا ہے تو بھارتی عوام کو پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30487296'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30487296"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ڈونلڈ ٹرمپ کی وارننگز&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈونلڈ ٹرمپ بار بار بھارت کو روس سے تیل کی خریداری روکنے پر خبردار کر چکے ہیں۔ حالیہ پابندی کے بعد بھارت پر دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ دنوں ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان دیا تھا کہ مودی انہیں روسی تیل کی خریداری روکنے کی یقین دہانی کراچکے ہیں۔ جس پر بھارت میں نریندر مودی پر خوب تنقید ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;center&gt;&lt;p&gt;&lt;a href="https://whatsapp.com/channel/0029Va8czsoLNSZzP877bA0I"&gt;
&lt;img src="https://i.aaj.tv/large/2025/09/041745569b68024.webp" alt="AAJ News Whatsapp" width="728" height="90"&gt;
&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&lt;/center&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکا کے ساتھ تجارتی کشیدگی&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روس سے تیل کی خریداری کا معاملہ امریکا اور بھارت کے درمیان تجارتی کشیدگی کا ایک اہم سبب بن چکا ہے۔ ٹرمپ پہلے ہی بھارت کی بعض برآمدات پر 50 فیصد تک ٹیرف لگا چکے ہیں، جس میں سے 25 فیصد ٹیرف روس سے تیل خریدنے کے جواب میں لگایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس معاملے کی وجہ سے بھارت اور امریکا کے درمیان تجارتی معاہدے کی کوششیں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;روسی تیل کی امپورٹ میں کمی&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر رساں ادارے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/business/energy/indian-refiners-review-russian-oil-contracts-after-us-sanctions-source-says-2025-10-23/"&gt;رائٹرز&lt;/a&gt; کے مطابق بھارت کی سرکاری آئل ریفائنریز نے روسی تیل کی درآمدات سے متعلق دستاویزات کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے، تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ امریکی پابندیوں کے بعد ’روسنیفٹ‘ اور ’لوک آئل‘ سے براہِ راست تیل کی فراہمی نہ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت کا روسی تیل پر انحصار اچانک ختم کرنا ممکن نہیں ہے، البتہ درآمدات میں بتدریج کمی بھارت کی حکمت عملی میں شامل ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکا کی جانب سے روس کی دو تیل کمپنیوں پر پابندی کے بعد بھارت نے روسی تیل کی درآمدات میں کمی لانے پر غور شروع کر دیا ہے۔</strong></p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://home.treasury.gov/news/press-releases/sb0290">امریکی محکمہ خزانہ</a> نے روس کی دو بڑی آئل کمپنیوں، روسنیفٹ (Rosneft) اور لوک آئل (Lukoil) پر پابندی عائد کردی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ دو کمپنیاں کریملن کی ”جنگی مشین“ کو مالی معاونت فراہم کرتی ہیں۔</p>
<p>ان پابندیوں کے اثرات روس کے ساتھ ساتھ اُن ممالک پر بھی مرتب ہوں گے جو روسی تیل پر انحصار کرتے ہیں، جن میں بھارت  بھی شامل ہے.</p>
<h1><a id="بھارت-روسی-تیل-کا-سب-بڑا-خریدار" href="#بھارت-روسی-تیل-کا-سب-بڑا-خریدار" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>بھارت، روسی تیل کا سب بڑا خریدار</strong></h1>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://timesofindia.indiatimes.com/business/india-business/trump-sanctions-on-russia-oil-firms-what-does-us-move-mean-for-indian-refiners-contracts-being-reviewed/articleshow/124753950.cms">ٹائمز آف انڈیا</a> کےمطابق بھارت اپنی خام تیل کی تقریباً 66 فیصد ضروریات مشرقِ وسطیٰ کے ممالک سے پوری کرتا تھا، جن میں عراق، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نمایاں سپلائرز ہیں۔ تاہم مغربی ممالک کی جانب سے روس پر پابندیاں عائد ہونے کے بعد بھارت نے رعایتی نرخوں پر روس سے تیل خریدنا شروع کر دیا۔</p>
