<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 01 May 2026 19:41:50 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 01 May 2026 19:41:50 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>واشنگٹن فائرنگ میں ملوث افغان شہری سی آئی اے کا سابق ایجنٹ نکلا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30494571/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے قریب نیشنل گارڈ کے دو اہلکاروں پر فائرنگ کرنے والے 29 سالہ افغان شہری رحمان اللہ لکنوال کے ماضی میں امریکا کی سینٹرل انٹیلیجنس ایجنسی (سی آئی اے) کے لیے کام کرنے کی تصدیق ہوئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دی گارڈین نے برطانوی خبر رساں ادارے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/world/us/what-we-know-about-afghan-national-suspected-shooting-two-guardsmen-near-white-2025-11-27/"&gt;رائٹرز&lt;/a&gt; کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکی خفیہ ایجنسی نے بھی اس حوالے سے تصدیق کی ہے کہ مشتبہ شہری افغانستان میں جنگ کے دوران سی آئی اے کی معاون یونٹس کے ساتھ ماضی میں کام کرتا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹس کے مطابق افغان حملہ آور سال 2021 میں آپریشن الائز ویلکم کے تحت امریکا پہنچا تھا، جو ان افغانوں کے لیے خصوصی پروگرام تھا جنہوں نے امریکی حکومت کے ساتھ کام کیا تھا۔ رحمان اللہ کو رواں برس اپریل میں ٹرمپ انتظامیہ کے دوران سیاسی پناہ بھی دے دی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ افغان شہری کے سی آئی اے سے روابط کی تصدیق ہو گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈائریکٹر جان ریٹکلف کے مطابق بائیڈن انتظامیہ نے حملہ آور کو ستمبر 2021 میں امریکا لانے کا یہ جواز پیش کیا کہ اس نے امریکی حکومت اور سی آئی اے کے ساتھ قندھار میں ایک پارٹنر فورس کے رُکن کے طور پر کام کیا تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2025/11/28160519af6648c.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2025/11/28160519af6648c.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;واشنگٹن پوسٹ نے نام ظاہر نہ کرنے والے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ وہ یونٹس انسداد دہشت گردی کے لیے مشتبہ افراد کو ہدف بنانے کی کارروائیوں میں شامل تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;raw-html&gt;
&lt;center&gt;&lt;p&gt;&lt;a href="https://whatsapp.com/channel/0029Va8czsoLNSZzP877bA0I"&gt;
&lt;img src="https://i.aaj.tv/large/2025/09/041745569b68024.webp" alt="AAJ News Whatsapp" width="728" height="90"&gt;&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&lt;/center&gt;
&lt;/raw-html&gt;
&lt;p&gt;محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کی سیکریٹری کرسٹی نوم نے بھی ایکس پر کہا کہ مشتبہ حملہ آور  8 ستمبر 2021 کو افغان شہریوں کے لیے مختص بائیڈن دور کے پروگرام آپریشن الائیز ویلکم کے تحت امریکا لائے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/Sec_Noem/status/1993867792190238790'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/Sec_Noem/status/1993867792190238790"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے اس واقعے کے بعد فوری طور پر مزید 500 نیشنل گارڈ اہلکار واشنگٹن ڈی سی بھیجنے کا حکم دیا تھا اور اس حملے کی ذمہ داری سابق صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کی افغان مہاجرین کی اسکروٹنی کرنے میں ناکامی پر ڈالی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر ٹرمپ کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ ہمیں اب بائیڈن کے دور میں آنے والے ہر افغان شہری کی دوبارہ جانچ پڑتال کرنی ہوگی۔ جو ہمارے ملک سے محبت نہیں کر سکتا، ہمیں اس کی ضرورت نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر ٹرمپ نے افغان شہری کی فائرنگ سے زخمی ہونے والی ویسٹ ورجینیا کی نیشنل گارڈ 20 سالہ خاتون اہلکار  سارہ بیک اسٹرم کی ہلاک کی تصدیق کردی ہے جبکہ دوسرے اہلکار 24 سالہ  اینڈریو وولف شدید زخمی حالت میں اسپتال میں موجود ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے قریب نیشنل گارڈ کے دو اہلکاروں پر فائرنگ کرنے والے 29 سالہ افغان شہری رحمان اللہ لکنوال کے ماضی میں امریکا کی سینٹرل انٹیلیجنس ایجنسی (سی آئی اے) کے لیے کام کرنے کی تصدیق ہوئی ہے۔</strong></p>
