<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 09:09:47 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 09:09:47 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نیویارک کے ممکنہ مسلمان میئر زہران ممدانی کی مقبولیت کی وجہ کیا ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30490643/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نیویارک کے ممکنہ مسلمان میئر زہران ممدانی کے چرچے اس وقت امریکا بھر میں جاری ہیں۔ چونتیس سالہ زہران ممدانی، جو اپنی مثبت توانائی، مسکراہٹ اور عام آدمی سے جڑنے کے انداز کے لیے جانے جاتے ہیں، اب نیویارک کے سیاسی منظرنامے کا سب سے نمایاں چہرہ بن چکے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دلچسپ بات یہ ہے کہ جتنی تیزی سے وہ عوام میں مقبول ہو رہے ہیں، اتنی ہی سخت تنقید کا بھی نشانہ بن رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیویارک کے سابق گورنر اینڈریو کومو جو ان کے مقابلے میں الیکشن لڑ رہے ہیں، انہوں نے اُن پر الزام لگایا کہ “ممدانی نے کبھی کوئی بڑی ذمہ داری نہیں سنبھالی” جبکہ ارب پتی بل ایکمین نے اُنہیں “جعلی مسکراہٹ والا اداکار” قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان الزامات کے باوجود زہران ممدانی کا عوامی گراف مسلسل بلند ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;center&gt;&lt;p&gt;&lt;a href="https://whatsapp.com/channel/0029Va8czsoLNSZzP877bA0I"&gt;
&lt;img src="https://i.aaj.tv/large/2025/09/041745569b68024.webp" alt="AAJ News Whatsapp" width="728" height="90"&gt;
&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&lt;/center&gt;
&lt;p&gt;ہارورڈ انسٹیٹیوٹ آف پالیٹکس کی ایک تحقیق کے مطابق نوجوان نسل بڑی تعداد میں ممدانی کو سپورٹ کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک طالبہ کا برطانوی جریدے دی گارجیئن سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ، “اگر وہ (ممدانی) جیت گئے تو میری زندگی واقعی بہتر ہو سکتی ہے۔”&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور نوجوان نے کہا، “ممدانی اپنے مؤقف سے نہیں ہٹتے، چاہے حالات جیسے بھی ہوں۔”&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ممدانی کے حامیوں کے مطابق وہ عام سیاستدانوں سے بالکل مختلف ہیں۔ وہ شہر میں کرایوں، مہنگائی، خوراک اور عام شہریوں کے مسائل پر بات کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا مسلمان ہونا، فلسطین کے حق میں کھل کر بولنا اور تارکین وطن کے ساتھ کھڑا ہونا اُنہیں خاص طور پر کمزور طبقے میں مقبول بنا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیاسی ماہرین کے مطابق ممدانی کی اصل طاقت ان کا سچ بولنے کا انداز ہے۔ وہ وہی کہتے ہیں جو وہ سمجھتے ہیں، اور یہی سچائی اُنہیں عام امریکیوں کے دلوں کے قریب لے آئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صحافی ایسٹیڈ ہرنن کا کہنا ہے کہ “جہاں دوسرے سیاستدان ہر بات ناپ تول کر کہتے ہیں، ممدانی دل سے بولتے ہیں۔”&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30490588/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30490588"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حتیٰ کہ نیویارک کی گورنر کیتھی ہوچل، جو ابتدا میں اُن کی ناقد تھیں، انہوں نے بھی ستمبر میں ممدانی کی حمایت کر دی۔ انہوں نے کہا، “زہران اپنے ناقدین کے سامنے وقار، ہمت اور صبر سے کھڑے رہتے ہیں۔”