<p>اس فیصلے کے پیچھے اہم وجہ رعایتی قیمتوں پر تیل حاصل کرنا تھا، جو 2023 میں فی بیرل 19 سے 20 ڈالر تک تھی اور اب کم ہو کر 3.5 سے 5 ڈالر فی بیرل رہ گئی ہے۔</p>
<p>بھارتی میڈیا کے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.ndtv.com/world-news/what-us-sanctions-on-russian-oil-mean-for-india-9502222?pfrom=home-ndtv_topscroll">مطابق</a> بھارت 2022 میں یوکرین پر روس کے حملے کے بعد سے روسی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے۔ بھارت نے رواں سال ابتدائی نو ماہ میں سمندری راستے سے رعایتی قیمت پر یومیہ تقریباً 17 لاکھ بیرل روسی خام تیل درآمد کیا۔</p>
<h1><a id="پابندی-کے-بھارت-پر-اثرات-اور-ممکنہ-ردعمل" href="#پابندی-کے-بھارت-پر-اثرات-اور-ممکنہ-ردعمل" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>پابندی کے بھارت پر اثرات اور ممکنہ ردعمل</strong></h1>
<p>حالیہ امریکی پابندیوں سے بھارت کے لیے بھی کئی چیلنجز پیدا ہوئے ہیں، جس کی وجہ یہی ہے کہ بھارت کا روس کے سستے تیل پر انحصار بہت زیادہ تھا۔</p>
<p><strong>خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ</strong></p>
<p>امریکئی پابندیوں کا اعلان ہوتے ہی عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو گیا۔ بھارت کو اب اگر متبادل اور مہنگے ذرائع سے تیل خریدنا پڑتا ہے تو بھارتی عوام کو پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30487296'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30487296"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p><strong>ڈونلڈ ٹرمپ کی وارننگز</strong></p>
<p>ڈونلڈ ٹرمپ بار بار بھارت کو روس سے تیل کی خریداری روکنے پر خبردار کر چکے ہیں۔ حالیہ پابندی کے بعد بھارت پر دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔</p>
<p>گزشتہ دنوں ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان دیا تھا کہ مودی انہیں روسی تیل کی خریداری روکنے کی یقین دہانی کراچکے ہیں۔ جس پر بھارت میں نریندر مودی پر خوب تنقید ہوئی تھی۔</p>
<center><p><a href="https://whatsapp.com/channel/0029Va8czsoLNSZzP877bA0I">
<img src="https://i.aaj.tv/large/2025/09/041745569b68024.webp" alt="AAJ News Whatsapp" width="728" height="90">
</a></p></center>
<p><strong>امریکا کے ساتھ تجارتی کشیدگی</strong></p>
<p>روس سے تیل کی خریداری کا معاملہ امریکا اور بھارت کے درمیان تجارتی کشیدگی کا ایک اہم سبب بن چکا ہے۔ ٹرمپ پہلے ہی بھارت کی بعض برآمدات پر 50 فیصد تک ٹیرف لگا چکے ہیں، جس میں سے 25 فیصد ٹیرف روس سے تیل خریدنے کے جواب میں لگایا گیا تھا۔</p>
<p>اس معاملے کی وجہ سے بھارت اور امریکا کے درمیان تجارتی معاہدے کی کوششیں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔</p>
<p><strong>روسی تیل کی امپورٹ میں کمی</strong></p>
<p>خبر رساں ادارے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/business/energy/indian-refiners-review-russian-oil-contracts-after-us-sanctions-source-says-2025-10-23/">رائٹرز</a> کے مطابق بھارت کی سرکاری آئل ریفائنریز نے روسی تیل کی درآمدات سے متعلق دستاویزات کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے، تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ امریکی پابندیوں کے بعد ’روسنیفٹ‘ اور ’لوک آئل‘ سے براہِ راست تیل کی فراہمی نہ ہو۔</p>
<p>تاہم بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت کا روسی تیل پر انحصار اچانک ختم کرنا ممکن نہیں ہے، البتہ درآمدات میں بتدریج کمی بھارت کی حکمت عملی میں شامل ہو سکتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30488584</guid>
      <pubDate>Thu, 23 Oct 2025 19:35:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/10/23192816be58487.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/10/23192816be58487.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
