<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 01:20:10 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 01:20:10 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جنوبی افریقہ میں بِنا اجازت فلسطینیوں سے بھرے جہاز کی آمد، تحقیقات شروع</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30492507/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جنوبی افریقا کے صدر سیرل رامافوسا نے اعلان کیا ہے کہ غزہ سے 153 فلسطینیوں کو لے کر جوہانسبرگ آنے والے چارٹرڈ طیارے کی پراسرار آمد کی تحقیقات کی جائیں گی، جو ابتدائی طور پر دستاویزات نہ ہونے کے باعث گھنٹوں تک طیارے میں پھنسے رہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.bbc.com/news/articles/c3dn3g4jdxjo"&gt;بی بی سی&lt;/a&gt; کے مطابق غزہ سے تعلق رکھنے والے 153 فلسطینیوں کا ایک گروہ جوہانسبرگ کے ایئرپورٹ پہنچا۔ مسافروں کے پاسپورٹس پر وہ اسٹیمپس موجود نہیں تھے  جو عموماً غزہ چھوڑنے والوں کو اسرائیلی حکام کی جانب سے جاری کیے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی بنیاد پر ایئرپورٹ حکام نے مسافروں کو جنوبی افریقا میں داخلے سے روک دیا، جس کی وجہ سے یہ افراد 10 گھنٹے سے زائد طیارے میں ہی موجود رہے۔ بعدازاں مقامی این جی او کی مداخلت اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر حکومت نے ان میں سے زیادہ تر افراد کو ملک میں داخلے کی اجازت دے دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کا کہنا ہے کہ 153 میں سے 23 افراد دوسرے ممالک روانہ ہو گئے جبکہ 130 افراد کو جنوبی افریقا میں ہی موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;center&gt;&lt;p&gt;&lt;a href="https://whatsapp.com/channel/0029Va8czsoLNSZzP877bA0I"&gt;
&lt;img src="https://i.aaj.tv/large/2025/09/041745569b68024.webp" alt="AAJ News Whatsapp" width="728" height="90"&gt;
&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&lt;/center&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30491967/"&gt;غزہ امن معاہدہ ٹوٹنے کا امکان، خفیہ امریکی رپورٹ میں انکشاف&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوبی افریقی صدر کا اس معاملے پر کہنا تھا کہ اُنہیں وزیرِ داخلہ نے صورتحال سے آگاہ کیا ہے مگر ہم ان مسافروں کو واپس نہیں بھیج سکتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/CyrilRamaphosa/status/1989328415229358448'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/CyrilRamaphosa/status/1989328415229358448"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غزہ کی سرحدی گزرگاہوں کی نگرانی کرنے والے اسرائیلی محکمے کوگارٹ (Cogat) نے اپنے بیان میں کہا کہ فلسطینی باشندوں کو اس وقت نکلنے کی اجازت دی گئی جب کسی تیسرے ملک نے انہیں قبول کرنے کا فیصلہ کیا تاہم اس ملک کا نام نہیں بتایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوبی افریقا میں فلسطینی سفارتخانے کے مطابق یہ گروہ اسرائیل کے ریمون ایئرپورٹ سے نیروبی کے راستے جنوبی افریقا پہنچا اور اس سفر کے لیے اُن سے پیشگی اطلاع یا رابطہ نہیں کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سفارتخانے کے مطابق ایک ’غیر رجسٹرڈ تنظیم‘ نے غزہ کے مشکل حالات کا فائدہ اٹھا کر اِن خاندانوں سے رقم لی اور انہیں غیر ذمہ دارانہ طریقے سے سفر کرایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://apnews.com/article/palestinians-israel-gaza-refugee-asyslum-south-africa-7d5dcbacae38e3564f77e0576a9eaaa1"&gt;ایسوسی ایٹڈ پریس&lt;/a&gt; کے مطابق ایک اسرائیلی فوجی اہلکار نے دعویٰ کیا کہ ’المجد‘ نامی تنظیم نے تقریباً 150 فلسطینیوں کی روانگی کا انتظام کیا۔ اہلکار کے مطابق بسوں کو غزہ میں ایک مقام سے اسرائیل کے کریم شالوم کراسنگ تک لے جایا گیا، پھر مسافروں کو اسرائیل کے ریمون ایئرپورٹ منتقل کیا گیا جہاں سے وہ روانہ ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انسانی حقوق کی تنظیموں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس خفیہ نوعیت کی پرواز سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ فلسطینیوں کو غزہ سے باہر دھکیلا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30492453'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30492453"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب جنوبی افریقی صدر نےاعلان کیا ہے کہ اگرچہ اِن مسافروں کے پاس مکمل دستاویزات موجود نہیں تاہم ’یہ لوگ جنگ زدہ علاقے سے آئے ہیں، اس لیے ہمدردی کے طور پر انہیں قبول کرنا ہماری ذمہ داری ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس معاملے کی تحقیقات کر کے عوام کو حقائق سے آگاہ کرے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جنوبی افریقا کے صدر سیرل رامافوسا نے اعلان کیا ہے کہ غزہ سے 153 فلسطینیوں کو لے کر جوہانسبرگ آنے والے چارٹرڈ طیارے کی پراسرار آمد کی تحقیقات کی جائیں گی، جو ابتدائی طور پر دستاویزات نہ ہونے کے باعث گھنٹوں تک طیارے میں پھنسے رہے۔