<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 15:06:01 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 15:06:01 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران میں طالبان حکومت کے مخالف سابق افغان سیکیورٹی کمانڈر قتل</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30497564/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران میں طالبان حکومت کے مخالف افغانستان کے سابق پولیس چیف کو قتل کردیا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.afintl.com/en/202512255589"&gt;میڈیا &lt;/a&gt;کے مطابق افغانستان کے سابق پولیس چیف اکرام الدین سری کو تہران کی ولی عصر اسٹریٹ پر اپنے دفتر سے نکلتے وقت گولی ماری گئی، انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل ستمبر میں اسماعیل خان کے قریبی ساتھی معروف غلامی کو مشہد میں گولی مار کر قتل کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں مقتولین کے قریبی ساتھیوں کا کہنا ہے کہ ان حملوں کے پیچھے طالبان ملوث ہیں اور یہ واقعات ایران کی جانب سے ’’خاموشی‘‘ کے ماحول میں پیش آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سابق افغان حکومت کے ایک سینئر جنرل کے تہران میں قتل نے ایران میں موجود سابق افغان فوجیوں اور افسران کو پریشان کر دیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ طالبان گزشتہ برسوں میں سابق سیکیورٹی اہلکاروں کو گرفتار اور قتل کرتے رہے ہیں، اور اب وہ اُن افراد کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں جنہیں وہ اپنے لیے ممکنہ خطرہ سمجھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30497322'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30497322"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;رپورٹس کے مطابق ایران نے اگرچہ بڑی تعداد میں سابق افغان فوجی اہلکاروں کو پناہ دی ہے، مگر انہیں قتل کی دھمکیوں سے محفوظ رکھنے میں ناکام رہا ہے۔ سری’ تہران جبکہ غلامی مشہد جیسے اہم مذہبی شہر میں قتل ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی پولیس نے غلامی کیس میں تین مشتبہ افراد کو حراست میں لیا تھا، تاہم بعد ازاں دو کو رہا کر دیا گیا۔ پولیس کے مطابق ایک شخص کے خلاف شواہد موجود ہیں، مگر اس کی شناخت یا تعلق ظاہر نہیں کیا گیا۔ ایک ذریعے نے بتایا کہ گرفتار شخص طالبان سے منسلک تھا اور اس کیس میں گروپ کا براہِ راست کردار بتایا جاتا ہے، لیکن ایرانی حکام نے تاحال باضابطہ تفصیلات جاری نہیں کیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران میں طالبان حکومت کے مخالف افغانستان کے سابق پولیس چیف کو قتل کردیا گیا۔</strong></p>
<p>ایرانی <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.afintl.com/en/202512255589">میڈیا </a>کے مطابق افغانستان کے سابق پولیس چیف اکرام الدین سری کو تہران کی ولی عصر اسٹریٹ پر اپنے دفتر سے نکلتے وقت گولی ماری گئی، انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔</p>
<p>اس سے قبل ستمبر میں اسماعیل خان کے قریبی ساتھی معروف غلامی کو مشہد میں گولی مار کر قتل کیا گیا تھا۔</p>
<p>دونوں مقتولین کے قریبی ساتھیوں کا کہنا ہے کہ ان حملوں کے پیچھے طالبان ملوث ہیں اور یہ واقعات ایران کی جانب سے ’’خاموشی‘‘ کے ماحول میں پیش آئے۔</p>
<p>سابق افغان حکومت کے ایک سینئر جنرل کے تہران میں قتل نے ایران میں موجود سابق افغان فوجیوں اور افسران کو پریشان کر دیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ طالبان گزشتہ برسوں میں سابق سیکیورٹی اہلکاروں کو گرفتار اور قتل کرتے رہے ہیں، اور اب وہ اُن افراد کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں جنہیں وہ اپنے لیے ممکنہ خطرہ سمجھتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30497322'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30497322"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>رپورٹس کے مطابق ایران نے اگرچہ بڑی تعداد میں سابق افغان فوجی اہلکاروں کو پناہ دی ہے، مگر انہیں قتل کی دھمکیوں سے محفوظ رکھنے میں ناکام رہا ہے۔ سری’ تہران جبکہ غلامی مشہد جیسے اہم مذہبی شہر میں قتل ہوئے۔</p>
<p>ایرانی پولیس نے غلامی کیس میں تین مشتبہ افراد کو حراست میں لیا تھا، تاہم بعد ازاں دو کو رہا کر دیا گیا۔ پولیس کے مطابق ایک شخص کے خلاف شواہد موجود ہیں، مگر اس کی شناخت یا تعلق ظاہر نہیں کیا گیا۔ ایک ذریعے نے بتایا کہ گرفتار شخص طالبان سے منسلک تھا اور اس کیس میں گروپ کا براہِ راست کردار بتایا جاتا ہے، لیکن ایرانی حکام نے تاحال باضابطہ تفصیلات جاری نہیں کیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30497564</guid>
      <pubDate>Fri, 26 Dec 2025 10:23:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/12/26094245f687ce5.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/12/26094245f687ce5.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
