<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Technology</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 04 Apr 2026 19:10:56 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 04 Apr 2026 19:10:56 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فراڈ اشتہارات اور بچوں کے تحفظ کو خطرہ، میٹا پر مقدمہ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30497809/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی جزائر ورجن کے اٹارنی جنرل نے میٹا پلیٹ فارمز کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے، جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ فیس بک اور انسٹاگرام کے مالک نے جان بوجھ کر دھوکہ دہی والے اشتہارات سے منافع کمایا اور اپنی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بچوں کے لیے محفوظ رکھنے میں ناکام رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/legal/litigation/meta-is-sued-by-us-virgin-islands-over-ads-scams-dangers-children-2025-12-30/"&gt;رائٹرز کے مطابق&lt;/a&gt; مقدمے میں کہا گیا ہے کہ، ”میٹا جان بوجھ کر صارفین کو فراڈ اور نقصان کے خطرے میں ڈالتا ہے تاکہ صارفین کی مصروفیت بڑھائی جا سکے اور اس کے نتیجے میں آمدنی میں اضافہ ہو۔“ یہ مقدمہ سینٹ کروئز میں سپیریئر کورٹ میں دائر کیا گیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30497056'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30497056"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;مقدمے میں حالیہ رائٹرز رپورٹ کا حوالہ بھی دیا گیا ہے، جس میں بتایا گیا کہ میٹا نے داخلی طور پر اندازہ لگایا کہ 2024 کی اپنی کل آمدنی کا تقریباً 10 فیصد یعنی تقریباً 16 ارب ڈالر دھوکہ دہی والے اشتہارات، غیر قانونی جوا اور ممنوعہ مصنوعات سے حاصل کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رائٹرز نے دستاویزات کی بنیاد پر یہ بھی رپورٹ کیا کہ میٹا عام طور پر صرف تبھی مشتبہ اشتہاریوں کو بلاک کرتا ہے جب اس کے الگورتھمز کو 95 فیصد یقین ہو کہ وہ دھوکہ دہی کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی سینیٹرز نے اس رپورٹ کے بعد سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن اور فیڈرل ٹریڈ کمیشن سے معاملے کی تحقیقات اور مناسب قانونی کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی جزائر ورجن کا مقدمہ صارفین کے قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانے اور اصلاحات کا تقاضا کرتا ہے۔ یہ کسی بھی اٹارنی جنرل کی جانب سے اس طرح کی پہلی کارروائی ہے۔​&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقدمے میں یہ بھی الزام ہے کہ میٹا نے عوام کو بچوں اور بالغ صارفین کے تحفظ کے حوالے سے گمراہ کیا۔ مقدمے کے مطابق، ”میٹا بار بار اپنے پلیٹ فارمز کے محفوظ ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، لیکن اپنی لکھی گئی پالیسیوں کو نافذ کرنے میں ناکام رہتا ہے۔“&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30283243'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30283243"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;میٹا کے ترجمان اینڈی اسٹون نے رائٹرز کو بتایا کہ کمپنی ان الزامات کی سختی سے تردید کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صارفین کی طرف سے فراڈ اور دھوکہ دہی کی رپورٹیں پچھلے 18 ماہ میں نصف ہو گئی ہیں اور کمپنی اس مسئلے سے نمٹنے میں پوری سنجیدگی سے مصروف ہے۔ اسٹون نے مزید کہا کہ بچوں کی حفاظت کے حوالے سے بھی الزامات بے بنیاد ہیں اور میٹا کی پالیسیوں نے ہمیشہ نوجوان صارفین کی مدد اور حفاظت کو ترجیح دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ اس سال اگست میں رائٹرز نے رپورٹ کیا تھا کہ میٹا کے داخلی دستاویزات میں چیٹ بوٹس کے لیے ایسی ہدایات شامل تھیں جو بچوں کے ساتھ رومانوی یا حساس بات چیت کی اجازت دیتی تھیں۔ میٹا نے اس رپورٹ کے بعد ایسے حصے ہٹا دیے جن میں بچوں کے ساتھ رومانس یا فلرٹ کرنے کی اجازت تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مقدمہ سوشل میڈیا کمپنیوں کی اشتہاری پالیسیوں اور صارف سیفٹی پر نئے ضابطوں کا پیش خیمہ بن سکتا ہے، خاص طور پر حساس افراد جیسے بچوں اور بزرگ صارفین کے لیے۔ دو امریکی سینیٹرز نے بھی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن اور فیڈرل ٹریڈ کمیشن سے تفتیش کا مطالبہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی جزائر ورجن کے اٹارنی جنرل نے میٹا پلیٹ فارمز کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے، جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ فیس بک اور انسٹاگرام کے مالک نے جان بوجھ کر دھوکہ دہی والے اشتہارات سے منافع کمایا اور اپنی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بچوں کے لیے محفوظ رکھنے میں ناکام رہا ہے۔</strong></p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/legal/litigation/meta-is-sued-by-us-virgin-islands-over-ads-scams-dangers-children-2025-12-30/">رائٹرز کے مطابق</a> مقدمے میں کہا گیا ہے کہ، ”میٹا جان بوجھ کر صارفین کو فراڈ اور نقصان کے خطرے میں ڈالتا ہے تاکہ صارفین کی مصروفیت بڑھائی جا سکے اور اس کے نتیجے میں آمدنی میں اضافہ ہو۔“ یہ مقدمہ سینٹ کروئز میں سپیریئر کورٹ میں دائر کیا گیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30497056'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30497056"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>مقدمے میں حالیہ رائٹرز رپورٹ کا حوالہ بھی دیا گیا ہے، جس میں بتایا گیا کہ میٹا نے داخلی طور پر اندازہ لگایا کہ 2024 کی اپنی کل آمدنی کا تقریباً 10 فیصد یعنی تقریباً 16 ارب ڈالر دھوکہ دہی والے اشتہارات، غیر قانونی جوا اور ممنوعہ مصنوعات سے حاصل کرے گا۔</p>
<p>رائٹرز نے دستاویزات کی بنیاد پر یہ بھی رپورٹ کیا کہ میٹا عام طور پر صرف تبھی مشتبہ اشتہاریوں کو بلاک کرتا ہے جب اس کے الگورتھمز کو 95 فیصد یقین ہو کہ وہ دھوکہ دہی کر رہے ہیں۔</p>
<p>امریکی سینیٹرز نے اس رپورٹ کے بعد سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن اور فیڈرل ٹریڈ کمیشن سے معاملے کی تحقیقات اور مناسب قانونی کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔</p>
<p>امریکی جزائر ورجن کا مقدمہ صارفین کے قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانے اور اصلاحات کا تقاضا کرتا ہے۔ یہ کسی بھی اٹارنی جنرل کی جانب سے اس طرح کی پہلی کارروائی ہے۔​</p>
<p>مقدمے میں یہ بھی الزام ہے کہ میٹا نے عوام کو بچوں اور بالغ صارفین کے تحفظ کے حوالے سے گمراہ کیا۔ مقدمے کے مطابق، ”میٹا بار بار اپنے پلیٹ فارمز کے محفوظ ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، لیکن اپنی لکھی گئی پالیسیوں کو نافذ کرنے میں ناکام رہتا ہے۔“</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30283243'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30283243"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>میٹا کے ترجمان اینڈی اسٹون نے رائٹرز کو بتایا کہ کمپنی ان الزامات کی سختی سے تردید کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صارفین کی طرف سے فراڈ اور دھوکہ دہی کی رپورٹیں پچھلے 18 ماہ میں نصف ہو گئی ہیں اور کمپنی اس مسئلے سے نمٹنے میں پوری سنجیدگی سے مصروف ہے۔ اسٹون نے مزید کہا کہ بچوں کی حفاظت کے حوالے سے بھی الزامات بے بنیاد ہیں اور میٹا کی پالیسیوں نے ہمیشہ نوجوان صارفین کی مدد اور حفاظت کو ترجیح دی ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ اس سال اگست میں رائٹرز نے رپورٹ کیا تھا کہ میٹا کے داخلی دستاویزات میں چیٹ بوٹس کے لیے ایسی ہدایات شامل تھیں جو بچوں کے ساتھ رومانوی یا حساس بات چیت کی اجازت دیتی تھیں۔ میٹا نے اس رپورٹ کے بعد ایسے حصے ہٹا دیے جن میں بچوں کے ساتھ رومانس یا فلرٹ کرنے کی اجازت تھی۔</p>
<p>یہ مقدمہ سوشل میڈیا کمپنیوں کی اشتہاری پالیسیوں اور صارف سیفٹی پر نئے ضابطوں کا پیش خیمہ بن سکتا ہے، خاص طور پر حساس افراد جیسے بچوں اور بزرگ صارفین کے لیے۔ دو امریکی سینیٹرز نے بھی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن اور فیڈرل ٹریڈ کمیشن سے تفتیش کا مطالبہ کیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30497809</guid>
      <pubDate>Wed, 31 Dec 2025 11:28:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/12/311119474a4685b.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/12/311119474a4685b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
