<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 19:59:55 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 19:59:55 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دہلی دھماکا: بھارت کی الزام تراشی پر ترکیہ کا سخت ردعمل</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30492095/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارتی دارالحکومت دہلی میں پیر کے روز ہونے والے لال قلعہ دھماکے کے بعد بھارت کے کئی میڈیا اداروں نے اپنی رپورٹوں میں ترکیہ کو نشانہ بنانا شروع کردیا ہے۔ بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ دھماکے میں ملوث ملزمان کو ترکیہ سے لاجسٹک سپورٹ فراہم کی گئی، اور ان کے غیرملکی روابط انقرہ تک پہنچتے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی خبر رساں ادارے ”انڈیا ٹوڈے“ نے اپنی &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.indiatoday.in/india/story/red-fort-blast-handler-ukasa-traced-to-ankara-linked-to-faridabad-module-glbs-2818502-2025-11-13"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt; میں دعویٰ کیا کہ تحقیقاتی اداروں نے گرفتار ملزمان اور ایک غیرملکی ”ہینڈلر“ کے درمیان تعلقات کا سراغ لگایا ہے، جو مبینہ طور پر ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ سے کارروائیوں کی نگرانی کرتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انڈیا ٹوڈے نے پولیس ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس ہینڈلر کا کوڈ نیم ”عکاسہ“  تھا، جس کے عربی میں معنی ”مکڑی“ ہیں۔ تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ عکاسہ ممکنہ طور پر ایک فرضی نام ہے، جو اصل شناخت چھپانے کے لیے استعمال کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30491953/"&gt;بھارتی اینکر ارنب گوسوامی کا مسلمانوں اور کشمیری رہنماؤں کے خلاف نفرت انگیز بیان&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی حکام کا دعویٰ ہے کہ عکاسہ براہِ راست مبینہ مرکزی ملزم ڈاکٹر عمر ان نبی اور اس کے ساتھیوں سے رابطے میں تھا۔ یہ رابطہ ”سیشن“ نامی خفیہ میسجنگ ایپ کے ذریعے کیا گیا، جو نگرانی سے بچنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید دعویٰ کیا گیا کہ تحقیقات کے مطابق، عکاسہ نے نہ صرف گروہ کی نقل و حرکت بلکہ مالی معاملات اور نظریاتی رہنمائی میں بھی کردار ادا کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی میڈیا کے مطابق، فریدآباد کے ایک مبینہ دہشت گرد نیٹ ورک کے چند افراد مارچ 2022 میں انقرہ گئے تھے، جہاں ان کی ملاقات اس ہینڈلر سے ہوئی۔ بعد ازاں، وہی افراد بھارت واپس آکر ”ڈاکٹر ماڈیول“ کا حصہ بن گئے، جو تعلیم یافتہ نوجوانوں پر مشتمل گروہ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی ایجنسیاں اب ان ملزمان کے موبائل، چیٹ ہسٹری، کال لاگز اور ڈیجیٹل شواہد کا جائزہ لے رہی ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ اس نیٹ ورک کے پاکستان سے تعلقات تھے یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30491739/"&gt;بھارتی میڈیا کی پاکستان مخالف مہم، فالس فلیگ آپریشن کا ایک اور مکروہ کھیل بے نقاب&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، نئی دہلی میں ترک سفارت خانے نے ان بھارتی الزامات کو سختی سے مسترد کردیا ہے۔ اپنے باضابطہ بیان میں ترک سفارتخانے نے کہا کہ “بھارت کے بعض میڈیا ادارے بدنیتی پر مبنی جھوٹی رپورٹس چلا رہے ہیں، جن میں ترکیہ کو دہشت گرد گروہوں کی مالی اور سفارتی مدد دینے والا ملک قرار دیا جا رہا ہے۔”&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/TC_YeniDelhiBE/status/1988627623161868671'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/TC_YeniDelhiBE/status/1988627623161868671"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سفارت خانے نے واضح کیا کہ ترکیہ دہشت گردی کی ہر شکل کی سخت مذمت کرتا ہے اور عالمی برادری کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے بے بنیاد الزامات کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو خراب کرنا اور ترکیے کے عالمی تشخص کو نقصان پہنچانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30491945/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30491945"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترک سفارت خانے نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ بھارتی میڈیا کی جھوٹی اور گمراہ کن خبروں پر یقین نہ کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انقرہ نے باور کرایا کہ ”ترکیہ امن، استحکام اور انسدادِ دہشت گردی کے لیے کام کر رہا ہے، نہ کہ کسی ملک کے خلاف۔“&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارتی دارالحکومت دہلی میں پیر کے روز ہونے والے لال قلعہ دھماکے کے بعد بھارت کے کئی میڈیا اداروں نے اپنی رپورٹوں میں ترکیہ کو نشانہ بنانا شروع کردیا ہے۔ بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ دھماکے میں ملوث ملزمان کو ترکیہ سے لاجسٹک سپورٹ فراہم کی گئی، اور ان کے غیرملکی روابط انقرہ تک پہنچتے ہیں۔</strong></p>
