<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Technology</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 15:10:05 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 15:10:05 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکی اسٹارٹ اَپ نے ’ٹوئٹر کی چڑیا‘ حاصل کرنے کی کوششیں شروع کردیں</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30496208/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نئی امریکی کمپنی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایلون مسک کی ملکیت سماجی رابطے کی سائٹ “ایکس” نے پرانا نام ’’ٹوئٹر‘‘ چھوڑ دیا ہے، اس لیے اب یہ نام وہ استعمال کرنا چاہتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/technology/us-startup-seeks-reclaim-twitter-trademarks-abandoned-by-musks-x-2025-12-08/"&gt;رائٹرز &lt;/a&gt;کے مطابق ورجینیا میں قائم آپریشن بلیوبرڈ نامی اسٹارٹ اَپ نے امریکی حکام کو درخواست دی ہے کہ ’’ٹوئٹر‘‘ اور ’’ٹویٹ‘‘ کے ٹریڈ مارک ختم کر دیے جائیں کیونکہ ان کے مطابق اب یہ نام استعمال نہیں ہو رہے۔ کمپنی چاہتی ہے کہ وہ اپنی نئی سوشل میڈیا سروس ٹوئٹر ڈاٹ نیو (&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="http://twitter.new"&gt;twitter.new&lt;/a&gt;) کے لیے یہ نام حاصل کرے۔ اس مقصد کے لیے ادارے نے نہ صرف ٹریڈ مارک کی منسوخی کی درخواست جمع کرائی ہے بلکہ ’’ٹوئٹر‘‘ کے نام سے نیا تجارتی اندراج بھی کروایا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30471806'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30471806"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یہ درخواست اسٹیفن کوٹس کی جانب سے دائر کی گئی ہے، جو ماضی میں ٹوئٹر کے ٹریڈ مارک وکیل رہ چکے ہیں اور اب آپریشن بلیوبرڈ کے جنرل کونسل کے طور پر کام کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ چونکہ مسک نے کمپنی خریدنے کے بعد برانڈ کو ’’ایکس‘‘ میں تبدیل کر دیا ہے اور پرانے نام اور علامت یعنی ‘نیلے پرندے کا لوگو’ مکمل طور پر ختم کر دیا ہے، اس لیے ‘ٹوئٹر’ نام اب تجارتی طور پر استعمال نہیں ہو رہا اور ویب سائٹ بھی ایکس ڈاٹ کام (&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="http://x.com"&gt;x.com&lt;/a&gt;) پر منتقل ہو چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایلون مسک نے 2023 میں اعلان کیا تھا کہ کمپنی ’’ٹوئٹر‘‘ اور اس کے لوگو ’’پرندے‘‘ کے تمام نشانات سے مرحلہ وار تبدیلی کر رہی ہے۔ موجودہ پلیٹ فارم سے نیلا پرندہ غائب ہو چکا ہے اور ویب ایڈریس بھی بڑی حد تک ایکس ڈاٹ کام کی طرف منتقل ہو گیا ہے، تاہم ٹوئٹر کا ایک ٹریڈ مارک رجسٹریشن 2023 میں تجدید کے بعد برقرار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30462163/"&gt;’ایکس‘ کی سروس بحال، ایلون مسک کا کمپنیوں پر مکمل توجہ دینے کا فیصلہ&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر واقعی ’’ایکس‘‘ کمپنی نے ٹوئٹر نام کا استعمال بند کر دیا ہے تو اسے اس نام پر اپنا حق ثابت کرنے میں مشکل ہو سکتی ہے۔ لیکن وہ پھر بھی کسی دوسرے ادارے کو یہ نام استعمال کرنے سے روکنے کی کوشش کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>نئی امریکی کمپنی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایلون مسک کی ملکیت سماجی رابطے کی سائٹ “ایکس” نے پرانا نام ’’ٹوئٹر‘‘ چھوڑ دیا ہے، اس لیے اب یہ نام وہ استعمال کرنا چاہتی ہے۔</strong></p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/technology/us-startup-seeks-reclaim-twitter-trademarks-abandoned-by-musks-x-2025-12-08/">رائٹرز </a>کے مطابق ورجینیا میں قائم آپریشن بلیوبرڈ نامی اسٹارٹ اَپ نے امریکی حکام کو درخواست دی ہے کہ ’’ٹوئٹر‘‘ اور ’’ٹویٹ‘‘ کے ٹریڈ مارک ختم کر دیے جائیں کیونکہ ان کے مطابق اب یہ نام استعمال نہیں ہو رہے۔ کمپنی چاہتی ہے کہ وہ اپنی نئی سوشل میڈیا سروس ٹوئٹر ڈاٹ نیو (<a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="http://twitter.new">twitter.new</a>) کے لیے یہ نام حاصل کرے۔ اس مقصد کے لیے ادارے نے نہ صرف ٹریڈ مارک کی منسوخی کی درخواست جمع کرائی ہے بلکہ ’’ٹوئٹر‘‘ کے نام سے نیا تجارتی اندراج بھی کروایا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30471806'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30471806"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure>
<p>یہ درخواست اسٹیفن کوٹس کی جانب سے دائر کی گئی ہے، جو ماضی میں ٹوئٹر کے ٹریڈ مارک وکیل رہ چکے ہیں اور اب آپریشن بلیوبرڈ کے جنرل کونسل کے طور پر کام کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ چونکہ مسک نے کمپنی خریدنے کے بعد برانڈ کو ’’ایکس‘‘ میں تبدیل کر دیا ہے اور پرانے نام اور علامت یعنی ‘نیلے پرندے کا لوگو’ مکمل طور پر ختم کر دیا ہے، اس لیے ‘ٹوئٹر’ نام اب تجارتی طور پر استعمال نہیں ہو رہا اور ویب سائٹ بھی ایکس ڈاٹ کام (<a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="http://x.com">x.com</a>) پر منتقل ہو چکی ہے۔</p>
<p>ایلون مسک نے 2023 میں اعلان کیا تھا کہ کمپنی ’’ٹوئٹر‘‘ اور اس کے لوگو ’’پرندے‘‘ کے تمام نشانات سے مرحلہ وار تبدیلی کر رہی ہے۔ موجودہ پلیٹ فارم سے نیلا پرندہ غائب ہو چکا ہے اور ویب ایڈریس بھی بڑی حد تک ایکس ڈاٹ کام کی طرف منتقل ہو گیا ہے، تاہم ٹوئٹر کا ایک ٹریڈ مارک رجسٹریشن 2023 میں تجدید کے بعد برقرار ہے۔</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30462163/">’ایکس‘ کی سروس بحال، ایلون مسک کا کمپنیوں پر مکمل توجہ دینے کا فیصلہ</a></p>
<p>قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر واقعی ’’ایکس‘‘ کمپنی نے ٹوئٹر نام کا استعمال بند کر دیا ہے تو اسے اس نام پر اپنا حق ثابت کرنے میں مشکل ہو سکتی ہے۔ لیکن وہ پھر بھی کسی دوسرے ادارے کو یہ نام استعمال کرنے سے روکنے کی کوشش کر سکتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30496208</guid>
      <pubDate>Tue, 09 Dec 2025 13:04:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/12/091000506ccbff3.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/12/091000506ccbff3.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
