<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Sports</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 16:29:02 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 16:29:02 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کئی پاکستانی کرکٹرز بگ بیش لیگ چھوڑنے کے لیے تیار</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30497209/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارت اور سری لنکا میں شیڈول آئی سی سی مینز ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 کی تیاریوں کے سلسلے میں آسٹریلوی ٹی 20 بگ بیش لیگ (بی بی ایل) میں حصہ لینے والے کئی پاکستانی کرکٹرز  آسٹریلیا چھوڑ کر سری لنکا جانے کے لیے تیار ہیں تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ سلیکٹرز اور متعلقہ حکام سے مشاورت کے بعد متوقع ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://tribune.com.pk/story/2582811/several-pakistani-cricketers-ready-to-leave-bbl"&gt;ایکسپریس ٹریبیون &lt;/a&gt;کے مطابق اس وقت متعدد پاکستانی کرکٹرز آسٹریلیا میں بگ بیش لیگ کی مختلف ٹیموں کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ کرکٹ آسٹریلیا کے چیف ایگزیکٹو ٹوڈ گرین برگ نے گزشتہ روز بیان دیا تھا کہ سری لنکا کے خلاف آئندہ سیریز کے باوجود پاکستانی کھلاڑی پورے بگ بیش لیگ سیزن کے لیے دستیاب رہیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب پاکستان کرکٹ ٹیم 7، 10 اور 11 جنوری 2026 کو سری لنکا کے شہر دمبولا میں میزبان ٹیم کے خلاف تین ٹی 20 میچز کھیلے گی جب کہ 7 فروری سے شروع ہونے والے ٹی 20 ورلڈ کپ کے میچز بھی سری لنکا کے مختلف مقامات پر ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض پاکستانی کھلاڑیوں نے قومی ٹیم کے تھنک ٹینک سے رابطہ کیا ہے اور سری لنکا سیریز میں شرکت کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ کھلاڑیوں کا مؤقف ہے کہ آسٹریلیا اور سری لنکا کے کنڈیشنز اور پچز میں نمایاں فرق ہے اور براہِ راست آسٹریلوی حالات سے ٹی 20 ورلڈ کپ میں جانا کارکردگی پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="پاکستان-کا-دورہ-سری-لنکا-بی-بی-ایل-کھیلنے-والے-کھلاڑیوں-کی-شرکت-مشکوک" href="#پاکستان-کا-دورہ-سری-لنکا-بی-بی-ایل-کھیلنے-والے-کھلاڑیوں-کی-شرکت-مشکوک" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30497148/"&gt;پاکستان کا دورہ سری لنکا: بی بی ایل کھیلنے والے کھلاڑیوں کی شرکت مشکوک&lt;/a&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق بگ بیش لیگ کے معاہدے اس وقت طے پائے تھے جب سری لنکا سیریز کا شیڈول سامنے نہیں آیا تھا۔ کھلاڑیوں کو خدشہ ہے کہ اگر میگا ایونٹ میں کارکردگی متاثر ہوئی تو لیگ اور مالی معاملات کو ترجیح دینے کا الزام ان پر عائد کیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر سلیکٹرز بعض نئے کھلاڑیوں کو آزمانے کے خواہاں ہیں، اسی لیے سینئر کھلاڑیوں کو فوری طور پر آسٹریلیا سے واپس نہ بلانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے تاہم اگر کوئی کھلاڑی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یکطرفہ طور پر واپس آتا ہے تو اسے بھاری مالی جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30485153/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30485153"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق اگر پاکستان کرکٹ بورڈ باضابطہ طور پر کھلاڑیوں کو قومی ڈیوٹی کے لیے طلب کرتا ہے تو صورت حال مختلف ہوگی، کیوں کہ ہر معاہدے میں اس کی شق موجود ہوتی ہے۔ اس حوالے سے حتمی فیصلہ آئندہ چند روز میں متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="بگ-بیش-لیگ-میں-کون-سا-پاکستانی-کھلاڑی-کس-فرنچائز-کا-حصہ-بنا" href="#بگ-بیش-لیگ-میں-کون-سا-پاکستانی-کھلاڑی-کس-فرنچائز-کا-حصہ-بنا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30466743/"&gt;بگ بیش لیگ میں کون سا پاکستانی کھلاڑی کس فرنچائز کا حصہ بنا؟&lt;/a&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;فی الوقت بگ بیش لیگ میں شریک پاکستانی کھلاڑیوں میں بابر اعظم (سڈنی سکسزرز)، شاہین شاہ آفریدی (برسبین ہیٹ)، حسن علی (ایڈیلیڈ اسٹرائیکرز)، محمد رضوان (میلبورن رینیگیڈز)، حارث رؤف (میلبورن اسٹارز) اور شاداب خان (سڈنی تھنڈر) شامل ہیں۔ بگ بیش لیگ 25 جنوری تک جاری رہے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارت اور سری لنکا میں شیڈول آئی سی سی مینز ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 کی تیاریوں کے سلسلے میں آسٹریلوی ٹی 20 بگ بیش لیگ (بی بی ایل) میں حصہ لینے والے کئی پاکستانی کرکٹرز  آسٹریلیا چھوڑ کر سری لنکا جانے کے لیے تیار ہیں تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ سلیکٹرز اور متعلقہ حکام سے مشاورت کے بعد متوقع ہے۔</strong></p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://tribune.com.pk/story/2582811/several-pakistani-cricketers-ready-to-leave-bbl">ایکسپریس ٹریبیون </a>کے مطابق اس وقت متعدد پاکستانی کرکٹرز آسٹریلیا میں بگ بیش لیگ کی مختلف ٹیموں کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ کرکٹ آسٹریلیا کے چیف ایگزیکٹو ٹوڈ گرین برگ نے گزشتہ روز بیان دیا تھا کہ سری لنکا کے خلاف آئندہ سیریز کے باوجود پاکستانی کھلاڑی پورے بگ بیش لیگ سیزن کے لیے دستیاب رہیں گے۔</p>
<p>دوسری جانب پاکستان کرکٹ ٹیم 7، 10 اور 11 جنوری 2026 کو سری لنکا کے شہر دمبولا میں میزبان ٹیم کے خلاف تین ٹی 20 میچز کھیلے گی جب کہ 7 فروری سے شروع ہونے والے ٹی 20 ورلڈ کپ کے میچز بھی سری لنکا کے مختلف مقامات پر ہوں گے۔</p>
<p>ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض پاکستانی کھلاڑیوں نے قومی ٹیم کے تھنک ٹینک سے رابطہ کیا ہے اور سری لنکا سیریز میں شرکت کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ کھلاڑیوں کا مؤقف ہے کہ آسٹریلیا اور سری لنکا کے کنڈیشنز اور پچز میں نمایاں فرق ہے اور براہِ راست آسٹریلوی حالات سے ٹی 20 ورلڈ کپ میں جانا کارکردگی پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔</p>
<h1><a id="پاکستان-کا-دورہ-سری-لنکا-بی-بی-ایل-کھیلنے-والے-کھلاڑیوں-کی-شرکت-مشکوک" href="#پاکستان-کا-دورہ-سری-لنکا-بی-بی-ایل-کھیلنے-والے-کھلاڑیوں-کی-شرکت-مشکوک" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><a href="https://www.aaj.tv/news/30497148/">پاکستان کا دورہ سری لنکا: بی بی ایل کھیلنے والے کھلاڑیوں کی شرکت مشکوک</a></h1>
<p>ذرائع کے مطابق بگ بیش لیگ کے معاہدے اس وقت طے پائے تھے جب سری لنکا سیریز کا شیڈول سامنے نہیں آیا تھا۔ کھلاڑیوں کو خدشہ ہے کہ اگر میگا ایونٹ میں کارکردگی متاثر ہوئی تو لیگ اور مالی معاملات کو ترجیح دینے کا الزام ان پر عائد کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p>ادھر سلیکٹرز بعض نئے کھلاڑیوں کو آزمانے کے خواہاں ہیں، اسی لیے سینئر کھلاڑیوں کو فوری طور پر آسٹریلیا سے واپس نہ بلانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے تاہم اگر کوئی کھلاڑی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یکطرفہ طور پر واپس آتا ہے تو اسے بھاری مالی جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30485153/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30485153"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ذرائع کے مطابق اگر پاکستان کرکٹ بورڈ باضابطہ طور پر کھلاڑیوں کو قومی ڈیوٹی کے لیے طلب کرتا ہے تو صورت حال مختلف ہوگی، کیوں کہ ہر معاہدے میں اس کی شق موجود ہوتی ہے۔ اس حوالے سے حتمی فیصلہ آئندہ چند روز میں متوقع ہے۔</p>
<h1><a id="بگ-بیش-لیگ-میں-کون-سا-پاکستانی-کھلاڑی-کس-فرنچائز-کا-حصہ-بنا" href="#بگ-بیش-لیگ-میں-کون-سا-پاکستانی-کھلاڑی-کس-فرنچائز-کا-حصہ-بنا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><a href="https://www.aaj.tv/news/30466743/">بگ بیش لیگ میں کون سا پاکستانی کھلاڑی کس فرنچائز کا حصہ بنا؟</a></h1>
<p>فی الوقت بگ بیش لیگ میں شریک پاکستانی کھلاڑیوں میں بابر اعظم (سڈنی سکسزرز)، شاہین شاہ آفریدی (برسبین ہیٹ)، حسن علی (ایڈیلیڈ اسٹرائیکرز)، محمد رضوان (میلبورن رینیگیڈز)، حارث رؤف (میلبورن اسٹارز) اور شاداب خان (سڈنی تھنڈر) شامل ہیں۔ بگ بیش لیگ 25 جنوری تک جاری رہے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30497209</guid>
      <pubDate>Thu, 18 Dec 2025 20:04:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/12/181906411517bbb.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/12/181906411517bbb.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
