<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Life &amp; Style</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 11 Jun 2026 20:17:27 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 11 Jun 2026 20:17:27 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سردیوں میں آگ سینکنا سکون یا خطرہ؟ 5 بڑے نقصانات اور احتیاطی تدابیر</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30497579/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سردیوں کے موسم میں جب دھند اور ٹھنڈی ہوائیں شدت اختیار کر لیتی ہیں تو آگ سینکنا ایک عام عادت بن جاتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سڑک کنارے، گھروں کے صحن، دکانوں یا حتیٰ کہ کمروں میں انگیٹھی اور لکڑی جلا کر لوگ سردی سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بظاہر یہ طریقہ وقتی سکون دیتا ہے، مگر ماہرینِ صحت کے مطابق یہ عادت جسم کے لیے خاموش خطرہ بھی بن سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آگ سے نکلنے والا دھواں، زہریلی گیسیں اور باریک ذرات نہ صرف ماحول کو آلودہ کرتے ہیں بلکہ طویل عرصے تک ان کے قریب رہنا کئی سنگین بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے، خاص طور پر جب آگ بند جگہ پر جلائی جائے.&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30497561/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30497561"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="آگ-سینکنے-سے-ہونے-والے-5-بڑے-طبی-نقصانات" href="#آگ-سینکنے-سے-ہونے-والے-5-بڑے-طبی-نقصانات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;آگ سینکنے سے ہونے والے 5 بڑے طبی نقصانات&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;1۔ سانس کی بیماریوں میں اضافہ&lt;/strong&gt;&lt;br&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لکڑی یا کوئلے کے جلنے سے نکلنے والا دھواں پھیپھڑوں میں جلن، کھانسی، سانس پھولنے اور دمہ یا برونکائٹس جیسی بیماریوں کو شدید بنا سکتا ہے۔ دمہ اور COPD کے مریضوں کے لیے یہ صورتحال خاص طور پر خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;2۔ کاربن مونو آکسائیڈ کا زہر&lt;/strong&gt;&lt;br&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آگ جلانے سے پیدا ہونے والی بے بو گیس کاربن مونو آکسائیڈ نہایت خطرناک ہوتی ہے۔ اس کی زیادتی سر درد، چکر، متلی اور شدید صورت میں دماغی نقصان یا جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے، خاص طور پر بند کمروں میں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;3۔ آنکھوں اور جلد پر منفی اثرات&lt;/strong&gt;&lt;br&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دھوئیں میں موجود ذرات آنکھوں میں جلن، پانی آنا، خارش اور سرخی پیدا کر سکتے ہیں۔ اسی طرح جلد پر خشکی، سوزش اور الرجی جیسی شکایات بھی سامنے آ سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;4۔ دل کے امراض کا خطرہ&lt;/strong&gt;&lt;br&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آگ کے دھوئیں میں شامل باریک ذرات سانس کے ذریعے خون میں شامل ہو کر دل پر دباؤ ڈالتے ہیں، جس سے دل کی دھڑکن بے ترتیب ہو سکتی ہے اور دل کے دورے یا فالج کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، خاص طور پر دل کے مریضوں میں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;5۔ ہوا کا معیار انتہائی خراب ہونا&lt;/strong&gt;&lt;br&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لکڑی اور کوئلہ جلنے سے ماحول  زہریلا بن سکتا ہے، جو طویل مدت میں کینسر سمیت کئی خطرناک بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30494013/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30494013"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;آگ سینکتے وقت ان باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہمیشہ کھلی جگہ پر آگ جلائیں اور دھوئیں کے رخ پر نہ بیٹھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آگ سے کم از کم 3 سے 5 فٹ کا فاصلہ رکھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بند کمروں میں انگیٹھی یا کوئلہ ہرگز نہ جلائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صرف خشک اور صاف لکڑی استعمال کریں، پلاسٹک یا ربڑ نہ جلائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طویل وقت تک آگ کے قریب نہ بیٹھیں، وقفے وقفے سے تازہ ہوا میں جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بچوں، بزرگوں اور بیمار افراد کو دھوئیں سے دور رکھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ سردی سے بچاؤ کے لیے گرم کپڑے، مناسب ہیٹر اور محفوظ طریقے زیادہ بہتر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وقتی سکون کے لیے آگ سینکنا اگر احتیاط کے بغیر کیا جائے تو یہ صحت کے لیے مہنگا ثابت ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سردیوں کے موسم میں جب دھند اور ٹھنڈی ہوائیں شدت اختیار کر لیتی ہیں تو آگ سینکنا ایک عام عادت بن جاتی ہے۔</strong></p>
