<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Life &amp; Style</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 12 May 2026 05:18:12 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 12 May 2026 05:18:12 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>خواتین میں گھٹنے کا درد زیادہ کیوں؟ اصل وجہ سامنے آ گئی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30493068/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مردوں کے مقابلے میں خواتین اکثر گھٹنوں کے درد اور جوڑوں کی تکالیف کا زیادہ شکار ہوتی ہیں۔ یہ مسئلہ صرف بڑھتی عمر یا روزمرہ کے دباؤ کی وجہ سے نہیں بلکہ خواتین کے جسمانی ڈھانچے، ہارمونز اور حرکت کے انداز سے بھی جڑا ہوا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.livehindustan.com/lifestyle/health/why-do-women-have-more-knee-problems-than-men-fortis-orthopedic-surgeon-doctor-jayant-arora-explains-the-reasons-201763466775636.html"&gt; ہندوستان ڈاٹ کام&lt;/a&gt; کے مطابق فورٹس اسپتال کے معروف آرتھوپیڈک سرجن، ڈاکٹر جینت اروڑا نے خواتین میں گھٹنے کی تکالیف کے پیچھے 5 بنیادی عوامل کی نشان دہی کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30492628/"&gt;&lt;strong&gt;آنکھیں جھپکائیں، ٹھنڈا پانی چھڑکیں: فوری سکون اور راحت پانے کے آسان طریقے&lt;/strong&gt; &lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="جسمانی-ساخت" href="#جسمانی-ساخت" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;جسمانی ساخت&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر جینت کا کہنا ہے کہ گھٹنے کے مسائل کی سب سے بڑی وجہ خواتین کا جسمانی ڈھانچہ ہے۔ خواتین کی پیڑو ہڈی مردوں کے مقابلے میں زیادہ چوڑی ہوتی ہے، جس کے باعث کیو۔اینگل بڑھ جاتا ہے۔ یعنی وہ زاویہ جہاں ران کی ہڈی گھٹنے سے جڑتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیو اینگل زیادہ ہونے سے گھٹنے کے جوڑ پر اضافی دباؤ بڑھتا ہے اور جوڑ کا ٹریک متاثر ہوتا ہے، جس سے چوٹ اور درد کا خطرہ زیادہ ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="ہڈیوں-کی-بناوٹ-اور-کمزور-عضلات" href="#ہڈیوں-کی-بناوٹ-اور-کمزور-عضلات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;ہڈیوں کی بناوٹ اور کمزور عضلات&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;خواتین کی ران کی ہڈی نسبتاً پتلی ہوتی ہے، جس سے اے سی ایل ( گھٹنے کا اہم لِگامینٹ) کے رگڑنے یا پھٹنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خواتین میں پٹھوں کی مضبوطی مردوں کے مقابلے میں کم اور کولہوں کے گرد چربی زیادہ ہوتی ہے، جس سے گھٹنے کا استحکام کمزور ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30492957/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30492957"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="ہارمونز-کا-اثر" href="#ہارمونز-کا-اثر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;ہارمونز کا اثر&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر جینت کے مطابق خواتین کے ہارمونز بھی گھٹنے کے درد میں کردار ادا کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہواری کے دوران ایسٹروجن کی سطح میں تبدیلی آتی ہے۔ زیادہ ایسٹروجن لِگامینٹس کو نرم کر دیتا ہے، جس سے گھٹنے کو مناسب سپورٹ نہیں ملتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی وجہ سے کھیلوں میں حصہ لینے والی خواتین میں اے سی ایل انجری زیادہ دیکھی جاتی ہے۔ خاص طور پر ان سرگرمیوں میں جہاں اچانک مڑنا، کودنا یا رخ بدلنا شامل ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="بایومکینیکل-پیٹرنز" href="#بایومکینیکل-پیٹرنز" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;بایومکینیکل پیٹرنز&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;تحقیقات کے مطابق خواتین چھلانگ لگاتے وقت گھٹنوں کو کم موڑتی ہیں اور زیادہ تر ران کے اگلے پٹھے استعمال کرتی ہیں، جس سے گھٹنے پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چلتے وقت پاؤں کا حد سے زیادہ اندر کی طرف مڑ جانا گھٹنوں پر اضافی پریشر ڈالتا ہے۔اس وجہ سے گھٹنے جھٹکے ٹھیک سے جذب نہیں کر پاتے اور وقت کے ساتھ درد، لگیمنٹ کی چوٹ اور آرتھرائٹس کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30492139/"&gt;&lt;strong&gt;وٹامن سی کا خزانہ: سنترہ کھانے کا صحیح وقت کون سا ہے؟&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="طرزِ-زندگی-اور-سماجی-عوامل" href="#طرزِ-زندگی-اور-سماجی-عوامل" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;طرزِ زندگی اور سماجی عوامل&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;کئی روزمرہ عادات بھی خواتین میں گھٹنے کے درد میں اضافہ کر سکتی ہیں، جیسے:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غلط جوتوں کا استعمال&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسمانی سرگرمی کی کمی&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کھیلوں میں محدود شمولیت&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حمل کے دوران وزن میں اضافہ&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تمام عوامل پہلے سے موجود کمزوریوں کو مزید بڑھا دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;center&gt;&lt;p&gt;&lt;a href="https://whatsapp.com/channel/0029Va8czsoLNSZzP877bA0I"&gt;
&lt;img src="https://i.aaj.tv/large/2025/09/041745569b68024.webp" alt="AAJ News Whatsapp" width="728" height="90"&gt;
&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&lt;/center&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر جینت اروڑا کے مطابق، ’خواتین میں گھٹنے کے درد کی بڑی وجہ جسمانی ساخت، ہارمونز اور بایومکینیکل حرکت کا مشترکہ اثر ہے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم وہ یہ بھی مشورہ دیتے ہیں کہ، باقاعدہ اسٹرینتھ ٹریننگ، درست ورزش تکنیک، معیاری فٹ ویئر اور چوٹ سے بچاؤ کی مشقیں گھٹنوں کی مضبوطی اور درد میں کمی کے لیے انتہائی مؤثر ثابت ہو سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مردوں کے مقابلے میں خواتین اکثر گھٹنوں کے درد اور جوڑوں کی تکالیف کا زیادہ شکار ہوتی ہیں۔ یہ مسئلہ صرف بڑھتی عمر یا روزمرہ کے دباؤ کی وجہ سے نہیں بلکہ خواتین کے جسمانی ڈھانچے، ہارمونز اور حرکت کے انداز سے بھی جڑا ہوا ہے۔</strong></p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.livehindustan.com/lifestyle/health/why-do-women-have-more-knee-problems-than-men-fortis-orthopedic-surgeon-doctor-jayant-arora-explains-the-reasons-201763466775636.html"> ہندوستان ڈاٹ کام</a> کے مطابق فورٹس اسپتال کے معروف آرتھوپیڈک سرجن، ڈاکٹر جینت اروڑا نے خواتین میں گھٹنے کی تکالیف کے پیچھے 5 بنیادی عوامل کی نشان دہی کی ہے۔</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30492628/"><strong>آنکھیں جھپکائیں، ٹھنڈا پانی چھڑکیں: فوری سکون اور راحت پانے کے آسان طریقے</strong> </a></p>
<h1><a id="جسمانی-ساخت" href="#جسمانی-ساخت" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>جسمانی ساخت</strong></h1>
<p>ڈاکٹر جینت کا کہنا ہے کہ گھٹنے کے مسائل کی سب سے بڑی وجہ خواتین کا جسمانی ڈھانچہ ہے۔ خواتین کی پیڑو ہڈی مردوں کے مقابلے میں زیادہ چوڑی ہوتی ہے، جس کے باعث کیو۔اینگل بڑھ جاتا ہے۔ یعنی وہ زاویہ جہاں ران کی ہڈی گھٹنے سے جڑتی ہے۔</p>