</strong></p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.bbc.com/news/articles/c3dn3g4jdxjo">بی بی سی</a> کے مطابق غزہ سے تعلق رکھنے والے 153 فلسطینیوں کا ایک گروہ جوہانسبرگ کے ایئرپورٹ پہنچا۔ مسافروں کے پاسپورٹس پر وہ اسٹیمپس موجود نہیں تھے  جو عموماً غزہ چھوڑنے والوں کو اسرائیلی حکام کی جانب سے جاری کیے جاتے ہیں۔</p>
<p>اسی بنیاد پر ایئرپورٹ حکام نے مسافروں کو جنوبی افریقا میں داخلے سے روک دیا، جس کی وجہ سے یہ افراد 10 گھنٹے سے زائد طیارے میں ہی موجود رہے۔ بعدازاں مقامی این جی او کی مداخلت اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر حکومت نے ان میں سے زیادہ تر افراد کو ملک میں داخلے کی اجازت دے دی۔</p>
<p>حکام کا کہنا ہے کہ 153 میں سے 23 افراد دوسرے ممالک روانہ ہو گئے جبکہ 130 افراد کو جنوبی افریقا میں ہی موجود ہیں۔</p>
<center><p><a href="https://whatsapp.com/channel/0029Va8czsoLNSZzP877bA0I">
<img src="https://i.aaj.tv/large/2025/09/041745569b68024.webp" alt="AAJ News Whatsapp" width="728" height="90">
</a></p></center>
<p><strong><a href="https://www.aaj.tv/news/30491967/">غزہ امن معاہدہ ٹوٹنے کا امکان، خفیہ امریکی رپورٹ میں انکشاف</a></strong></p>
<p>جنوبی افریقی صدر کا اس معاملے پر کہنا تھا کہ اُنہیں وزیرِ داخلہ نے صورتحال سے آگاہ کیا ہے مگر ہم ان مسافروں کو واپس نہیں بھیج سکتے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/CyrilRamaphosa/status/1989328415229358448'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/CyrilRamaphosa/status/1989328415229358448"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>غزہ کی سرحدی گزرگاہوں کی نگرانی کرنے والے اسرائیلی محکمے کوگارٹ (Cogat) نے اپنے بیان میں کہا کہ فلسطینی باشندوں کو اس وقت نکلنے کی اجازت دی گئی جب کسی تیسرے ملک نے انہیں قبول کرنے کا فیصلہ کیا تاہم اس ملک کا نام نہیں بتایا گیا۔</p>
<p>جنوبی افریقا میں فلسطینی سفارتخانے کے مطابق یہ گروہ اسرائیل کے ریمون ایئرپورٹ سے نیروبی کے راستے جنوبی افریقا پہنچا اور اس سفر کے لیے اُن سے پیشگی اطلاع یا رابطہ نہیں کیا گیا۔</p>
<p>سفارتخانے کے مطابق ایک ’غیر رجسٹرڈ تنظیم‘ نے غزہ کے مشکل حالات کا فائدہ اٹھا کر اِن خاندانوں سے رقم لی اور انہیں غیر ذمہ دارانہ طریقے سے سفر کرایا۔</p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://apnews.com/article/palestinians-israel-gaza-refugee-asyslum-south-africa-7d5dcbacae38e3564f77e0576a9eaaa1">ایسوسی ایٹڈ پریس</a> کے مطابق ایک اسرائیلی فوجی اہلکار نے دعویٰ کیا کہ ’المجد‘ نامی تنظیم نے تقریباً 150 فلسطینیوں کی روانگی کا انتظام کیا۔ اہلکار کے مطابق بسوں کو غزہ میں ایک مقام سے اسرائیل کے کریم شالوم کراسنگ تک لے جایا گیا، پھر مسافروں کو اسرائیل کے ریمون ایئرپورٹ منتقل کیا گیا جہاں سے وہ روانہ ہوئے۔</p>
<p>انسانی حقوق کی تنظیموں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس خفیہ نوعیت کی پرواز سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ فلسطینیوں کو غزہ سے باہر دھکیلا جا رہا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30492453'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30492453"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>دوسری جانب جنوبی افریقی صدر نےاعلان کیا ہے کہ اگرچہ اِن مسافروں کے پاس مکمل دستاویزات موجود نہیں تاہم ’یہ لوگ جنگ زدہ علاقے سے آئے ہیں، اس لیے ہمدردی کے طور پر انہیں قبول کرنا ہماری ذمہ داری ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس معاملے کی تحقیقات کر کے عوام کو حقائق سے آگاہ کرے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30492507</guid>
      <pubDate>Sat, 15 Nov 2025 14:17:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/11/1514162069a6762.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/11/1514162069a6762.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
