<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Trending</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 00:34:03 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 00:34:03 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بچپن میں لاپتا ہونے والی بچی 42 سال بعد بازیاب</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30497654/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی ریاست کینٹکی سے 1983 میں لاپتا ہونے والی 3 سالہ لڑکی 42 برس بعد زندہ مل گئی۔ حیران کن بات یہ ہے کہ خاتون کو اپنی گمشدگی یا اغوا سے متعلق کچھ علم ہی نہیں تھا اور وہ نئی شناخت کے ساتھ زندگی گزار رہی تھی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ملکی &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://nypost.com/2025/12/17/us-news/missing-kentucky-girl-found-alive-with-new-identity-42-years-later-and-she-had-no-idea/"&gt;میڈیا&lt;/a&gt; کے مطابق 1983 میں مشیل میری نیوٹن کو اس کی والدہ ڈیبرا نیوٹن کے ساتھ لُوئیول (کینٹکی) سے جارجیا منتقل ہونا تھا۔ ڈیبرا نے گھر والوں کو بتایا تھا کہ وہ نئی ملازمت اور رہائش کی تیاری کے لیے پہلے جا رہی ہیں، تاہم بعد ازاں وہ شوہر اور خاندان سے مکمل طور پر لاپتا ہو گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشیل کے والد جوزف نیوٹن نے متعدد بار رابطہ کرنے کی کوشش کی، لیکن 1984 سے 1985 کے درمیان ہونے والی ایک آخری کال کے بعد ماں بیٹی کا کوئی سراغ نہ مل سکا۔ کیس کئی برس جاری رہا اور مشیل کو ملک بھر کے لاپتا بچوں کے ڈیٹا بیس میں شامل کر دیا گیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30497450/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30497450"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ڈیبرا نیوٹن پر بچی کو غیر قانونی طور پر تحویل میں لینے کا الزام عائد کیا گیا اور انہیں ایف بی آئی کی’مطلوب ترین پیرنٹل کڈنیپنگ‘ فہرست میں شامل کر لیا گیا۔ بعد ازاں 2000 میں مقدمہ بند کر دیا گیا، لیکن 2016 میں ایک قریبی رشتے دار کی درخواست پر کیس دوبارہ کھولا گیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/Thefactsdude/status/2001338264813191589?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/Thefactsdude/status/2001338264813191589?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پولیس کو 2025 میں ایک خفیہ اطلاع موصول ہوئی جس کے بعد فلوریڈا کے قصبے دی ولیجز میں واقع ایک گھر پر کارروائی کی گئی۔ تفتیش میں سامنے آیا کہ ڈیبرا “شیرون نیلی” نام سے وہاں رہائش پذیر تھیں۔ انہیں حراست میں لیا گیا اور کیس دوبارہ عدالت میں پیش کر دیا گیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30497337/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30497337"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;حکام نے اس کے بعد مشیل تک رسائی حاصل کی جو اب 46 برس کی ہیں اور انہیں بتایا کہ وہ اصل میں ایک لاپتا بچی ہیں اور ان کا نام مشیل میری نیوٹن ہے۔ پولیس کے مطابق مشیل کو اس حقیقت کا پہلے کوئی علم نہیں تھا کیونکہ وہ برسوں سے نئی شناخت کے ساتھ زندگی گزار رہی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں مشیل کی اپنے والد جوزف نیوٹن سے ملاقات ہوئی۔ دونوں عدالت میں ڈیبرا کی پیشی کے موقع پر بھی موجود تھے۔ ڈیبرا نیوٹن پر ’کسٹوڈیئل اِنٹرفیرینس‘ (تحویل میں مداخلت) کے الزام میں فردِ جرم عائد کی گئی اور انہیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشیل کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے میں دونوں والدین کی مدد کرنا چاہتی ہیں تاکہ معاملہ احسن طریقے سے نمٹا جا سکے اور خاندان میں بہتری آسکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی ریاست کینٹکی سے 1983 میں لاپتا ہونے والی 3 سالہ لڑکی 42 برس بعد زندہ مل گئی۔ حیران کن بات یہ ہے کہ خاتون کو اپنی گمشدگی یا اغوا سے متعلق کچھ علم ہی نہیں تھا اور وہ نئی شناخت کے ساتھ زندگی گزار رہی تھی۔</strong></p>
