<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 16:17:11 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 24 Jun 2026 16:17:11 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دہلی دھماکے میں ’شیطان کی ماں‘ کا استعمال، بھارتی حکام کی تحقیقات میں نئی کہانی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30492623/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارتی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ دہلی میں لال قلعہ کے قریب 10 نومبر کو ہونے والے مہلک دھماکے میں دنیا کے سب سے خطرناک اور غیر مستحکم دھماکا خیز مواد ”مدر آف سیٹن“ (شیطان کی ماں) استعمال ہوا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.ndtv.com/india-news/delhi-red-fort-blast-mother-of-satan-triacetone-triperoxide-tatp-ammonium-nitrate-9644086?pfrom=home-ndtv_topscroll"&gt;بھارتی میڈیا&lt;/a&gt; کے مطابق، پولیس نے ابتدا میں دعویٰ کیا تھا کہ گاڑی میں امونیم نائٹریٹ تھا، جو ایک نسبتاً عام دھماکا خیز کیمیکل ہے۔ مگر اب اچانک دعویٰ کیا گیا ہے کہ دھماکا شاید ٹرائی ایسیٹون ٹرائی پرآکسائیڈ (ٹی اے ٹی پی) سے ہوا۔ جو کہ انتہائی حساس ہے اور درجہ حرارت میں معمولی تبدیلی سے بھی پھٹ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حیرت کی بات یہ ہے کہ اگر اتنا حساس مواد گاڑی میں تھا تو وہ پرہجوم علاقے میں کئی گھنٹوں تک بغیر پھٹے کیسے چلتی رہی؟ یہ سوال بھارتی پلاننگ کی غلطیوں یا کسی اندرونی ڈرامے کا اشارہ بھی ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30492459/"&gt;مقبوضہ کشمیر کے پولیس اسٹیشن میں دھماکا، 9 افراد ہلاک اور 30 سے زائد زخمی&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="بھارت-کی-مشکوک-کہانی-کیا-کہتی-ہے" href="#بھارت-کی-مشکوک-کہانی-کیا-کہتی-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;بھارت کی مشکوک کہانی کیا کہتی ہے؟&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;بھارتی تفتیش کاروں کے مطابق گاڑی چلانے والا عمر محمد نامی شخص تھا، جسے بھارت نے پہلے ہی پاکستان سے جوڑ کر اپنی پرانی کہانی دہرانے کی کوشش کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30492092/"&gt;امریکا کی بھارت کو دہلی دھماکے کی تحقیقات میں مدد کی پیشکش&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی تحقیقاتی اداروں کے کئی دعوے خود ایک دوسرے کی نفی کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر ٹی اے ٹی ٹی پی استعمال ہوا تھا، تو گاڑی چند منٹ بھی محفوظ نہیں رہ سکتی تھی۔ اگر ملزمان کے پاس 3 ہزار کلو دھماکا خیز مواد تھا، تو دہلی جیسے ہائی الرٹ شہر میں اتنی بڑی مقدار کیسے منتقل ہوئی؟ اگر یہ منظم دہشت گردی تھی، تو دھماکے کے وقت کوئی بھی واضح ٹارگٹ کیوں موجود نہیں تھا؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30492616/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30492616"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="مدر-آف-سیٹن-کیا-ہے" href="#مدر-آف-سیٹن-کیا-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;’مدر آف سیٹن‘ کیا ہے؟&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;ٹی اے ٹی پی دنیا کا سب سے غیر مستحکم دھماکا خیز مواد ہے۔ یہ گھریلو کیمیکلز سے بنتا ضرور ہے مگر تجربہ کار ماہرین بھی اسے ہینڈل کرنے سے گھبراتے ہیں۔ یہ معمولی گرمی، ہلکی رگڑ یا کسی جھٹکے سے بھی پھٹ سکتا ہے۔ ایسا مواد گاڑی میں گھومتا پھرتا رہے اور دھماکہ صرف ایک مخصوص مقام پر ہو یہ بات حقیقت میں ممکن نہیں لگتی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارتی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ دہلی میں لال قلعہ کے قریب 10 نومبر کو ہونے والے مہلک دھماکے میں دنیا کے سب سے خطرناک اور غیر مستحکم دھماکا خیز مواد ”مدر آف سیٹن“ (شیطان کی ماں) استعمال ہوا ہے۔</strong></p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.ndtv.com/india-news/delhi-red-fort-blast-mother-of-satan-triacetone-triperoxide-tatp-ammonium-nitrate-9644086?pfrom=home-ndtv_topscroll">بھارتی میڈیا</a> کے مطابق، پولیس نے ابتدا میں دعویٰ کیا تھا کہ گاڑی میں امونیم نائٹریٹ تھا، جو ایک نسبتاً عام دھماکا خیز کیمیکل ہے۔ مگر اب اچانک دعویٰ کیا گیا ہے کہ دھماکا شاید ٹرائی ایسیٹون ٹرائی پرآکسائیڈ (ٹی اے ٹی پی) سے ہوا۔ جو کہ انتہائی حساس ہے اور درجہ حرارت میں معمولی تبدیلی سے بھی پھٹ سکتا ہے۔</p>
<p>حیرت کی بات یہ ہے کہ اگر اتنا حساس مواد گاڑی میں تھا تو وہ پرہجوم علاقے میں کئی گھنٹوں تک بغیر پھٹے کیسے چلتی رہی؟ یہ سوال بھارتی پلاننگ کی غلطیوں یا کسی اندرونی ڈرامے کا اشارہ بھی ہو سکتا ہے۔</p>
<p><strong><a href="https://www.aaj.tv/news/30492459/">مقبوضہ کشمیر کے پولیس اسٹیشن میں دھماکا، 9 افراد ہلاک اور 30 سے زائد زخمی</a></strong></p>
<h1><a id="بھارت-کی-مشکوک-کہانی-کیا-کہتی-ہے" href="#بھارت-کی-مشکوک-کہانی-کیا-کہتی-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>بھارت کی مشکوک کہانی کیا کہتی ہے؟</strong></h1>
<p>بھارتی تفتیش کاروں کے مطابق گاڑی چلانے والا عمر محمد نامی شخص تھا، جسے بھارت نے پہلے ہی پاکستان سے جوڑ کر اپنی پرانی کہانی دہرانے کی کوشش کی ہے۔</p>
<p><strong><a href="https://www.aaj.tv/news/30492092/">امریکا کی بھارت کو دہلی دھماکے کی تحقیقات میں مدد کی پیشکش</a></strong></p>
<p>بھارتی تحقیقاتی اداروں کے کئی دعوے خود ایک دوسرے کی نفی کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر ٹی اے ٹی ٹی پی استعمال ہوا تھا، تو گاڑی چند منٹ بھی محفوظ نہیں رہ سکتی تھی۔ اگر ملزمان کے پاس 3 ہزار کلو دھماکا خیز مواد تھا، تو دہلی جیسے ہائی الرٹ شہر میں اتنی بڑی مقدار کیسے منتقل ہوئی؟ اگر یہ منظم دہشت گردی تھی، تو دھماکے کے وقت کوئی بھی واضح ٹارگٹ کیوں موجود نہیں تھا؟</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30492616/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30492616"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<h1><a id="مدر-آف-سیٹن-کیا-ہے" href="#مدر-آف-سیٹن-کیا-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>’مدر آف سیٹن‘ کیا ہے؟</strong></h1>
<p>ٹی اے ٹی پی دنیا کا سب سے غیر مستحکم دھماکا خیز مواد ہے۔ یہ گھریلو کیمیکلز سے بنتا ضرور ہے مگر تجربہ کار ماہرین بھی اسے ہینڈل کرنے سے گھبراتے ہیں۔ یہ معمولی گرمی، ہلکی رگڑ یا کسی جھٹکے سے بھی پھٹ سکتا ہے۔ ایسا مواد گاڑی میں گھومتا پھرتا رہے اور دھماکہ صرف ایک مخصوص مقام پر ہو یہ بات حقیقت میں ممکن نہیں لگتی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30492623</guid>
      <pubDate>Sun, 16 Nov 2025 11:03:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/11/16104516a9748ce.webp" type="image/webp" medium="image" height="540" width="900">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/11/16104516a9748ce.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
