<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Technology</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 22:45:04 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 22:45:04 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایلون مسک نے ’گروک پیڈیا‘ کا نام بدلنے کی تیاری شروع کردی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30492287/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایلون مسک نے ایکس (سابقہ ٹویٹر)  پر ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ مستقبل میں ’گروک پیڈیا‘ کا نام تبدیل کردیا جائے گا۔ یہ منصوبہ ایک اوپن سورس پلیٹ فارم ہوگا جو تمام علوم کا مجموعہ بنے گا، جس میں تحریری مواد کے علاوہ آڈیو، تصاویر اور ویڈیوز بھی شامل ہوں گے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مسک نے اس پروجیکٹ کو مستقبل کے ”لائبریری آف الیگژینڈریا“ کے طور پر دیکھتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ’ایکس اے آئی‘ کے ساتھ مل کر اس پر خاص توجہ رکھیں گے، اور ایک سائنس فکشن طرز کی ڈیجیٹل لائبریری بنانے میں مدد کریں گے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ’گروک پیڈیا‘  ایک وسیع پیمانے پر ہر قسم کے علم کو شامل کرنے والا پلیٹ فارم ہوگا جو مستقبل میں ’انسائیکلوپیڈیا گیلیکٹیکا‘ کے طور پر جانا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/elonmusk/status/1988989628951695448?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/elonmusk/status/1988989628951695448?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;”لائبریری آف الیگژینڈریا“ دراصل دنیا کی قدیم ترین اور عظیم لائبریری تھی، جو مصر کے شہر الیگژینڈریا میں تقریباً ۳۰۰ قبل مسیح میں قائم ہوئی۔ اس کا مقصد تمام انسانی علم کو جمع کرنا اور محفوظ رکھنا تھا۔ یہاں کتابیں، رسالے اور مختلف علوم جیسے فلسفہ، سائنس، تاریخ اور ادب کے مواد جمع کیے جاتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ اس میں یونانی، مصری اور دیگر تہذیبوں کے علمی اور ادبی کام شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30491184/"&gt;ایلون مسک کے پاس ’دنیا کا پہلا ٹریلینیئر‘ بننے کا موقع&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدقسمتی سے لائبریری آف الیگژینڈریا تباہ ہو گئی اور اس کا بہت سا قیمتی مواد ضائع ہو گیا۔ تاریخ میں اس تباہی کو انسانی علم کے نقصان کی ایک بڑی مثال کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ آج بھی یہ لائبریری دنیا بھر میں علم کے تحفظ اور تعلیم کی اہمیت کی علامت کے طور پر یاد کی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مگر جدید دور میں مصر میں اسی نام سے ایک جدید لائبریری ”بِبلیو تھیکا الیگژینڈرینا“ قائم کی گئی ہے جو قدیم لائبریری کی یاد میں بنائی گئی ہے۔ یہ لائبریری جدید طرز کی ہے اور دنیا بھر کے علمی مواد کو ڈیجیٹل اور فزیکل فارمیٹ میں محفوظ اور عام کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔ اس کا مقصد پرانی لائبریری کی عظمت کو دوبارہ زندہ کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;center&gt;&lt;p&gt;&lt;a href="https://whatsapp.com/channel/0029Va8czsoLNSZzP877bA0I"&gt;
&lt;img src="https://i.aaj.tv/large/2025/09/041745569b68024.webp" alt="AAJ News Whatsapp" width="728" height="90"&gt;
&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&lt;/center&gt;