<p>کیو اینگل زیادہ ہونے سے گھٹنے کے جوڑ پر اضافی دباؤ بڑھتا ہے اور جوڑ کا ٹریک متاثر ہوتا ہے، جس سے چوٹ اور درد کا خطرہ زیادہ ہو جاتا ہے۔</p>
<h1><a id="ہڈیوں-کی-بناوٹ-اور-کمزور-عضلات" href="#ہڈیوں-کی-بناوٹ-اور-کمزور-عضلات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>ہڈیوں کی بناوٹ اور کمزور عضلات</strong></h1>
<p>خواتین کی ران کی ہڈی نسبتاً پتلی ہوتی ہے، جس سے اے سی ایل ( گھٹنے کا اہم لِگامینٹ) کے رگڑنے یا پھٹنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔</p>
<p>خواتین میں پٹھوں کی مضبوطی مردوں کے مقابلے میں کم اور کولہوں کے گرد چربی زیادہ ہوتی ہے، جس سے گھٹنے کا استحکام کمزور ہوتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30492957/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30492957"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<h1><a id="ہارمونز-کا-اثر" href="#ہارمونز-کا-اثر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>ہارمونز کا اثر</strong></h1>
<p>ڈاکٹر جینت کے مطابق خواتین کے ہارمونز بھی گھٹنے کے درد میں کردار ادا کرتے ہیں۔</p>
<p>ماہواری کے دوران ایسٹروجن کی سطح میں تبدیلی آتی ہے۔ زیادہ ایسٹروجن لِگامینٹس کو نرم کر دیتا ہے، جس سے گھٹنے کو مناسب سپورٹ نہیں ملتی۔</p>
<p>اسی وجہ سے کھیلوں میں حصہ لینے والی خواتین میں اے سی ایل انجری زیادہ دیکھی جاتی ہے۔ خاص طور پر ان سرگرمیوں میں جہاں اچانک مڑنا، کودنا یا رخ بدلنا شامل ہو۔</p>
<h1><a id="بایومکینیکل-پیٹرنز" href="#بایومکینیکل-پیٹرنز" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>بایومکینیکل پیٹرنز</strong></h1>
<p>تحقیقات کے مطابق خواتین چھلانگ لگاتے وقت گھٹنوں کو کم موڑتی ہیں اور زیادہ تر ران کے اگلے پٹھے استعمال کرتی ہیں، جس سے گھٹنے پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔</p>
<p>چلتے وقت پاؤں کا حد سے زیادہ اندر کی طرف مڑ جانا گھٹنوں پر اضافی پریشر ڈالتا ہے۔اس وجہ سے گھٹنے جھٹکے ٹھیک سے جذب نہیں کر پاتے اور وقت کے ساتھ درد، لگیمنٹ کی چوٹ اور آرتھرائٹس کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30492139/"><strong>وٹامن سی کا خزانہ: سنترہ کھانے کا صحیح وقت کون سا ہے؟</strong></a></p>
<h1><a id="طرزِ-زندگی-اور-سماجی-عوامل" href="#طرزِ-زندگی-اور-سماجی-عوامل" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>طرزِ زندگی اور سماجی عوامل</strong></h1>
<p>کئی روزمرہ عادات بھی خواتین میں گھٹنے کے درد میں اضافہ کر سکتی ہیں، جیسے:</p>
<p>غلط جوتوں کا استعمال</p>
<p>جسمانی سرگرمی کی کمی</p>
<p>کھیلوں میں محدود شمولیت</p>
<p>حمل کے دوران وزن میں اضافہ</p>
<p>یہ تمام عوامل پہلے سے موجود کمزوریوں کو مزید بڑھا دیتے ہیں۔</p>
<center><p><a href="https://whatsapp.com/channel/0029Va8czsoLNSZzP877bA0I">
<img src="https://i.aaj.tv/large/2025/09/041745569b68024.webp" alt="AAJ News Whatsapp" width="728" height="90">
</a></p></center>
<p>ڈاکٹر جینت اروڑا کے مطابق، ’خواتین میں گھٹنے کے درد کی بڑی وجہ جسمانی ساخت، ہارمونز اور بایومکینیکل حرکت کا مشترکہ اثر ہے۔‘</p>
<p>تاہم وہ یہ بھی مشورہ دیتے ہیں کہ، باقاعدہ اسٹرینتھ ٹریننگ، درست ورزش تکنیک، معیاری فٹ ویئر اور چوٹ سے بچاؤ کی مشقیں گھٹنوں کی مضبوطی اور درد میں کمی کے لیے انتہائی مؤثر ثابت ہو سکتی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30493068</guid>
      <pubDate>Wed, 19 Nov 2025 10:11:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/11/19095335daeecb1.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/11/19095335daeecb1.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