<p>غیر ملکی <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://nypost.com/2025/12/17/us-news/missing-kentucky-girl-found-alive-with-new-identity-42-years-later-and-she-had-no-idea/">میڈیا</a> کے مطابق 1983 میں مشیل میری نیوٹن کو اس کی والدہ ڈیبرا نیوٹن کے ساتھ لُوئیول (کینٹکی) سے جارجیا منتقل ہونا تھا۔ ڈیبرا نے گھر والوں کو بتایا تھا کہ وہ نئی ملازمت اور رہائش کی تیاری کے لیے پہلے جا رہی ہیں، تاہم بعد ازاں وہ شوہر اور خاندان سے مکمل طور پر لاپتا ہو گئیں۔</p>
<p>مشیل کے والد جوزف نیوٹن نے متعدد بار رابطہ کرنے کی کوشش کی، لیکن 1984 سے 1985 کے درمیان ہونے والی ایک آخری کال کے بعد ماں بیٹی کا کوئی سراغ نہ مل سکا۔ کیس کئی برس جاری رہا اور مشیل کو ملک بھر کے لاپتا بچوں کے ڈیٹا بیس میں شامل کر دیا گیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30497450/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30497450"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ڈیبرا نیوٹن پر بچی کو غیر قانونی طور پر تحویل میں لینے کا الزام عائد کیا گیا اور انہیں ایف بی آئی کی’مطلوب ترین پیرنٹل کڈنیپنگ‘ فہرست میں شامل کر لیا گیا۔ بعد ازاں 2000 میں مقدمہ بند کر دیا گیا، لیکن 2016 میں ایک قریبی رشتے دار کی درخواست پر کیس دوبارہ کھولا گیا۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/Thefactsdude/status/2001338264813191589?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/Thefactsdude/status/2001338264813191589?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>پولیس کو 2025 میں ایک خفیہ اطلاع موصول ہوئی جس کے بعد فلوریڈا کے قصبے دی ولیجز میں واقع ایک گھر پر کارروائی کی گئی۔ تفتیش میں سامنے آیا کہ ڈیبرا “شیرون نیلی” نام سے وہاں رہائش پذیر تھیں۔ انہیں حراست میں لیا گیا اور کیس دوبارہ عدالت میں پیش کر دیا گیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30497337/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30497337"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>حکام نے اس کے بعد مشیل تک رسائی حاصل کی جو اب 46 برس کی ہیں اور انہیں بتایا کہ وہ اصل میں ایک لاپتا بچی ہیں اور ان کا نام مشیل میری نیوٹن ہے۔ پولیس کے مطابق مشیل کو اس حقیقت کا پہلے کوئی علم نہیں تھا کیونکہ وہ برسوں سے نئی شناخت کے ساتھ زندگی گزار رہی تھیں۔</p>
<p>بعد ازاں مشیل کی اپنے والد جوزف نیوٹن سے ملاقات ہوئی۔ دونوں عدالت میں ڈیبرا کی پیشی کے موقع پر بھی موجود تھے۔ ڈیبرا نیوٹن پر ’کسٹوڈیئل اِنٹرفیرینس‘ (تحویل میں مداخلت) کے الزام میں فردِ جرم عائد کی گئی اور انہیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔</p>
<p>مشیل کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے میں دونوں والدین کی مدد کرنا چاہتی ہیں تاکہ معاملہ احسن طریقے سے نمٹا جا سکے اور خاندان میں بہتری آسکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30497654</guid>
      <pubDate>Sun, 28 Dec 2025 10:32:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/12/281019575768584.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/12/281019575768584.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
