<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 01:58:16 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 01:58:16 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>”تمھارے کرتوت سب کے سامنے رکھوں؟“: علیم خان اور پلوشہ خان میں تلخ کلامی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30497261/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کے اجلاس میں وزیر مواصلات علیم خان اور سینیٹر پلوشہ خان کے درمیان سخت تلخ کلامی دیکھنے میں آئی۔ علیم خان نے طیش میں آ کر کہا، تمھارے کرتوت سب کے سامنے رکھوں گا، مجھ سے اس طرح بات کرنے کی جرات کیسے کی؟ جواب میں پلوشہ خان نے کہا کہ علیم خان سوال پرغصہ اس لیے کررہے ہیں کیونکہ وہ قصوروار ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کے اجلاس میں وزیرمواصلات علیم خان نے کہا کہ سینیٹ میں مجھ پرہاؤسنگ سوسائٹی کو فائدہ پہنچانے کا الزام لگایا گیا، میں اس سوال کو اپنی ذاتی تذلیل سمجھتا ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیپلز پارٹی کی سینیٹر پلوشہ خان نے جواب دیا کہ سوال کرنا الزام لگانا نہیں ہوتا، آپ اس سوال کواتنا ذاتی نوعیت کا کیوں سمجھ رہے ہیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس کے دوران علیم خان اورسینیٹرپلوشہ خان کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔ دونوں جانب سے ذاتی نوعیت کےالزامات بھی عائد کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینیٹر پلوشہ خان نے کہا کہ سوال کرنے پر وفاقی وزیرسیخ پا ہیں،اس پرعلیم خان نے کہا کہ دنیا جہاں کے بے ایمان یہاں اکٹھے ہو گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پلوشہ خان نے کہا کہ آپ سوال کرنے پرسیخ پا ہیں کیوں کہ آپ گلٹی ہیں، علیم خان نے جواب دیا کہ میں تمہارے کرتوت سب کے سامنے رکھوں؟ مجھ سے ایسے بات کرنے کی تمہاری جرات کیسے ہوئی؟&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/ahmadwaraichh/status/2001967257224991215'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/ahmadwaraichh/status/2001967257224991215"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;سینیٹر پلوشہ خان نے کہا کہ وزیرمواصلات کے رویے پر کمیٹی رولنگ دے، علیم خان اگرمیری ذات پر بات کرنا چاہتے ہیں تو کریں۔ انھوں نے مطالبہ کہا کہ وفاقی وزیرکے موجودہ رویے پرسخت ایکشن لیا جائے۔ اجلاس میں سیکریٹری مواصلات نے سینیٹر پلوشہ خان کو منانے کی کوشش کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر پلوشہ خان نے کہا کہ اجلاس میں میرا سوال کرنا حق ہے، جواب دینا وفاقی وزیر کا حق ہے، کمیٹی میٹنگ میں میرے سوال پر وہ بھڑک اٹھے، میں نے اس حوالے سے سوال نہیں کیا کہ ان کی سوسائٹی کیسے ڈوبی، لوگوں کو بے یارو مددگار چھوڑ دیا گیا، میرا سوال کچھ اور تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پلوشہ خان نےکہا کہ انہوں نے سب کو بلیک میلر اور بے ایمان کہا، ان کی وزارت کے کرتوت آئی ایم ایف کی رپورٹ میں ہیں، یہ حکومت اپنے آپ کو کیا سمجھنے لگی ہے، کیا یہ ڈنڈے لے کر لوگوں کو چپ کرائیں گے؟ یہ سینیٹ ارکان کو بھی چپ کرائیں گے، یہ ایم این اے کو بھی دھمکیاں دیں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کے اجلاس میں وزیر مواصلات علیم خان اور سینیٹر پلوشہ خان کے درمیان سخت تلخ کلامی دیکھنے میں آئی۔ علیم خان نے طیش میں آ کر کہا، تمھارے کرتوت سب کے سامنے رکھوں گا، مجھ سے اس طرح بات کرنے کی جرات کیسے کی؟ جواب میں پلوشہ خان نے کہا کہ علیم خان سوال پرغصہ اس لیے کررہے ہیں کیونکہ وہ قصوروار ہیں۔</strong></p>
<p>قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کے اجلاس میں وزیرمواصلات علیم خان نے کہا کہ سینیٹ میں مجھ پرہاؤسنگ سوسائٹی کو فائدہ پہنچانے کا الزام لگایا گیا، میں اس سوال کو اپنی ذاتی تذلیل سمجھتا ہوں۔</p>
<p>پیپلز پارٹی کی سینیٹر پلوشہ خان نے جواب دیا کہ سوال کرنا الزام لگانا نہیں ہوتا، آپ اس سوال کواتنا ذاتی نوعیت کا کیوں سمجھ رہے ہیں؟</p>
<p>اجلاس کے دوران علیم خان اورسینیٹرپلوشہ خان کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔ دونوں جانب سے ذاتی نوعیت کےالزامات بھی عائد کیے گئے۔</p>
<p>سینیٹر پلوشہ خان نے کہا کہ سوال کرنے پر وفاقی وزیرسیخ پا ہیں،اس پرعلیم خان نے کہا کہ دنیا جہاں کے بے ایمان یہاں اکٹھے ہو گئے ہیں۔</p>
<p>پلوشہ خان نے کہا کہ آپ سوال کرنے پرسیخ پا ہیں کیوں کہ آپ گلٹی ہیں، علیم خان نے جواب دیا کہ میں تمہارے کرتوت سب کے سامنے رکھوں؟ مجھ سے ایسے بات کرنے کی تمہاری جرات کیسے ہوئی؟</p>
    <figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/ahmadwaraichh/status/2001967257224991215'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/ahmadwaraichh/status/2001967257224991215"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>سینیٹر پلوشہ خان نے کہا کہ وزیرمواصلات کے رویے پر کمیٹی رولنگ دے، علیم خان اگرمیری ذات پر بات کرنا چاہتے ہیں تو کریں۔ انھوں نے مطالبہ کہا کہ وفاقی وزیرکے موجودہ رویے پرسخت ایکشن لیا جائے۔ اجلاس میں سیکریٹری مواصلات نے سینیٹر پلوشہ خان کو منانے کی کوشش کی۔</p>
<p>کمیٹی اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر پلوشہ خان نے کہا کہ اجلاس میں میرا سوال کرنا حق ہے، جواب دینا وفاقی وزیر کا حق ہے، کمیٹی میٹنگ میں میرے سوال پر وہ بھڑک اٹھے، میں نے اس حوالے سے سوال نہیں کیا کہ ان کی سوسائٹی کیسے ڈوبی، لوگوں کو بے یارو مددگار چھوڑ دیا گیا، میرا سوال کچھ اور تھا۔</p>
<p>پلوشہ خان نےکہا کہ انہوں نے سب کو بلیک میلر اور بے ایمان کہا، ان کی وزارت کے کرتوت آئی ایم ایف کی رپورٹ میں ہیں، یہ حکومت اپنے آپ کو کیا سمجھنے لگی ہے، کیا یہ ڈنڈے لے کر لوگوں کو چپ کرائیں گے؟ یہ سینیٹ ارکان کو بھی چپ کرائیں گے، یہ ایم این اے کو بھی دھمکیاں دیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30497261</guid>
      <pubDate>Fri, 19 Dec 2025 19:58:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (نوید اکبر)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/12/19192940b6b98e9.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/12/19192940b6b98e9.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
