<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Trending</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 18:08:56 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 18:08:56 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>برازیل کا ’اسٹیچو آف لبرٹی‘ تیز ہوا سے گر گیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30497062/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی شہرت یافتہ ’اسٹیچو آف لبرٹی‘ تیز ہوا سے گر گیا جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہندوستان ٹائمز کے مطابق جنوبی برازیل میں تیز آندھی کے باعث اسٹیچو آف لبرٹی کی ایک بڑی نقل گر نے سے ٹوٹ کر بکھر گئی تاہم خوش قسمتی سے واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ یہ واقعہ برازیل کی ریاست ریو گرانڈے ڈو سل کے میٹروپولیٹن علاقے میں پیش آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ملکی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ جنوبی برازیل کے شہر گوائیبا میں پیش آیا، جو پورٹو الیگری کے قریب واقع ہے۔ امریکہ کے مجسمۂ آزادی کی یہ نقل تقریباً 24 میٹر بلند تھی کو ایک ہاوان ریٹیل اسٹور کی پارکنگ میں نصب تھی۔ یہ واقعہ پیر 15 دسمبر کو پیش آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واقعے کی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ تیز ہوا کے باعث مجسمہ پہلے ایک جانب جھکتا ہے اور پھر اچانک زمین پر گر جاتا ہے، جب کہ قریب ہی ایک مصروف سڑک پر گاڑیاں معمول کے مطابق رواں دواں رہتی ہیں۔ یہ نقل ایک فاسٹ فوڈ آؤٹ لیٹ کے قریب نصب کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/ThePageZ_/status/2000793006467899682?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/ThePageZ_/status/2000793006467899682?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل مقامی سول ڈیفنس نے شدید ہواؤں کے پیش نظر ریڈ الرٹ جاری کیا تھا، جس میں شہریوں کو گھروں کے اندر رہنے، برقی آلات منقطع کرنے اور دروازے و کھڑکیاں محفوظ کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق یہ مجسمہ ہاوان ریٹیل چین کی ملکیت تھا۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ واقعے کے وقت علاقہ تقریباً خالی تھا، جس کے باعث عوام کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30495670'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30495670"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ تیز ہوائیں علاقے کو شدید متاثر کر رہی ہیں، جب کہ بعض موٹرسائیکل اور کار سوار افراد مجسمہ گرنے سے قبل اپنی گاڑیاں وہاں سے ہٹانے کی کوشش کرتے دکھائی دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سول ڈیفنس حکام کے مطابق واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے تکنیکی جائزہ لیا جائے گا اور آئندہ ایسے واقعات سے بچاؤ کے لیے سفارشات مرتب کی جائیں گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی شہرت یافتہ ’اسٹیچو آف لبرٹی‘ تیز ہوا سے گر گیا جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے۔</strong></p>
<p>ہندوستان ٹائمز کے مطابق جنوبی برازیل میں تیز آندھی کے باعث اسٹیچو آف لبرٹی کی ایک بڑی نقل گر نے سے ٹوٹ کر بکھر گئی تاہم خوش قسمتی سے واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ یہ واقعہ برازیل کی ریاست ریو گرانڈے ڈو سل کے میٹروپولیٹن علاقے میں پیش آیا۔</p>
<p>غیر ملکی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ جنوبی برازیل کے شہر گوائیبا میں پیش آیا، جو پورٹو الیگری کے قریب واقع ہے۔ امریکہ کے مجسمۂ آزادی کی یہ نقل تقریباً 24 میٹر بلند تھی کو ایک ہاوان ریٹیل اسٹور کی پارکنگ میں نصب تھی۔ یہ واقعہ پیر 15 دسمبر کو پیش آیا۔</p>
<p>واقعے کی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ تیز ہوا کے باعث مجسمہ پہلے ایک جانب جھکتا ہے اور پھر اچانک زمین پر گر جاتا ہے، جب کہ قریب ہی ایک مصروف سڑک پر گاڑیاں معمول کے مطابق رواں دواں رہتی ہیں۔ یہ نقل ایک فاسٹ فوڈ آؤٹ لیٹ کے قریب نصب کی گئی تھی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/ThePageZ_/status/2000793006467899682?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/ThePageZ_/status/2000793006467899682?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>اس سے قبل مقامی سول ڈیفنس نے شدید ہواؤں کے پیش نظر ریڈ الرٹ جاری کیا تھا، جس میں شہریوں کو گھروں کے اندر رہنے، برقی آلات منقطع کرنے اور دروازے و کھڑکیاں محفوظ کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق یہ مجسمہ ہاوان ریٹیل چین کی ملکیت تھا۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ واقعے کے وقت علاقہ تقریباً خالی تھا، جس کے باعث عوام کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30495670'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30495670"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ تیز ہوائیں علاقے کو شدید متاثر کر رہی ہیں، جب کہ بعض موٹرسائیکل اور کار سوار افراد مجسمہ گرنے سے قبل اپنی گاڑیاں وہاں سے ہٹانے کی کوشش کرتے دکھائی دیتے ہیں۔</p>
<p>سول ڈیفنس حکام کے مطابق واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے تکنیکی جائزہ لیا جائے گا اور آئندہ ایسے واقعات سے بچاؤ کے لیے سفارشات مرتب کی جائیں گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30497062</guid>
      <pubDate>Tue, 16 Dec 2025 13:08:47 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/12/161044599f1d3d2.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/12/161044599f1d3d2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
