<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 00:36:13 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 00:36:13 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سڈنی واقعے میں ملوث بھارتی حملہ آوروں کے پاسپورٹ منظرِ عام پر</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30497135/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں ہونے والے حالیہ حملے کے معاملے میں ایک نیا رخ سامنے آیا ہے، جہاں دونوں حملہ آور ساجد اکرم اور نوید اکرم سے منسوب پاسپورٹس منظر عام پر آگئے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دستاویزات کے مطابق ساجد اکرم کا پاسپورٹ بھارتی ایمبیسی کی جانب سے 24 فروری 2022 کو دس سال کی مدت کے لیے جاری کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان دستاویزات کے سامنے آنے کے بعد یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ بھارتی حکام کو ابتدا ہی سے حملہ آور کی بھارتی شہریت کا علم تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ بھارتی حکام نے جان بوجھ کر اس حقیقت کو چھپائے رکھا، جس کے نتیجے میں میڈیا کو پاکستان پر الزامات عائد کرنے کے لیے وقت مل گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس دوران بھارتی میڈیا پر ایسی رپورٹس اور تبصرے سامنے آئے جن میں حملہ آور کو پاکستانی قرار دینے کی کوشش کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ناقدین کے مطابق یہ گمراہ کن پروپیگنڈا پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کرنے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  ' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=irSvGQdTmi8'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/irSvGQdTmi8?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یہ معاملہ اس پس منظر میں بھی زیر بحث آ رہا ہے کہ برطانوی اخبار دی گارڈین کی ایک رپورٹ کے مطابق آسٹریلیا نے سال 2020 میں بھارتی خفیہ ایجنسی “را” سے وابستہ دو اہلکاروں کو ملک بدر کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آسٹریلوی خفیہ اداروں نے اس اقدام کو “جاسوسوں کا گٹھ جوڑ” قرار دیا تھا۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ اس وقت نکالے گئے بھارتی ایجنٹس آسٹریلیا میں مقیم بھارتی افراد کی پروفائلنگ میں ملوث تھے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30497133/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30497133"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ سڈنی حملے میں ملوث دونوں افراد کے بھارت کی خفیہ ایجنسی “را” سے روابط ہونے کے امکانات کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا، تاہم اس حوالے سے حتمی رائے تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آ سکے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب متعلقہ حکام کی جانب سے تاحال ان دعوؤں پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ آسٹریلوی حکام کی تحقیقات جاری ہیں اور واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں ہونے والے حالیہ حملے کے معاملے میں ایک نیا رخ سامنے آیا ہے، جہاں دونوں حملہ آور ساجد اکرم اور نوید اکرم سے منسوب پاسپورٹس منظر عام پر آگئے ہیں۔</strong></p>
<p>دستاویزات کے مطابق ساجد اکرم کا پاسپورٹ بھارتی ایمبیسی کی جانب سے 24 فروری 2022 کو دس سال کی مدت کے لیے جاری کیا گیا تھا۔</p>
<p>ان دستاویزات کے سامنے آنے کے بعد یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ بھارتی حکام کو ابتدا ہی سے حملہ آور کی بھارتی شہریت کا علم تھا۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ بھارتی حکام نے جان بوجھ کر اس حقیقت کو چھپائے رکھا، جس کے نتیجے میں میڈیا کو پاکستان پر الزامات عائد کرنے کے لیے وقت مل گیا۔</p>
<p>اس دوران بھارتی میڈیا پر ایسی رپورٹس اور تبصرے سامنے آئے جن میں حملہ آور کو پاکستانی قرار دینے کی کوشش کی گئی۔</p>
<p>ناقدین کے مطابق یہ گمراہ کن پروپیگنڈا پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کرنے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  ' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=irSvGQdTmi8'>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/irSvGQdTmi8?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure>
<p>یہ معاملہ اس پس منظر میں بھی زیر بحث آ رہا ہے کہ برطانوی اخبار دی گارڈین کی ایک رپورٹ کے مطابق آسٹریلیا نے سال 2020 میں بھارتی خفیہ ایجنسی “را” سے وابستہ دو اہلکاروں کو ملک بدر کیا تھا۔</p>
<p>آسٹریلوی خفیہ اداروں نے اس اقدام کو “جاسوسوں کا گٹھ جوڑ” قرار دیا تھا۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ اس وقت نکالے گئے بھارتی ایجنٹس آسٹریلیا میں مقیم بھارتی افراد کی پروفائلنگ میں ملوث تھے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30497133/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30497133"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ سڈنی حملے میں ملوث دونوں افراد کے بھارت کی خفیہ ایجنسی “را” سے روابط ہونے کے امکانات کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا، تاہم اس حوالے سے حتمی رائے تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آ سکے گی۔</p>
<p>دوسری جانب متعلقہ حکام کی جانب سے تاحال ان دعوؤں پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ آسٹریلوی حکام کی تحقیقات جاری ہیں اور واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30497135</guid>
      <pubDate>Wed, 17 Dec 2025 17:59:52 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/12/171503476b2e410.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/12/171503476b2e410.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
