<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 22:10:10 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 22:10:10 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>انڈونیشیا: نمازِ جمعہ کے دوران مسجد میں دھماکا، 54 افراد زخمی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30491196/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں ایک اسکول کمپلیکس کے اندر واقع مسجد میں جمعہ کی نماز کے دوران دھماکہ ہوا، جس کے نتیجے میں درجنوں افراد زخمی ہوگئے۔ پولیس کے مطابق کم از کم 54 افراد کو مختلف اسپتالوں میں داخل کیا گیا ہے، جن میں کچھ کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/world/asia-pacific/explosion-school-complex-indonesias-jakarta-local-media-reports-2025-11-07/"&gt;رائٹرز&lt;/a&gt; کے مطابق پولیس چیف ایسپ ایڈی سہیری نے ایک ٹیلی وژن بریفنگ میں بتایا کہ دھماکے کی تحقیقات جاری ہیں اور ماہرین جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر رہے ہیں۔ دھماکہ شمالی جکارتہ کے کیلاپا گاڈنگ علاقے میں ایک نیوی کمپاؤنڈ کے اندر واقع مسجد میں پیش آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زخمیوں میں نمازی، بچے اور اساتذہ شامل ہیں، جنہیں قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ سہیری کے مطابق زخمیوں کو جلنے سمیت مختلف نوعیت کی چوٹیں آئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;center&gt;&lt;p&gt;&lt;a href="https://whatsapp.com/channel/0029Va8czsoLNSZzP877bA0I"&gt;
&lt;img src="https://i.aaj.tv/large/2025/09/041745569b68024.webp" alt="AAJ News Whatsapp" width="728" height="90"&gt;
&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&lt;/center&gt;
&lt;p&gt;دھماکے کے بعد فوج کے انجینئرنگ یونٹ کے اہلکار دھماکہ خیز مواد کی جانچ کے آلات کے ساتھ جائے وقوعہ پر پہنچے۔ پولیس نے مسجد اور اطراف کے علاقے کو سیل کر کے فرانزک معائنہ شروع کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابھی تک دھماکے کی نوعیت یا اس کے محرکات کی تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں ایک اسکول کمپلیکس کے اندر واقع مسجد میں جمعہ کی نماز کے دوران دھماکہ ہوا، جس کے نتیجے میں درجنوں افراد زخمی ہوگئے۔ پولیس کے مطابق کم از کم 54 افراد کو مختلف اسپتالوں میں داخل کیا گیا ہے، جن میں کچھ کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔</strong></p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/world/asia-pacific/explosion-school-complex-indonesias-jakarta-local-media-reports-2025-11-07/">رائٹرز</a> کے مطابق پولیس چیف ایسپ ایڈی سہیری نے ایک ٹیلی وژن بریفنگ میں بتایا کہ دھماکے کی تحقیقات جاری ہیں اور ماہرین جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر رہے ہیں۔ دھماکہ شمالی جکارتہ کے کیلاپا گاڈنگ علاقے میں ایک نیوی کمپاؤنڈ کے اندر واقع مسجد میں پیش آیا۔</p>
<p>زخمیوں میں نمازی، بچے اور اساتذہ شامل ہیں، جنہیں قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ سہیری کے مطابق زخمیوں کو جلنے سمیت مختلف نوعیت کی چوٹیں آئیں۔</p>
<center><p><a href="https://whatsapp.com/channel/0029Va8czsoLNSZzP877bA0I">
<img src="https://i.aaj.tv/large/2025/09/041745569b68024.webp" alt="AAJ News Whatsapp" width="728" height="90">
</a></p></center>
<p>دھماکے کے بعد فوج کے انجینئرنگ یونٹ کے اہلکار دھماکہ خیز مواد کی جانچ کے آلات کے ساتھ جائے وقوعہ پر پہنچے۔ پولیس نے مسجد اور اطراف کے علاقے کو سیل کر کے فرانزک معائنہ شروع کر دیا ہے۔</p>
<p>ابھی تک دھماکے کی نوعیت یا اس کے محرکات کی تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30491196</guid>
      <pubDate>Fri, 07 Nov 2025 14:50:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/11/07143209799b368.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/11/07143209799b368.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
