<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Technology</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 21:16:30 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 21:16:30 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وہیل چیئر استعمال کرنے والی پہلی خلا باز کی زمین پر واپسی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30497350/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جرمنی سے تعلق رکھنے والی مائیکائلا بینتھاؤس نے 20 دسمبر 2025 کو ایک تاریخی کارنامہ انجام دیا ہے۔ وہ دنیا کی پہلی ایسی خلا باز بن گئی ہیں جنہوں نے وہیل چیئر پر ہونے کے باوجود خلا کا سفر کیا۔&lt;/strong&gt; &lt;br&gt;&lt;br&gt;امریکی جریدے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.theguardian.com/science/2025/dec/20/first-wheelchair-using-astronaut-blur-origin-rocket"&gt;دی گارجین &lt;/a&gt;کے مطابق جرمنی کی 33 سالہ انجینئر مائیکائلا بینتھاؤس نے ہفتے کے روز ارب پتی جیف بیزوس کی کمپنی ’بلیو اوریجن‘ کے راکٹ ’نیو شیفرڈ‘ کے ذریعے خلا کا سفر کیا۔ &lt;br&gt;&lt;br&gt;وہ پانچ دیگر مسافروں کے ہمراہ امریکی ریاست ٹیکساس کے مغربی علاقے سے روانہ ہوئیں اور زمین کی سطح سے 105 کلومیٹر بلندی پر جا پہنچیں۔ جہاں انہوں نے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ خلا کی حد (کارمین لائن) کو عبور کیا۔ یہ پوری پرواز تقریباً 10 منٹ جاری رہی۔&lt;br&gt;33 سالہ مائیکائلا ایک ایرو اسپیس انجینئر ہیں جو یورپی خلائی ایجنسی (ای ایس اے) میں کام کرتی ہیں۔ 2018 میں ایک حادثے کے نتیجے میں وہ معذور ہوگئی تھیں، لیکن انہوں نے اپنے خواب کو پورا کرنے کے لیے جدوجہد جاری رکھی۔&lt;br&gt;&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30497341/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30497341"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;&lt;br&gt;پرواز کے دوران انہوں نے وہیل چیئر زمین پر ہی رہنے دی اور خلا میں قیام کے دوران انہوں نے تقریباً 3 منٹ تک کششِ ثقل کے بغیر ’بے وزنی‘ کا تجربہ کیا، جہاں وہ کیپسول میں تیرتی رہیں۔&lt;br&gt;&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/i/status/2002454714575692119'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/i/status/2002454714575692119"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس پرواز میں اسپیس ایکس کے سابق اعلیٰ عہدیدار ہانس کوئنیگسمین بھی شامل تھے، جنہوں نے اس مشن کی تنظیم میں کردار ادا کیا اور بلیو اوریجن کے ساتھ مل کر اس سفر کی معاونت کی جبکہ اس کے ٹکٹ کی قیمت ظاہر نہیں کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مائیکائلا بینتھاؤس یورپی خلائی ایجنسی کے گریجویٹ ٹرینی پروگرام سے وابستہ ہیں اور اس سے قبل 2022 میں پیرا بولک پرواز کے ذریعے مختصر وزن سے آزادی کا تجربہ حاصل کر چکی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پرواز کے بعد ان کا کہنا تھا کہ خاص طور پر معذوری کے بعد انہیں یقین نہیں تھا کہ خلا کا سفر ان کے لیے ممکن ہو سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ معذور افراد کے خلا میں جانے کی کوئی مثال موجود نہیں تھی، اسی لیے یہ موقع ان کے لیے غیر متوقع تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ یہ مشن نجی نوعیت کا تھا اور یورپی خلائی ایجنسی اس میں شامل نہیں تھی، تاہم رواں سال ای ایس اے نے ایک معذور خلاباز کو مستقبل میں بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے لیے کلیئرنس دی ہے۔&lt;br&gt;&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  ' data-original-src='https://www.aaj.tv/latest-news'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://www.aaj.tv/latest-news'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;مائیکائلا بینتھاؤس کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد نہ صرف خلا بلکہ زمین پر بھی معذور افراد کے لیے رسائی کو بہتر بنانا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آپ کو اپنے خوابوں سے کبھی دستبردار نہیں ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلیو اوریجن کے مطابق اس پرواز کے ساتھ خلا کا سفر کرنے والوں کی مجموعی تعداد 86 ہو گئی ہے۔ کمپنی کے بانی جیف بیزوس نے بلیو اوریجن 2000 میں قائم کی تھی اور 2021 میں پہلی انسانی خلائی پرواز مکمل کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جرمنی سے تعلق رکھنے والی مائیکائلا بینتھاؤس نے 20 دسمبر 2025 کو ایک تاریخی کارنامہ انجام دیا ہے۔ وہ دنیا کی پہلی ایسی خلا باز بن گئی ہیں جنہوں نے وہیل چیئر پر ہونے کے باوجود خلا کا سفر کیا۔</strong> <br><br>امریکی جریدے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.theguardian.com/science/2025/dec/20/first-wheelchair-using-astronaut-blur-origin-rocket">دی گارجین </a>کے مطابق جرمنی کی 33 سالہ انجینئر مائیکائلا بینتھاؤس نے ہفتے کے روز ارب پتی جیف بیزوس کی کمپنی ’بلیو اوریجن‘ کے راکٹ ’نیو شیفرڈ‘ کے ذریعے خلا کا سفر کیا۔ <br><br>وہ پانچ دیگر مسافروں کے ہمراہ امریکی ریاست ٹیکساس کے مغربی علاقے سے روانہ ہوئیں اور زمین کی سطح سے 105 کلومیٹر بلندی پر جا پہنچیں۔ جہاں انہوں نے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ خلا کی حد (کارمین لائن) کو عبور کیا۔ یہ پوری پرواز تقریباً 10 منٹ جاری رہی۔<br>33 سالہ مائیکائلا ایک ایرو اسپیس انجینئر ہیں جو یورپی خلائی ایجنسی (ای ایس اے) میں کام کرتی ہیں۔ 2018 میں ایک حادثے کے نتیجے میں وہ معذور ہوگئی تھیں، لیکن انہوں نے اپنے خواب کو پورا کرنے کے لیے جدوجہد جاری رکھی۔<br></p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30497341/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30497341"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p><br>پرواز کے دوران انہوں نے وہیل چیئر زمین پر ہی رہنے دی اور خلا میں قیام کے دوران انہوں نے تقریباً 3 منٹ تک کششِ ثقل کے بغیر ’بے وزنی‘ کا تجربہ کیا، جہاں وہ کیپسول میں تیرتی رہیں۔<br></p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/i/status/2002454714575692119'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/i/status/2002454714575692119"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>اس پرواز میں اسپیس ایکس کے سابق اعلیٰ عہدیدار ہانس کوئنیگسمین بھی شامل تھے، جنہوں نے اس مشن کی تنظیم میں کردار ادا کیا اور بلیو اوریجن کے ساتھ مل کر اس سفر کی معاونت کی جبکہ اس کے ٹکٹ کی قیمت ظاہر نہیں کی گئی ہے۔</p>
<p>مائیکائلا بینتھاؤس یورپی خلائی ایجنسی کے گریجویٹ ٹرینی پروگرام سے وابستہ ہیں اور اس سے قبل 2022 میں پیرا بولک پرواز کے ذریعے مختصر وزن سے آزادی کا تجربہ حاصل کر چکی تھیں۔</p>
<p>پرواز کے بعد ان کا کہنا تھا کہ خاص طور پر معذوری کے بعد انہیں یقین نہیں تھا کہ خلا کا سفر ان کے لیے ممکن ہو سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ معذور افراد کے خلا میں جانے کی کوئی مثال موجود نہیں تھی، اسی لیے یہ موقع ان کے لیے غیر متوقع تھا۔</p>
<p>اگرچہ یہ مشن نجی نوعیت کا تھا اور یورپی خلائی ایجنسی اس میں شامل نہیں تھی، تاہم رواں سال ای ایس اے نے ایک معذور خلاباز کو مستقبل میں بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے لیے کلیئرنس دی ہے۔<br></p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  ' data-original-src='https://www.aaj.tv/latest-news'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://www.aaj.tv/latest-news'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>مائیکائلا بینتھاؤس کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد نہ صرف خلا بلکہ زمین پر بھی معذور افراد کے لیے رسائی کو بہتر بنانا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آپ کو اپنے خوابوں سے کبھی دستبردار نہیں ہونا چاہیے۔</p>
<p>بلیو اوریجن کے مطابق اس پرواز کے ساتھ خلا کا سفر کرنے والوں کی مجموعی تعداد 86 ہو گئی ہے۔ کمپنی کے بانی جیف بیزوس نے بلیو اوریجن 2000 میں قائم کی تھی اور 2021 میں پہلی انسانی خلائی پرواز مکمل کی گئی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30497350</guid>
      <pubDate>Sun, 21 Dec 2025 14:57:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/12/21134958ca62357.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/12/21134958ca62357.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