<p>سڑک کنارے، گھروں کے صحن، دکانوں یا حتیٰ کہ کمروں میں انگیٹھی اور لکڑی جلا کر لوگ سردی سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بظاہر یہ طریقہ وقتی سکون دیتا ہے، مگر ماہرینِ صحت کے مطابق یہ عادت جسم کے لیے خاموش خطرہ بھی بن سکتی ہے۔</p>
<p>آگ سے نکلنے والا دھواں، زہریلی گیسیں اور باریک ذرات نہ صرف ماحول کو آلودہ کرتے ہیں بلکہ طویل عرصے تک ان کے قریب رہنا کئی سنگین بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے، خاص طور پر جب آگ بند جگہ پر جلائی جائے.</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30497561/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30497561"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<h3><a id="آگ-سینکنے-سے-ہونے-والے-5-بڑے-طبی-نقصانات" href="#آگ-سینکنے-سے-ہونے-والے-5-بڑے-طبی-نقصانات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>آگ سینکنے سے ہونے والے 5 بڑے طبی نقصانات</strong></h3>
<p><strong>1۔ سانس کی بیماریوں میں اضافہ</strong><br></p>
<p>لکڑی یا کوئلے کے جلنے سے نکلنے والا دھواں پھیپھڑوں میں جلن، کھانسی، سانس پھولنے اور دمہ یا برونکائٹس جیسی بیماریوں کو شدید بنا سکتا ہے۔ دمہ اور COPD کے مریضوں کے لیے یہ صورتحال خاص طور پر خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔</p>
<p><strong>2۔ کاربن مونو آکسائیڈ کا زہر</strong><br></p>
<p>آگ جلانے سے پیدا ہونے والی بے بو گیس کاربن مونو آکسائیڈ نہایت خطرناک ہوتی ہے۔ اس کی زیادتی سر درد، چکر، متلی اور شدید صورت میں دماغی نقصان یا جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے، خاص طور پر بند کمروں میں۔</p>
<p><strong>3۔ آنکھوں اور جلد پر منفی اثرات</strong><br></p>
<p>دھوئیں میں موجود ذرات آنکھوں میں جلن، پانی آنا، خارش اور سرخی پیدا کر سکتے ہیں۔ اسی طرح جلد پر خشکی، سوزش اور الرجی جیسی شکایات بھی سامنے آ سکتی ہیں۔</p>
<p><strong>4۔ دل کے امراض کا خطرہ</strong><br></p>
<p>آگ کے دھوئیں میں شامل باریک ذرات سانس کے ذریعے خون میں شامل ہو کر دل پر دباؤ ڈالتے ہیں، جس سے دل کی دھڑکن بے ترتیب ہو سکتی ہے اور دل کے دورے یا فالج کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، خاص طور پر دل کے مریضوں میں۔</p>
<p><strong>5۔ ہوا کا معیار انتہائی خراب ہونا</strong><br></p>
<p>لکڑی اور کوئلہ جلنے سے ماحول  زہریلا بن سکتا ہے، جو طویل مدت میں کینسر سمیت کئی خطرناک بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30494013/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30494013"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>آگ سینکتے وقت ان باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔</p>
<p>ہمیشہ کھلی جگہ پر آگ جلائیں اور دھوئیں کے رخ پر نہ بیٹھیں۔</p>
<p>آگ سے کم از کم 3 سے 5 فٹ کا فاصلہ رکھیں۔</p>
<p>بند کمروں میں انگیٹھی یا کوئلہ ہرگز نہ جلائیں۔</p>
<p>صرف خشک اور صاف لکڑی استعمال کریں، پلاسٹک یا ربڑ نہ جلائیں۔</p>
<p>طویل وقت تک آگ کے قریب نہ بیٹھیں، وقفے وقفے سے تازہ ہوا میں جائیں۔</p>
<p>بچوں، بزرگوں اور بیمار افراد کو دھوئیں سے دور رکھیں۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ سردی سے بچاؤ کے لیے گرم کپڑے، مناسب ہیٹر اور محفوظ طریقے زیادہ بہتر ہیں۔</p>
<p>وقتی سکون کے لیے آگ سینکنا اگر احتیاط کے بغیر کیا جائے تو یہ صحت کے لیے مہنگا ثابت ہو سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30497579</guid>
      <pubDate>Fri, 26 Dec 2025 15:32:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/12/26152552e0171cf.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/12/26152552e0171cf.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