&lt;p&gt;ایلون مسک نے لائبریری آف الیگژینڈریا کی مثال کے ساتھ کہا کہ تمام  اہم علم کو محفوظ بنانے کے لیے جدید اور دیرپا طریقے اپنائے جائیں گے، جیسے اہم معلومات کو پتھروں میں کندہ کر کے چاند، مریخ، اور دیگر سیاروں پر بھی محفوظ کیا جائے گا تاکہ انسانی علم کو ہمیشہ کے لیے محفوظ رکھا جا سکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایلون مسک نے ایکس (سابقہ ٹویٹر)  پر ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ مستقبل میں ’گروک پیڈیا‘ کا نام تبدیل کردیا جائے گا۔ یہ منصوبہ ایک اوپن سورس پلیٹ فارم ہوگا جو تمام علوم کا مجموعہ بنے گا، جس میں تحریری مواد کے علاوہ آڈیو، تصاویر اور ویڈیوز بھی شامل ہوں گے۔</strong></p>
<p>مسک نے اس پروجیکٹ کو مستقبل کے ”لائبریری آف الیگژینڈریا“ کے طور پر دیکھتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ’ایکس اے آئی‘ کے ساتھ مل کر اس پر خاص توجہ رکھیں گے، اور ایک سائنس فکشن طرز کی ڈیجیٹل لائبریری بنانے میں مدد کریں گے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ’گروک پیڈیا‘  ایک وسیع پیمانے پر ہر قسم کے علم کو شامل کرنے والا پلیٹ فارم ہوگا جو مستقبل میں ’انسائیکلوپیڈیا گیلیکٹیکا‘ کے طور پر جانا جائے گا۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/elonmusk/status/1988989628951695448?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/elonmusk/status/1988989628951695448?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>”لائبریری آف الیگژینڈریا“ دراصل دنیا کی قدیم ترین اور عظیم لائبریری تھی، جو مصر کے شہر الیگژینڈریا میں تقریباً ۳۰۰ قبل مسیح میں قائم ہوئی۔ اس کا مقصد تمام انسانی علم کو جمع کرنا اور محفوظ رکھنا تھا۔ یہاں کتابیں، رسالے اور مختلف علوم جیسے فلسفہ، سائنس، تاریخ اور ادب کے مواد جمع کیے جاتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ اس میں یونانی، مصری اور دیگر تہذیبوں کے علمی اور ادبی کام شامل تھے۔</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30491184/">ایلون مسک کے پاس ’دنیا کا پہلا ٹریلینیئر‘ بننے کا موقع</a></p>
<p>بدقسمتی سے لائبریری آف الیگژینڈریا تباہ ہو گئی اور اس کا بہت سا قیمتی مواد ضائع ہو گیا۔ تاریخ میں اس تباہی کو انسانی علم کے نقصان کی ایک بڑی مثال کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ آج بھی یہ لائبریری دنیا بھر میں علم کے تحفظ اور تعلیم کی اہمیت کی علامت کے طور پر یاد کی جاتی ہے۔</p>
<p>مگر جدید دور میں مصر میں اسی نام سے ایک جدید لائبریری ”بِبلیو تھیکا الیگژینڈرینا“ قائم کی گئی ہے جو قدیم لائبریری کی یاد میں بنائی گئی ہے۔ یہ لائبریری جدید طرز کی ہے اور دنیا بھر کے علمی مواد کو ڈیجیٹل اور فزیکل فارمیٹ میں محفوظ اور عام کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔ اس کا مقصد پرانی لائبریری کی عظمت کو دوبارہ زندہ کرنا ہے۔</p>
<center><p><a href="https://whatsapp.com/channel/0029Va8czsoLNSZzP877bA0I">
<img src="https://i.aaj.tv/large/2025/09/041745569b68024.webp" alt="AAJ News Whatsapp" width="728" height="90">
</a></p></center>
<p>ایلون مسک نے لائبریری آف الیگژینڈریا کی مثال کے ساتھ کہا کہ تمام  اہم علم کو محفوظ بنانے کے لیے جدید اور دیرپا طریقے اپنائے جائیں گے، جیسے اہم معلومات کو پتھروں میں کندہ کر کے چاند، مریخ، اور دیگر سیاروں پر بھی محفوظ کیا جائے گا تاکہ انسانی علم کو ہمیشہ کے لیے محفوظ رکھا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30492287</guid>
      <pubDate>Fri, 14 Nov 2025 11:57:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/11/141134230fe0fcc.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/11/141134230fe0fcc.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