<p>بھارتی خبر رساں ادارے ”انڈیا ٹوڈے“ نے اپنی <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.indiatoday.in/india/story/red-fort-blast-handler-ukasa-traced-to-ankara-linked-to-faridabad-module-glbs-2818502-2025-11-13">رپورٹ</a> میں دعویٰ کیا کہ تحقیقاتی اداروں نے گرفتار ملزمان اور ایک غیرملکی ”ہینڈلر“ کے درمیان تعلقات کا سراغ لگایا ہے، جو مبینہ طور پر ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ سے کارروائیوں کی نگرانی کرتا تھا۔</p>
<p>انڈیا ٹوڈے نے پولیس ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس ہینڈلر کا کوڈ نیم ”عکاسہ“  تھا، جس کے عربی میں معنی ”مکڑی“ ہیں۔ تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ عکاسہ ممکنہ طور پر ایک فرضی نام ہے، جو اصل شناخت چھپانے کے لیے استعمال کیا گیا۔</p>
<p><strong><a href="https://www.aaj.tv/news/30491953/">بھارتی اینکر ارنب گوسوامی کا مسلمانوں اور کشمیری رہنماؤں کے خلاف نفرت انگیز بیان</a></strong></p>
<p>بھارتی حکام کا دعویٰ ہے کہ عکاسہ براہِ راست مبینہ مرکزی ملزم ڈاکٹر عمر ان نبی اور اس کے ساتھیوں سے رابطے میں تھا۔ یہ رابطہ ”سیشن“ نامی خفیہ میسجنگ ایپ کے ذریعے کیا گیا، جو نگرانی سے بچنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔</p>
<p>مزید دعویٰ کیا گیا کہ تحقیقات کے مطابق، عکاسہ نے نہ صرف گروہ کی نقل و حرکت بلکہ مالی معاملات اور نظریاتی رہنمائی میں بھی کردار ادا کیا۔</p>
<p>بھارتی میڈیا کے مطابق، فریدآباد کے ایک مبینہ دہشت گرد نیٹ ورک کے چند افراد مارچ 2022 میں انقرہ گئے تھے، جہاں ان کی ملاقات اس ہینڈلر سے ہوئی۔ بعد ازاں، وہی افراد بھارت واپس آکر ”ڈاکٹر ماڈیول“ کا حصہ بن گئے، جو تعلیم یافتہ نوجوانوں پر مشتمل گروہ تھا۔</p>
<p>بھارتی ایجنسیاں اب ان ملزمان کے موبائل، چیٹ ہسٹری، کال لاگز اور ڈیجیٹل شواہد کا جائزہ لے رہی ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ اس نیٹ ورک کے پاکستان سے تعلقات تھے یا نہیں۔</p>
<p><strong><a href="https://www.aaj.tv/news/30491739/">بھارتی میڈیا کی پاکستان مخالف مہم، فالس فلیگ آپریشن کا ایک اور مکروہ کھیل بے نقاب</a></strong></p>
<p>تاہم، نئی دہلی میں ترک سفارت خانے نے ان بھارتی الزامات کو سختی سے مسترد کردیا ہے۔ اپنے باضابطہ بیان میں ترک سفارتخانے نے کہا کہ “بھارت کے بعض میڈیا ادارے بدنیتی پر مبنی جھوٹی رپورٹس چلا رہے ہیں، جن میں ترکیہ کو دہشت گرد گروہوں کی مالی اور سفارتی مدد دینے والا ملک قرار دیا جا رہا ہے۔”</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/TC_YeniDelhiBE/status/1988627623161868671'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/TC_YeniDelhiBE/status/1988627623161868671"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>سفارت خانے نے واضح کیا کہ ترکیہ دہشت گردی کی ہر شکل کی سخت مذمت کرتا ہے اور عالمی برادری کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے بے بنیاد الزامات کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو خراب کرنا اور ترکیے کے عالمی تشخص کو نقصان پہنچانا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30491945/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30491945"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ترک سفارت خانے نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ بھارتی میڈیا کی جھوٹی اور گمراہ کن خبروں پر یقین نہ کریں۔</p>
<p>انقرہ نے باور کرایا کہ ”ترکیہ امن، استحکام اور انسدادِ دہشت گردی کے لیے کام کر رہا ہے، نہ کہ کسی ملک کے خلاف۔“</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30492095</guid>
      <pubDate>Thu, 13 Nov 2025 09:36:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/11/13093151fb5c965.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/11/13093151fb5c965.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
