<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 01 May 2026 09:16:20 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 01 May 2026 09:16:20 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت کا تیجس طیاروں کے لیے امریکا سے 113 انجنوں کا معاہدہ ہوگیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30491308/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارت کی ریاستی کمپنی ہندستان ایرو اسپیس لمیٹڈ (HAL) نے امریکی کمپنی جی ای ایرو اسپیس کے ساتھ ایک بڑا معاہدہ کر کے 113 جیٹ انجن خریدنے کا اعلان کیا ہے، تاکہ اپنے دیسی طیارے تیجس (Tejas) کو طاقت فراہم کی جا سکے۔ یہ معاہدہ 2027 سے شروع ہو کر 2032 تک مکمل ہوگا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیجس ایک سنگل انجن، ملٹی رول فائٹر ہے، جسے بھارت کے فضائی دفاع، سمندری نگرانی اور حملہ آور مشنز کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ مگر یہ طیارہ جسے بھارت اور پاکستان میں طنزیہ طور پر “فلائنگ سموسہ” کہا جاتا ہے، کئی برسوں سے پیداوار میں تاخیر اور تکنیکی مسائل کا شکار رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیجس ایم کے ون اے کی پہلی پرواز 17 اکتوبر کو مہاراشٹرا کے شہر ناسک میں ہوئی، بھارت نے 2021 میں 99 انجن آرڈر کیے تھے، جن میں سے صرف چار اب تک پہنچ سکے ہیں۔ جی ای نے کووڈ کے بعد سپلائی چین میں مشکلات کا بہانہ بنایا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30484290'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30484290"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت کی فضائیہ کے لیے یہ طیارے بہت اہم سمجھے جاتے ہیں کیونکہ پرانے مگ 21 اسکواڈرنز کی جگہ لینے کے لیے 97 ایم کے ون اے فائٹرز کی خریداری کی گئی ہے۔ اس کے باوجود، انجنوں کی کمی اور پیداوار میں تاخیر نے بھارت کی فضائی قوت کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;center&gt;&lt;p&gt;&lt;a href="https://whatsapp.com/channel/0029Va8czsoLNSZzP877bA0I"&gt;
&lt;img src="https://i.aaj.tv/large/2025/09/041745569b68024.webp" alt="AAJ News Whatsapp" width="728" height="90"&gt;&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&lt;/center&gt;
&lt;p&gt;تیجس کو بھارتی میڈیا نے “فلائنگ سموسہ” اس لیے کہا کیونکہ اس کا ڈیزائن انتہائی چھوٹا اور محدود طاقت والا ہے، اور اکثر نااہل یا غیر عملی ڈیزائن کے باعث اس پر عالمی سطح پر طنز کیا جاتا ہے۔ بھارت کی یہ کوشش کہ یہ طیارہ چین کی بڑھتی فوجی طاقت اور پاکستان کے خلاف مؤثر ثابت ہو، اب تک کامیاب نہیں ہوسکی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30462590'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30462590"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ ”ہال“ کی یہ سرمایہ کاری اور امریکی انجنوں کی خریداری بھارت کے دفاعی نظام کی کمزوری کو چھپانے کی کوشش ہے۔ بھارت خود بھی تسلیم کرتا ہے کہ تیجس کے انجنوں کی کمی اور پیداوار میں مسلسل تاخیر نے طیارے کی عملی تیاری اور تعیناتی میں مشکلات پیدا کی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حالیہ معاہدہ اس بات کی علامت ہے کہ بھارت کا اپنے فوجی منصوبوں میں خود انحصاری کا دعویٰ محض دعویٰ ہی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارت کی ریاستی کمپنی ہندستان ایرو اسپیس لمیٹڈ (HAL) نے امریکی کمپنی جی ای ایرو اسپیس کے ساتھ ایک بڑا معاہدہ کر کے 113 جیٹ انجن خریدنے کا اعلان کیا ہے، تاکہ اپنے دیسی طیارے تیجس (Tejas) کو طاقت فراہم کی جا سکے۔ یہ معاہدہ 2027 سے شروع ہو کر 2032 تک مکمل ہوگا۔</strong></p>
<p>تیجس ایک سنگل انجن، ملٹی رول فائٹر ہے، جسے بھارت کے فضائی دفاع، سمندری نگرانی اور حملہ آور مشنز کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ مگر یہ طیارہ جسے بھارت اور پاکستان میں طنزیہ طور پر “فلائنگ سموسہ” کہا جاتا ہے، کئی برسوں سے پیداوار میں تاخیر اور تکنیکی مسائل کا شکار رہا ہے۔</p>
<p>تیجس ایم کے ون اے کی پہلی پرواز 17 اکتوبر کو مہاراشٹرا کے شہر ناسک میں ہوئی، بھارت نے 2021 میں 99 انجن آرڈر کیے تھے، جن میں سے صرف چار اب تک پہنچ سکے ہیں۔ جی ای نے کووڈ کے بعد سپلائی چین میں مشکلات کا بہانہ بنایا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30484290'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30484290"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>بھارت کی فضائیہ کے لیے یہ طیارے بہت اہم سمجھے جاتے ہیں کیونکہ پرانے مگ 21 اسکواڈرنز کی جگہ لینے کے لیے 97 ایم کے ون اے فائٹرز کی خریداری کی گئی ہے۔ اس کے باوجود، انجنوں کی کمی اور پیداوار میں تاخیر نے بھارت کی فضائی قوت کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔</p>
<center><p><a href="https://whatsapp.com/channel/0029Va8czsoLNSZzP877bA0I">
<img src="https://i.aaj.tv/large/2025/09/041745569b68024.webp" alt="AAJ News Whatsapp" width="728" height="90"></a></p></center>
<p>تیجس کو بھارتی میڈیا نے “فلائنگ سموسہ” اس لیے کہا کیونکہ اس کا ڈیزائن انتہائی چھوٹا اور محدود طاقت والا ہے، اور اکثر نااہل یا غیر عملی ڈیزائن کے باعث اس پر عالمی سطح پر طنز کیا جاتا ہے۔ بھارت کی یہ کوشش کہ یہ طیارہ چین کی بڑھتی فوجی طاقت اور پاکستان کے خلاف مؤثر ثابت ہو، اب تک کامیاب نہیں ہوسکی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30462590'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30462590"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ ”ہال“ کی یہ سرمایہ کاری اور امریکی انجنوں کی خریداری بھارت کے دفاعی نظام کی کمزوری کو چھپانے کی کوشش ہے۔ بھارت خود بھی تسلیم کرتا ہے کہ تیجس کے انجنوں کی کمی اور پیداوار میں مسلسل تاخیر نے طیارے کی عملی تیاری اور تعیناتی میں مشکلات پیدا کی ہیں۔</p>
<p>حالیہ معاہدہ اس بات کی علامت ہے کہ بھارت کا اپنے فوجی منصوبوں میں خود انحصاری کا دعویٰ محض دعویٰ ہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30491308</guid>
      <pubDate>Sat, 08 Nov 2025 10:57:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/11/0810472942fa389.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/11/0810472942fa389.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
