<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 23:19:20 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 23:19:20 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>27ویں ترمیم پر سپریم کورٹ ججز کے اجتماعی استعفے کی تجویز مسترد</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30493265/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سپریم کورٹ کے فل کورٹ اجلاس میں ججز کی اکثریت نے اجتماعی استعفے کی تجویز کو مسترد کر دیا۔ 14 نومبر کو چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں ہونے والے فل کورٹ اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی ہے، جس میں 13 ججز نے شرکت کی، جبکہ جسٹس منیب اختر، جسٹس عائشہ اے ملک اور جسٹس مسرت ہلالی بیماری یا ذاتی مصروفیات کی وجہ سے اجلاس میں شامل نہیں ہو سکے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق اجلاس میں 27ویں آئینی ترمیم کے بعد سپریم کورٹ کے اختیارات کم ہونے کے معاملے پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس کے دوران کچھ ججز نے تجویز پیش کی کہ عدالت پارلیمنٹ کو قانون سازی سے روکنے کے لیے اجتماعی استعفے دے، تاہم اس پر کوئی اتفاق رائے نہیں ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ ججز کو حکومت یا کسی حکومتی ادارے کو خط لکھنے کے بجائے براہِ راست بات کرنی چاہیے تھی۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ سپریم کورٹ کے پاس قانون کی آئینی حیثیت کا جائزہ لینے کا اختیار موجود ہے، لیکن یہ اختیار قانون بننے کے بعد استعمال ہوتا ہے، لہٰذا عدالت پارلیمنٹ کو قانون سازی سے پہلے نہیں روک سکتی۔&lt;/p&gt;
&lt;center&gt;&lt;p&gt;&lt;a href="https://whatsapp.com/channel/0029Va8czsoLNSZzP877bA0I"&gt;
&lt;img src="https://i.aaj.tv/large/2025/09/041745569b68024.webp" alt="AAJ News Whatsapp" width="728" height="90"&gt;&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&lt;/center&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں یہ بات بھی  اٹھائی گئی کہ دو ججز منصور علی شاہ اور اطہر من اللہ نے استعفیٰ دے دیا۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ انہیں مجھ سے بات کرنی چاہیے تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں ججز نے عدلیہ کے مضبوط ادارہ جاتی ردِعمل کی ضرورت پر زور دیا، تاکہ آئینی طریقہ کار کے مطابق اقدامات کیے جا سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق اجلاس کا ماحول کافی سنجیدہ اور تناؤ کا شکار تھا، اور ججز نے اس بات پر اتفاق کیا کہ عدلیہ کو عوام اور قانون کے سامنے اپنی غیر جانبداری اور مؤثر کارکردگی برقرار رکھنی ہوگی۔ اجلاس بغیر کسی متفقہ فیصلے کے ختم ہوا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سپریم کورٹ کے فل کورٹ اجلاس میں ججز کی اکثریت نے اجتماعی استعفے کی تجویز کو مسترد کر دیا۔ 14 نومبر کو چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں ہونے والے فل کورٹ اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی ہے، جس میں 13 ججز نے شرکت کی، جبکہ جسٹس منیب اختر، جسٹس عائشہ اے ملک اور جسٹس مسرت ہلالی بیماری یا ذاتی مصروفیات کی وجہ سے اجلاس میں شامل نہیں ہو سکے۔</strong></p>
<p>ذرائع کے مطابق اجلاس میں 27ویں آئینی ترمیم کے بعد سپریم کورٹ کے اختیارات کم ہونے کے معاملے پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس کے دوران کچھ ججز نے تجویز پیش کی کہ عدالت پارلیمنٹ کو قانون سازی سے روکنے کے لیے اجتماعی استعفے دے، تاہم اس پر کوئی اتفاق رائے نہیں ہوا۔</p>
<p>چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ ججز کو حکومت یا کسی حکومتی ادارے کو خط لکھنے کے بجائے براہِ راست بات کرنی چاہیے تھی۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ سپریم کورٹ کے پاس قانون کی آئینی حیثیت کا جائزہ لینے کا اختیار موجود ہے، لیکن یہ اختیار قانون بننے کے بعد استعمال ہوتا ہے، لہٰذا عدالت پارلیمنٹ کو قانون سازی سے پہلے نہیں روک سکتی۔</p>
<center><p><a href="https://whatsapp.com/channel/0029Va8czsoLNSZzP877bA0I">
<img src="https://i.aaj.tv/large/2025/09/041745569b68024.webp" alt="AAJ News Whatsapp" width="728" height="90"></a></p></center>
<p>اجلاس میں یہ بات بھی  اٹھائی گئی کہ دو ججز منصور علی شاہ اور اطہر من اللہ نے استعفیٰ دے دیا۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ انہیں مجھ سے بات کرنی چاہیے تھی۔</p>
<p>اجلاس میں ججز نے عدلیہ کے مضبوط ادارہ جاتی ردِعمل کی ضرورت پر زور دیا، تاکہ آئینی طریقہ کار کے مطابق اقدامات کیے جا سکیں۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق اجلاس کا ماحول کافی سنجیدہ اور تناؤ کا شکار تھا، اور ججز نے اس بات پر اتفاق کیا کہ عدلیہ کو عوام اور قانون کے سامنے اپنی غیر جانبداری اور مؤثر کارکردگی برقرار رکھنی ہوگی۔ اجلاس بغیر کسی متفقہ فیصلے کے ختم ہوا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30493265</guid>
      <pubDate>Thu, 20 Nov 2025 14:41:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (افضل جاوید)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/11/2012374990b6319.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/11/2012374990b6319.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
