<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Business &amp; Economy</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 12 May 2026 08:50:11 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 12 May 2026 08:50:11 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اشرافیہ کی کرپشن کس طرح پاکستان کی جی ڈی پی کا 6 فیصد کھا گئی؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30495187/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے کہا کہ پاکستان میں کرپشن ایک سنگین اقتصادی بحران کی وجہ ہے، جو اسٹیٹ کیپچر کے تحت پیدا ہوا ہے، جہاں عوامی پالیسی کو چند سیاسی اور کاروباری اشرافیہ کے مفاد کے لیے تبدیل کر دیا جاتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الجزیرہ کی &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.aljazeera.com/economy/2025/11/25/elite-capture-how-pakistan-is-losing-6-percent-of-its-gdp-to-corruption"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt; کے مطابق گورننس اینڈ کرپشن ڈائیگناسٹک اسیسمنٹ جو نومبر 2025 میں مکمل ہوئی، ایک ایسے نظام کی تشویشناک تصویر پیش کرتی ہے جس میں ادارے غیر فعال ادارے ہیں اور قانون کی عملداری یا عوامی وسائل کی حفاظت کرنے سے قاصر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;186 صفحات پر مشتمل اس رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرپشن مستقل اور ملک کے لیے شدید نقصان کا باعث ہے، جس سے مارکیٹیں متاثر ہوتی ہیں، عوام کا اعتماد ختم ہوتا ہے اور مالی استحکام کمزور ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر بااختیار طبقے کے خصوصی مراعات کے ڈھانچے کو ختم نہ کیا گیا تو ملک کی اقتصادی سست روی برقرار رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق کرپشن کے خطرات ہر سطح پر موجود ہیں، لیکن سب سے زیادہ اقتصادی نقصان پہنچانے والی صورت حال وہ ہے جہاں مخصوص اشرافیہ اہم اقتصادی شعبوں پر اثر انداز ہوتی ہے، بشمول وہ شعبے جو ریاست کے زیرِ ملکیت ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر گورننس میں بہتری اور جوابدہی مضبوط کی جائے تو پاکستان کو نمایاں اقتصادی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30493568/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30493568"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کے تجزیے کے مطابق اگر پانچ سال کے دوران گورننس اصلاحات کا ایک پیکیج نافذ کیا گیا تو جی ڈی پی میں 5 سے ساڑھے 6 فیصد اضافہ ممکن ہے۔ پاکستان کا جی ڈی پی 2024 میں 340 ارب ڈالر تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آکسفورڈ یونیورسٹی کے اقتصادی پالیسی کے پروفیسر اسٹیفن ڈیرکون، جنہوں نے پاکستانی حکومت کو اقتصادی اصلاحات میں مشورہ دیا تھا، انہوں نے کہا کہ کرپشن کے کیسز میں جوابدہی کی کمی ملک کی اقتصادی صلاحیت کو نقصان پہنچا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;raw-html&gt;
&lt;center&gt;&lt;p&gt;&lt;a href="https://whatsapp.com/channel/0029Va8czsoLNSZzP877bA0I"&gt;
&lt;img src="https://i.aaj.tv/large/2025/09/041745569b68024.webp" alt="AAJ News Whatsapp" width="728" height="90"&gt;&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&lt;/center&gt;
