<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 00:36:13 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 00:36:13 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>27 ویں آئینی ترمیم کے مجوزہ ڈرافٹ کے اہم نکات کیا ہیں؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30490542/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی حکومت کی جانب سے 27 ویں آئینی ترمیم  کے مجوزہ ڈرافٹ کے اہم نکات سامنے آ گئے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت آئین کے 5 آرٹیکلز میں ترامیم کی خواہاں ہے،  اس سلسلے میں مجوزہ ترمیم میں آئین کے آرٹیکل 160، شق 3 اے، آرٹیکل 213، آرٹیکل 243 اور آرٹیکل 191 اے  میں ترمیم  کی تجاویز شامل کی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آرٹیکل 160 کی شق 3A میں ترمیم کی تجویز  دی گئی ہے، مجوزہ ترمیم کے تحت صوبوں کے وفاقی محصولات میں حصے کے حوالے سے آئینی ضمانت ختم کرنے کی تجویز شامل  کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح عدالتی ڈھانچے میں بڑی تبدیلی  کر کےآرٹیکل 191A اور نیا آرٹیکل شامل کرنے کی تجویز  بھی ڈرافٹ میں شامل ہے، جس کے مطابق نئے ڈھانچے کے تحت ایک آئینی عدالت یا سپریم آئینی عدالت قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق مجوزہ ترمیم کے تحت آئینی تشریحات کے حتمی اختیار میں تبدیلی کی تجویز  بھی دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ہائی کورٹ کے ججز کی منتقلی سے متعلق آرٹیکل 200 میں بھی ترامیم شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;center&gt;&lt;p&gt;&lt;a href="https://whatsapp.com/channel/0029Va8czsoLNSZzP877bA0I"&gt;
&lt;img src="https://i.aaj.tv/large/2025/09/041745569b68024.webp" alt="AAJ News Whatsapp" width="728" height="90"&gt;&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&lt;/center&gt;
&lt;p&gt;علاوہ ازیں تعلیم اور آبادی کی منصوبہ بندی کے شعبے دوبارہ وفاق کے ماتحت لانے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔  اسی طرح آرٹیکل 243 میں ترمیم  سے مسلح افواج کی کمان مکمل طور پر وفاقی حکومت کے ماتحت رکھنے کی تجویز شامل  ہے۔ آرٹیکل 213 کے تحت چیف الیکشن کمشنر کے تقرر میں تبدیلی کی تجویز  بھی ڈرافٹ کا حصہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی حکومت نے 27 ویں آئینی ترامیم کا مجوزہ مسودہ پیپلزپارٹی کے حوالے کردیا ہے اور پیپلزپارٹی سے اس ترمیم کی منظوری کے لیے حمایت طلب کی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی حکومت کی جانب سے 27 ویں آئینی ترمیم  کے مجوزہ ڈرافٹ کے اہم نکات سامنے آ گئے۔</strong></p>
<p>ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت آئین کے 5 آرٹیکلز میں ترامیم کی خواہاں ہے،  اس سلسلے میں مجوزہ ترمیم میں آئین کے آرٹیکل 160، شق 3 اے، آرٹیکل 213، آرٹیکل 243 اور آرٹیکل 191 اے  میں ترمیم  کی تجاویز شامل کی گئی ہیں۔</p>
<p>آرٹیکل 160 کی شق 3A میں ترمیم کی تجویز  دی گئی ہے، مجوزہ ترمیم کے تحت صوبوں کے وفاقی محصولات میں حصے کے حوالے سے آئینی ضمانت ختم کرنے کی تجویز شامل  کی گئی ہے۔</p>
<p>اسی طرح عدالتی ڈھانچے میں بڑی تبدیلی  کر کےآرٹیکل 191A اور نیا آرٹیکل شامل کرنے کی تجویز  بھی ڈرافٹ میں شامل ہے، جس کے مطابق نئے ڈھانچے کے تحت ایک آئینی عدالت یا سپریم آئینی عدالت قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق مجوزہ ترمیم کے تحت آئینی تشریحات کے حتمی اختیار میں تبدیلی کی تجویز  بھی دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ہائی کورٹ کے ججز کی منتقلی سے متعلق آرٹیکل 200 میں بھی ترامیم شامل ہیں۔</p>
<center><p><a href="https://whatsapp.com/channel/0029Va8czsoLNSZzP877bA0I">
<img src="https://i.aaj.tv/large/2025/09/041745569b68024.webp" alt="AAJ News Whatsapp" width="728" height="90"></a></p></center>
<p>علاوہ ازیں تعلیم اور آبادی کی منصوبہ بندی کے شعبے دوبارہ وفاق کے ماتحت لانے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔  اسی طرح آرٹیکل 243 میں ترمیم  سے مسلح افواج کی کمان مکمل طور پر وفاقی حکومت کے ماتحت رکھنے کی تجویز شامل  ہے۔ آرٹیکل 213 کے تحت چیف الیکشن کمشنر کے تقرر میں تبدیلی کی تجویز  بھی ڈرافٹ کا حصہ ہے۔</p>
<p>وفاقی حکومت نے 27 ویں آئینی ترامیم کا مجوزہ مسودہ پیپلزپارٹی کے حوالے کردیا ہے اور پیپلزپارٹی سے اس ترمیم کی منظوری کے لیے حمایت طلب کی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30490542</guid>
      <pubDate>Mon, 03 Nov 2025 19:51:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اقتدار انور)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/11/03210502cc476ac.gif" type="image/gif" medium="image">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/11/03210502cc476ac.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
