<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 06:38:17 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 06:38:17 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈاکٹرز کا انوکھا کارنامہ: زندہ نومولود کا ڈیتھ سرٹفکیٹ جاری کردیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30497862/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نئے سال کی آمد پر ہولی فیملی اسپتال راولپنڈی کے ڈاکٹرز نے انوکھا  کارنامہ انجام دیتے ہوئے دو دن کے زندہ بچے کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کردیا، لواحقین نے ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری ہونے کے بعد بچے کے زندہ ہونے کی تصدیق کر دی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روبینہ نامی خاتون کے ہاں گزشتہ روز ہولی فیملی اسپتال میں بچے کی پیدائش ہوئی، جس کی حالت تشویشناک تھی۔ ڈاکٹروں نے عجلت میں بچے کو مردہ قرار دیتے ہوئے ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کر دیا، جس میں واضح طور پر درج تھا کہ میت لواحقین کے حوالے کر دی گئی ہے۔ ڈیتھ سرٹیفکیٹ پر ڈاکٹر طیبہ صدف کی مہر اور دستخط موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;والدین کے مطابق جب انہوں نے بچے کو وصول کیا تو انہوں نے دیکھا کہ بچہ آکسیجن ماسک کے ساتھ سانس لے رہا تھا۔ اس پر بچے کو دوبارہ طبی معائنے کے لیے لے جایا گیا جہاں اس کے زندہ ہونے کی تصدیق ہوئی اور اسے آئی سی یو میں وینٹی لیٹر پر منتقل کر دیا گیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  ' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=LC5Z1gpHQBY'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/LC5Z1gpHQBY?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;والدین کا کہنا ہے کہ ڈاکٹرز نے عجلت میں ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کیا، جس پر ڈاکٹر کی مہر اور دستخط بھی موجود ہیں۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیو میں آکسیجن ماسک لگے بچے کو سانس لیتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جس کے بعد معاملہ زیرِ بحث آ گیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30485489'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30485489"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جو یہ جائزہ لے گی کہ ڈیتھ سرٹیفکیٹ کس بنیاد پر جاری کیا گیا اور عملے سے کہاں غلطی ہوئی۔ کمیٹی کی رپورٹ آنے پر ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا وعدہ بھی کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انتظامیہ کے مطابق بچے کا علاج جاری ہے اور اس کی حالت سے متعلق اہل خانہ کو مسلسل آگاہ رکھا جا رہا ہے۔ اسپتال حکام نے کہا کہ انکوائری مکمل ہونے کے بعد تمام تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>نئے سال کی آمد پر ہولی فیملی اسپتال راولپنڈی کے ڈاکٹرز نے انوکھا  کارنامہ انجام دیتے ہوئے دو دن کے زندہ بچے کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کردیا، لواحقین نے ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری ہونے کے بعد بچے کے زندہ ہونے کی تصدیق کر دی۔</strong></p>
<p>روبینہ نامی خاتون کے ہاں گزشتہ روز ہولی فیملی اسپتال میں بچے کی پیدائش ہوئی، جس کی حالت تشویشناک تھی۔ ڈاکٹروں نے عجلت میں بچے کو مردہ قرار دیتے ہوئے ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کر دیا، جس میں واضح طور پر درج تھا کہ میت لواحقین کے حوالے کر دی گئی ہے۔ ڈیتھ سرٹیفکیٹ پر ڈاکٹر طیبہ صدف کی مہر اور دستخط موجود ہیں۔</p>
<p>والدین کے مطابق جب انہوں نے بچے کو وصول کیا تو انہوں نے دیکھا کہ بچہ آکسیجن ماسک کے ساتھ سانس لے رہا تھا۔ اس پر بچے کو دوبارہ طبی معائنے کے لیے لے جایا گیا جہاں اس کے زندہ ہونے کی تصدیق ہوئی اور اسے آئی سی یو میں وینٹی لیٹر پر منتقل کر دیا گیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  ' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=LC5Z1gpHQBY'>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/LC5Z1gpHQBY?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure>
<p>والدین کا کہنا ہے کہ ڈاکٹرز نے عجلت میں ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کیا، جس پر ڈاکٹر کی مہر اور دستخط بھی موجود ہیں۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیو میں آکسیجن ماسک لگے بچے کو سانس لیتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جس کے بعد معاملہ زیرِ بحث آ گیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30485489'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30485489"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جو یہ جائزہ لے گی کہ ڈیتھ سرٹیفکیٹ کس بنیاد پر جاری کیا گیا اور عملے سے کہاں غلطی ہوئی۔ کمیٹی کی رپورٹ آنے پر ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا وعدہ بھی کیا گیا ہے۔</p>
<p>انتظامیہ کے مطابق بچے کا علاج جاری ہے اور اس کی حالت سے متعلق اہل خانہ کو مسلسل آگاہ رکھا جا رہا ہے۔ اسپتال حکام نے کہا کہ انکوائری مکمل ہونے کے بعد تمام تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30497862</guid>
      <pubDate>Thu, 01 Jan 2026 12:56:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (فہد بشیر)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/01/011143053e98625.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/01/011143053e98625.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