<p>دی گارڈین نے برطانوی خبر رساں ادارے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/world/us/what-we-know-about-afghan-national-suspected-shooting-two-guardsmen-near-white-2025-11-27/">رائٹرز</a> کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکی خفیہ ایجنسی نے بھی اس حوالے سے تصدیق کی ہے کہ مشتبہ شہری افغانستان میں جنگ کے دوران سی آئی اے کی معاون یونٹس کے ساتھ ماضی میں کام کرتا رہا ہے۔</p>
<p>رپورٹس کے مطابق افغان حملہ آور سال 2021 میں آپریشن الائز ویلکم کے تحت امریکا پہنچا تھا، جو ان افغانوں کے لیے خصوصی پروگرام تھا جنہوں نے امریکی حکومت کے ساتھ کام کیا تھا۔ رحمان اللہ کو رواں برس اپریل میں ٹرمپ انتظامیہ کے دوران سیاسی پناہ بھی دے دی گئی تھی۔</p>
<p>سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ افغان شہری کے سی آئی اے سے روابط کی تصدیق ہو گئی ہے۔</p>
<p>ڈائریکٹر جان ریٹکلف کے مطابق بائیڈن انتظامیہ نے حملہ آور کو ستمبر 2021 میں امریکا لانے کا یہ جواز پیش کیا کہ اس نے امریکی حکومت اور سی آئی اے کے ساتھ قندھار میں ایک پارٹنر فورس کے رُکن کے طور پر کام کیا تھا۔</p>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2025/11/28160519af6648c.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2025/11/28160519af6648c.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>واشنگٹن پوسٹ نے نام ظاہر نہ کرنے والے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ وہ یونٹس انسداد دہشت گردی کے لیے مشتبہ افراد کو ہدف بنانے کی کارروائیوں میں شامل تھیں۔</p>
<raw-html>
<center><p><a href="https://whatsapp.com/channel/0029Va8czsoLNSZzP877bA0I">
<img src="https://i.aaj.tv/large/2025/09/041745569b68024.webp" alt="AAJ News Whatsapp" width="728" height="90"></a></p></center>
</raw-html>
<p>محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کی سیکریٹری کرسٹی نوم نے بھی ایکس پر کہا کہ مشتبہ حملہ آور  8 ستمبر 2021 کو افغان شہریوں کے لیے مختص بائیڈن دور کے پروگرام آپریشن الائیز ویلکم کے تحت امریکا لائے گئے تھے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/Sec_Noem/status/1993867792190238790'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/Sec_Noem/status/1993867792190238790"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے اس واقعے کے بعد فوری طور پر مزید 500 نیشنل گارڈ اہلکار واشنگٹن ڈی سی بھیجنے کا حکم دیا تھا اور اس حملے کی ذمہ داری سابق صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کی افغان مہاجرین کی اسکروٹنی کرنے میں ناکامی پر ڈالی تھی۔</p>
<p>صدر ٹرمپ کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ ہمیں اب بائیڈن کے دور میں آنے والے ہر افغان شہری کی دوبارہ جانچ پڑتال کرنی ہوگی۔ جو ہمارے ملک سے محبت نہیں کر سکتا، ہمیں اس کی ضرورت نہیں۔</p>
<p>صدر ٹرمپ نے افغان شہری کی فائرنگ سے زخمی ہونے والی ویسٹ ورجینیا کی نیشنل گارڈ 20 سالہ خاتون اہلکار  سارہ بیک اسٹرم کی ہلاک کی تصدیق کردی ہے جبکہ دوسرے اہلکار 24 سالہ  اینڈریو وولف شدید زخمی حالت میں اسپتال میں موجود ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30494571</guid>
      <pubDate>Fri, 28 Nov 2025 16:06:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (نوید اکبر)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/11/28160519af6648c.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/11/28160519af6648c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