&lt;/raw-html&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ قوانین اور جوابدہی کے اصولوں کے نفاذ میں ناکامی مخصوص مفاد پرستوں کو آزادی دے دیتی ہے اور اقتصادی اصلاحات کی کوششوں کا مرکز یہی ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آئی ایم ایف رپورٹ میں کیا کہا گیا؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سن 1958 سے پاکستان آئی ایم ایف سے پچیسویں بار قرض لینے والا ملک بن چکا ہے۔ تقریباً ہر  آنے جانے  والی حکومت نے اپنے دور میں آئی ایم ایف سے رجوع کیا ہے، جو ادائیگی کے توازن کے دیرینہ بحران کی عکاسی کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گورننس اینڈ کرپشن ڈائیگناسٹک اسیسمنٹ کی ریلیز اس سے قبل ہوئی ہے جب آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کو توقع ہے کہ آئندہ ماہ 1.2 ارب ڈالر کی ادائیگی کی منظوری دے دی جائے گی، جو 37 ماہ کے 7 ارب ڈالر پروگرام کا حصہ ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30493291/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30493291"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق پاکستان عالمی گورننس انڈیکیٹرز میں مسلسل نچلی سطح پر رہتا ہے۔ 2015 سے 2024 کے درمیان کرپشن پر کنٹرول کے حوالے سے پاکستان کا اسکور یکساں رہا اور عالمی سطح پر اور پڑوسی ممالک میں سب سے کم کارکردگی رکھنے والے ممالک میں شامل رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کا بنیادی خیال اسٹیٹ کیپچر ہے، جہاں کرپشن معمول بن چکی ہے اور دراصل حکمرانی کا بنیادی ذریعہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں اندازہ لگایا گیا کہ اشرافیہ کی مراعات یعنی چند افراد کو سبسڈیز، ٹیکس میں چھوٹ اور منافع بخش ریاستی معاہدے فراہم کرنا، ہر سال معیشت سے اربوں ڈالر نکال دیتی ہیں، جبکہ ٹیکس چوری اور ریگولیٹری کیپچر حقیقی نجی شعبے کی سرمایہ کاری کو روکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ نتائج 2021 کی اقوام متحدہ کی ترقیاتی پروگرام کی رپورٹ سے ہم آہنگ ہیں، جس میں کہا گیا کہ پاکستان کی اشرافیہ کو دی جانے والی اقتصادی مراعات، بشمول سیاستدانوں اور طاقتور فوجی، ملک کی معیشت کا تقریباً 6 فیصد ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے کہا کہ پاکستان میں کرپشن ایک سنگین اقتصادی بحران کی وجہ ہے، جو اسٹیٹ کیپچر کے تحت پیدا ہوا ہے، جہاں عوامی پالیسی کو چند سیاسی اور کاروباری اشرافیہ کے مفاد کے لیے تبدیل کر دیا جاتا ہے۔</strong></p>
<p>الجزیرہ کی <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.aljazeera.com/economy/2025/11/25/elite-capture-how-pakistan-is-losing-6-percent-of-its-gdp-to-corruption">رپورٹ</a> کے مطابق گورننس اینڈ کرپشن ڈائیگناسٹک اسیسمنٹ جو نومبر 2025 میں مکمل ہوئی، ایک ایسے نظام کی تشویشناک تصویر پیش کرتی ہے جس میں ادارے غیر فعال ادارے ہیں اور قانون کی عملداری یا عوامی وسائل کی حفاظت کرنے سے قاصر ہیں۔</p>
<p>186 صفحات پر مشتمل اس رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرپشن مستقل اور ملک کے لیے شدید نقصان کا باعث ہے، جس سے مارکیٹیں متاثر ہوتی ہیں، عوام کا اعتماد ختم ہوتا ہے اور مالی استحکام کمزور ہوتا ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر بااختیار طبقے کے خصوصی مراعات کے ڈھانچے کو ختم نہ کیا گیا تو ملک کی اقتصادی سست روی برقرار رہے گی۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق کرپشن کے خطرات ہر سطح پر موجود ہیں، لیکن سب سے زیادہ اقتصادی نقصان پہنچانے والی صورت حال وہ ہے جہاں مخصوص اشرافیہ اہم اقتصادی شعبوں پر اثر انداز ہوتی ہے، بشمول وہ شعبے جو ریاست کے زیرِ ملکیت ہیں۔</p>