&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیویارک جیسے مہنگے شہر میں جہاں کرائے اور اخراجات عام شہری کی پہنچ سے باہر ہوتے جا رہے ہیں، زہران ممدانی کی سادہ باتیں، انسان دوستی اور ایمانداری عوام کے لیے تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہو رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی وجہ ہے کہ تنقید کے باوجود، وہ اس وقت نیویارک کے میئر کے لیے سب سے آگے نظر آ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;pre&gt;&lt;code&gt;&lt;/code&gt;&lt;/pre&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>نیویارک کے ممکنہ مسلمان میئر زہران ممدانی کے چرچے اس وقت امریکا بھر میں جاری ہیں۔ چونتیس سالہ زہران ممدانی، جو اپنی مثبت توانائی، مسکراہٹ اور عام آدمی سے جڑنے کے انداز کے لیے جانے جاتے ہیں، اب نیویارک کے سیاسی منظرنامے کا سب سے نمایاں چہرہ بن چکے ہیں۔</strong></p>
<p>دلچسپ بات یہ ہے کہ جتنی تیزی سے وہ عوام میں مقبول ہو رہے ہیں، اتنی ہی سخت تنقید کا بھی نشانہ بن رہے ہیں۔</p>
<p>نیویارک کے سابق گورنر اینڈریو کومو جو ان کے مقابلے میں الیکشن لڑ رہے ہیں، انہوں نے اُن پر الزام لگایا کہ “ممدانی نے کبھی کوئی بڑی ذمہ داری نہیں سنبھالی” جبکہ ارب پتی بل ایکمین نے اُنہیں “جعلی مسکراہٹ والا اداکار” قرار دیا۔</p>
<p>ان الزامات کے باوجود زہران ممدانی کا عوامی گراف مسلسل بلند ہو رہا ہے۔</p>
<center><p><a href="https://whatsapp.com/channel/0029Va8czsoLNSZzP877bA0I">
<img src="https://i.aaj.tv/large/2025/09/041745569b68024.webp" alt="AAJ News Whatsapp" width="728" height="90">
</a></p></center>
<p>ہارورڈ انسٹیٹیوٹ آف پالیٹکس کی ایک تحقیق کے مطابق نوجوان نسل بڑی تعداد میں ممدانی کو سپورٹ کر رہی ہے۔</p>
<p>ایک طالبہ کا برطانوی جریدے دی گارجیئن سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ، “اگر وہ (ممدانی) جیت گئے تو میری زندگی واقعی بہتر ہو سکتی ہے۔”</p>
<p>ایک اور نوجوان نے کہا، “ممدانی اپنے مؤقف سے نہیں ہٹتے، چاہے حالات جیسے بھی ہوں۔”</p>
<p>ممدانی کے حامیوں کے مطابق وہ عام سیاستدانوں سے بالکل مختلف ہیں۔ وہ شہر میں کرایوں، مہنگائی، خوراک اور عام شہریوں کے مسائل پر بات کرتے ہیں۔</p>
<p>ان کا مسلمان ہونا، فلسطین کے حق میں کھل کر بولنا اور تارکین وطن کے ساتھ کھڑا ہونا اُنہیں خاص طور پر کمزور طبقے میں مقبول بنا رہا ہے۔</p>
<p>سیاسی ماہرین کے مطابق ممدانی کی اصل طاقت ان کا سچ بولنے کا انداز ہے۔ وہ وہی کہتے ہیں جو وہ سمجھتے ہیں، اور یہی سچائی اُنہیں عام امریکیوں کے دلوں کے قریب لے آئی ہے۔</p>
<p>صحافی ایسٹیڈ ہرنن کا کہنا ہے کہ “جہاں دوسرے سیاستدان ہر بات ناپ تول کر کہتے ہیں، ممدانی دل سے بولتے ہیں۔”</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30490588/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30490588"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>حتیٰ کہ نیویارک کی گورنر کیتھی ہوچل، جو ابتدا میں اُن کی ناقد تھیں، انہوں نے بھی ستمبر میں ممدانی کی حمایت کر دی۔ انہوں نے کہا، “زہران اپنے ناقدین کے سامنے وقار، ہمت اور صبر سے کھڑے رہتے ہیں۔”</p>
<p>نیویارک جیسے مہنگے شہر میں جہاں کرائے اور اخراجات عام شہری کی پہنچ سے باہر ہوتے جا رہے ہیں، زہران ممدانی کی سادہ باتیں، انسان دوستی اور ایمانداری عوام کے لیے تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہو رہی ہیں۔</p>
<p>یہی وجہ ہے کہ تنقید کے باوجود، وہ اس وقت نیویارک کے میئر کے لیے سب سے آگے نظر آ رہے ہیں۔</p>
<pre><code></code></pre>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30490643</guid>
      <pubDate>Thu, 06 Nov 2025 19:46:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/11/04140531e6cb269.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/11/04140531e6cb269.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
