<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 12 May 2026 07:50:06 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 12 May 2026 07:50:06 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ملائیشیا: تارکینِ وطن کی کشتی ڈوب گئی، سیکڑوں افراد لاپتا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30491488/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ملائیشیا اور تھائی لینڈ کی سمندری سرحد کے قریب ایک تارکینِ وطن کشتی ڈوب گئی، سیکڑوں افراد لاپتا ہوگئے۔ کشتی میں تقریباً 300 افراد سوار تھے جن میں سے صرف 10 کو زندہ بچایا گیا ہے، جبکہ ایک خاتون کی لاش ملی ہے۔ درجنوں افراد تاحال لاپتا ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملائیشین سمندری حکام کے مطابق اتوار کے روز تھائی لینڈ اور ملائیشیا کی سرحد کے قریب تارکینِ وطن سے بھری کشتی ڈوب گئی جس کے بعد سیکڑوں افراد لاپتا ہیں۔ اب تک 10 افراد کو زندہ بچا لیا گیا ہے جبکہ ایک روہنگیا خاتون کی لاش ملی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;center&gt;&lt;p&gt;&lt;a href="https://whatsapp.com/channel/0029Va8czsoLNSZzP877bA0I"&gt;
&lt;img src="https://i.aaj.tv/large/2025/09/041745569b68024.webp" alt="AAJ News Whatsapp" width="728" height="90"&gt;&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&lt;/center&gt;
&lt;p&gt;ملائیشیا کی ریاستوں قداح اور  پرلیس کے سمندری اتھارٹی کے سربراہ ایڈمرل روملی مصطفیٰ نے بتایا کہ کشتی تین روز قبل میانمار کے علاقے بوٹھی داونگ سے روانہ ہوئی تھی، جس پر تقریباً 300 افراد سوار تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30488568/"&gt;یورپ جانیوالے تارکین وطن کی کشتی ڈوب گئی، 40 افراد ہلاک&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کے مطابق زندہ بچ جانے والوں میں تین میانماری، دو روہنگیا اور ایک بنگلہ دیشی باشندہ شامل ہیں۔ ریاستی خبر رساں ادارے برناما نے قداح کے پولیس چیف عزلِی ابو شاہ کے حوالے سے بتایا کہ تمام مسافر ملائیشیا کی جانب جا رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30432427/"&gt;یونان کے قریب ایک اور کشتی سمندر برد، 71 افراد ڈوب گئے، تارکین وطن میں 23 پاکستانی بھی شامل&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ جب بڑی کشتی ملائیشیا-تھائی لینڈ سرحد کے قریب پہنچی تو اسمگلروں نے حکام کی نظروں سے بچنے کے لیے مسافروں کو تین چھوٹی کشتیوں میں منتقل کر دیا، جن میں ہر کشتی پر تقریباً 100 افراد سوار تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30341410'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30341410"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابھی تک دیگر دو کشتیوں کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں مل سکی ہے، اور تلاش اور امدادی کارروائیاں سمندر میں جاری ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کا کہنا ہے کہ روہنگیا اور دیگر تارکینِ وطن اکثر خطرناک سمندری راستے اختیار کر کے میانمار سے فرار ہونے کی کوشش کرتے ہیں، جہاں انہیں شہریت سے محرومی، امتیازی سلوک اور ظلم و جبر کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ملائیشیا اور تھائی لینڈ کی سمندری سرحد کے قریب ایک تارکینِ وطن کشتی ڈوب گئی، سیکڑوں افراد لاپتا ہوگئے۔ کشتی میں تقریباً 300 افراد سوار تھے جن میں سے صرف 10 کو زندہ بچایا گیا ہے، جبکہ ایک خاتون کی لاش ملی ہے۔ درجنوں افراد تاحال لاپتا ہیں۔</strong></p>
<p>ملائیشین سمندری حکام کے مطابق اتوار کے روز تھائی لینڈ اور ملائیشیا کی سرحد کے قریب تارکینِ وطن سے بھری کشتی ڈوب گئی جس کے بعد سیکڑوں افراد لاپتا ہیں۔ اب تک 10 افراد کو زندہ بچا لیا گیا ہے جبکہ ایک روہنگیا خاتون کی لاش ملی ہے۔</p>
<center><p><a href="https://whatsapp.com/channel/0029Va8czsoLNSZzP877bA0I">
<img src="https://i.aaj.tv/large/2025/09/041745569b68024.webp" alt="AAJ News Whatsapp" width="728" height="90"></a></p></center>
<p>ملائیشیا کی ریاستوں قداح اور  پرلیس کے سمندری اتھارٹی کے سربراہ ایڈمرل روملی مصطفیٰ نے بتایا کہ کشتی تین روز قبل میانمار کے علاقے بوٹھی داونگ سے روانہ ہوئی تھی، جس پر تقریباً 300 افراد سوار تھے۔</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30488568/">یورپ جانیوالے تارکین وطن کی کشتی ڈوب گئی، 40 افراد ہلاک</a></p>
<p>حکام کے مطابق زندہ بچ جانے والوں میں تین میانماری، دو روہنگیا اور ایک بنگلہ دیشی باشندہ شامل ہیں۔ ریاستی خبر رساں ادارے برناما نے قداح کے پولیس چیف عزلِی ابو شاہ کے حوالے سے بتایا کہ تمام مسافر ملائیشیا کی جانب جا رہے تھے۔</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30432427/">یونان کے قریب ایک اور کشتی سمندر برد، 71 افراد ڈوب گئے، تارکین وطن میں 23 پاکستانی بھی شامل</a></p>
<p>ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ جب بڑی کشتی ملائیشیا-تھائی لینڈ سرحد کے قریب پہنچی تو اسمگلروں نے حکام کی نظروں سے بچنے کے لیے مسافروں کو تین چھوٹی کشتیوں میں منتقل کر دیا، جن میں ہر کشتی پر تقریباً 100 افراد سوار تھے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30341410'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30341410"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ابھی تک دیگر دو کشتیوں کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں مل سکی ہے، اور تلاش اور امدادی کارروائیاں سمندر میں جاری ہیں۔</p>
<p>حکام کا کہنا ہے کہ روہنگیا اور دیگر تارکینِ وطن اکثر خطرناک سمندری راستے اختیار کر کے میانمار سے فرار ہونے کی کوشش کرتے ہیں، جہاں انہیں شہریت سے محرومی، امتیازی سلوک اور ظلم و جبر کا سامنا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30491488</guid>
      <pubDate>Sun, 09 Nov 2025 14:59:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/11/0914515925d5abb.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/11/0914515925d5abb.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
