<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 13 May 2026 02:08:10 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 13 May 2026 02:08:10 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ریڈیو پاکستان پشاور واقعے کی تحقیقات کے لیے خصوصی کمیٹی تشکیل</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30497586/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;خیبرپختونخوا اسمبلی نے ریڈیو پاکستان پشاور واقعے کی تحقیقات کے لیے خصوصی کمیٹی تشکیل دے دی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیبرپختونخوا اسمبلی سیکرٹیریٹ نے 15 رکنی کمیٹی اعلامیہ جاری کردیا جب کہ خصوصی کمیٹی کے چیئرمین صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم ہوں گے۔ تحقیقات کا فیصلہ صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں 15 دسمبر کو ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپوزیشن اور حکومتی اراکین پر مشتمل کمیٹی طارق سعید، ملک عدیل اقبال، محمد اسرار، آصف خان، عبدالغنی، فضل الٰہی، سمیع اللہ، طارق محمود، احمد کریم کنڈی، عدنان خان، ارباب وسیم، محمد نثار، سجاد اللہ اور محمد رشاد خان بطور اراکین شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خصوصی کمیٹی ریڈیو پاکستان پشاور میں 9 مئی واقعے کی تحقیقات کریں کرے گی، واقعے کے اسباب، وجوہات اور حالات کا جائزہ لے گی اور یہ بھی معلوم کرے گی کہ آیا یہ واقعہ کسی منظم سازش کا نتیجہ تھا یا نہیں، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کردار کا بھی تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خصوصی کمیٹی تحقیقات مکمل کرنے کے بعد اپنی رپورٹ صوبائی اسمبلی میں پیش کرے گی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30492403'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30492403"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;9 مئی 2023 کو سابق وزیرِ اعظم اور پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کی اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے سے گرفتاری کے بعد ملک بھر میں فسادات پھوٹ پڑے تھے جو کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان فسادات کے دوران سرکاری املاک اور فوجی تنصیبات کو بھی نقصان پہنچایا گیا تھا جن میں خیبر پختونخوا کے صوبائی دارالحکومت پشاور میں واقع ریڈیو پاکستان کی عمارت بھی شامل تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>خیبرپختونخوا اسمبلی نے ریڈیو پاکستان پشاور واقعے کی تحقیقات کے لیے خصوصی کمیٹی تشکیل دے دی۔</strong></p>
<p>خیبرپختونخوا اسمبلی سیکرٹیریٹ نے 15 رکنی کمیٹی اعلامیہ جاری کردیا جب کہ خصوصی کمیٹی کے چیئرمین صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم ہوں گے۔ تحقیقات کا فیصلہ صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں 15 دسمبر کو ہوا تھا۔</p>
<p>اپوزیشن اور حکومتی اراکین پر مشتمل کمیٹی طارق سعید، ملک عدیل اقبال، محمد اسرار، آصف خان، عبدالغنی، فضل الٰہی، سمیع اللہ، طارق محمود، احمد کریم کنڈی، عدنان خان، ارباب وسیم، محمد نثار، سجاد اللہ اور محمد رشاد خان بطور اراکین شامل ہیں۔</p>
<p>خصوصی کمیٹی ریڈیو پاکستان پشاور میں 9 مئی واقعے کی تحقیقات کریں کرے گی، واقعے کے اسباب، وجوہات اور حالات کا جائزہ لے گی اور یہ بھی معلوم کرے گی کہ آیا یہ واقعہ کسی منظم سازش کا نتیجہ تھا یا نہیں، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کردار کا بھی تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔</p>
<p>خصوصی کمیٹی تحقیقات مکمل کرنے کے بعد اپنی رپورٹ صوبائی اسمبلی میں پیش کرے گی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30492403'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30492403"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>9 مئی 2023 کو سابق وزیرِ اعظم اور پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کی اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے سے گرفتاری کے بعد ملک بھر میں فسادات پھوٹ پڑے تھے جو کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہے تھے۔</p>
<p>ان فسادات کے دوران سرکاری املاک اور فوجی تنصیبات کو بھی نقصان پہنچایا گیا تھا جن میں خیبر پختونخوا کے صوبائی دارالحکومت پشاور میں واقع ریڈیو پاکستان کی عمارت بھی شامل تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30497586</guid>
      <pubDate>Fri, 26 Dec 2025 20:23:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/12/2620212000e522b.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/12/2620212000e522b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