<p>رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر گورننس میں بہتری اور جوابدہی مضبوط کی جائے تو پاکستان کو نمایاں اقتصادی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30493568/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30493568"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>آئی ایم ایف کے تجزیے کے مطابق اگر پانچ سال کے دوران گورننس اصلاحات کا ایک پیکیج نافذ کیا گیا تو جی ڈی پی میں 5 سے ساڑھے 6 فیصد اضافہ ممکن ہے۔ پاکستان کا جی ڈی پی 2024 میں 340 ارب ڈالر تھا۔</p>
<p>آکسفورڈ یونیورسٹی کے اقتصادی پالیسی کے پروفیسر اسٹیفن ڈیرکون، جنہوں نے پاکستانی حکومت کو اقتصادی اصلاحات میں مشورہ دیا تھا، انہوں نے کہا کہ کرپشن کے کیسز میں جوابدہی کی کمی ملک کی اقتصادی صلاحیت کو نقصان پہنچا رہی ہے۔</p>
<raw-html>
<center><p><a href="https://whatsapp.com/channel/0029Va8czsoLNSZzP877bA0I">
<img src="https://i.aaj.tv/large/2025/09/041745569b68024.webp" alt="AAJ News Whatsapp" width="728" height="90"></a></p></center>
</raw-html>
<p>ان کا کہنا تھا کہ قوانین اور جوابدہی کے اصولوں کے نفاذ میں ناکامی مخصوص مفاد پرستوں کو آزادی دے دیتی ہے اور اقتصادی اصلاحات کی کوششوں کا مرکز یہی ہونا چاہیے۔</p>
<p><strong>آئی ایم ایف رپورٹ میں کیا کہا گیا؟</strong></p>
<p>سن 1958 سے پاکستان آئی ایم ایف سے پچیسویں بار قرض لینے والا ملک بن چکا ہے۔ تقریباً ہر  آنے جانے  والی حکومت نے اپنے دور میں آئی ایم ایف سے رجوع کیا ہے، جو ادائیگی کے توازن کے دیرینہ بحران کی عکاسی کرتی ہے۔</p>
<p>گورننس اینڈ کرپشن ڈائیگناسٹک اسیسمنٹ کی ریلیز اس سے قبل ہوئی ہے جب آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کو توقع ہے کہ آئندہ ماہ 1.2 ارب ڈالر کی ادائیگی کی منظوری دے دی جائے گی، جو 37 ماہ کے 7 ارب ڈالر پروگرام کا حصہ ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30493291/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30493291"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>رپورٹ کے مطابق پاکستان عالمی گورننس انڈیکیٹرز میں مسلسل نچلی سطح پر رہتا ہے۔ 2015 سے 2024 کے درمیان کرپشن پر کنٹرول کے حوالے سے پاکستان کا اسکور یکساں رہا اور عالمی سطح پر اور پڑوسی ممالک میں سب سے کم کارکردگی رکھنے والے ممالک میں شامل رہا۔</p>
<p>رپورٹ کا بنیادی خیال اسٹیٹ کیپچر ہے، جہاں کرپشن معمول بن چکی ہے اور دراصل حکمرانی کا بنیادی ذریعہ ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں اندازہ لگایا گیا کہ اشرافیہ کی مراعات یعنی چند افراد کو سبسڈیز، ٹیکس میں چھوٹ اور منافع بخش ریاستی معاہدے فراہم کرنا، ہر سال معیشت سے اربوں ڈالر نکال دیتی ہیں، جبکہ ٹیکس چوری اور ریگولیٹری کیپچر حقیقی نجی شعبے کی سرمایہ کاری کو روکتی ہیں۔</p>
<p>یہ نتائج 2021 کی اقوام متحدہ کی ترقیاتی پروگرام کی رپورٹ سے ہم آہنگ ہیں، جس میں کہا گیا کہ پاکستان کی اشرافیہ کو دی جانے والی اقتصادی مراعات، بشمول سیاستدانوں اور طاقتور فوجی، ملک کی معیشت کا تقریباً 6 فیصد ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Economy</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30495187</guid>
      <pubDate>Tue, 02 Dec 2025 13:29:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/12/02132631e3410a1.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/12/02132631e3410a1.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
