<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 02 May 2026 05:44:29 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 02 May 2026 05:44:29 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈکی بھائی فرد جرم کے لیے طلب؛ یوٹیوب چینل مال مقدمہ ہے: عدالت</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30497945/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ضلع کچہری میں یوٹیوبر سعدالرحمان المعروف ڈکی بھائی اور دیگر ملزمان کے خلاف جوئے کی تشہیر کے کیس کی سماعت ہوئی، جس میں عدالت نے تمام ملزمان کو 16 جنوری کو طلب کر لیا۔ آئندہ سماعت پر ملزمان پر فردِ جرم عائد کی جائے گی۔ عدالت نے کیس سے متعلق چالان کی کاپیاں بھی ملزمان کے حوالے کر دی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے کہ بغیر اجازت وی لاگ کرنا غیر قانونی تھا اور اس مقصد کے لیے پہلے باقاعدہ درخواست دائر کی جانی چاہیے تھی۔ عدالت نے استفسار کیا کہ کسی بھی زیر سماعت معاملے میں اجازت صرف عدالت ہی دے سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈکی بھائی کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں سمجھ نہیں آ رہا کہ کس چیز کی اجازت لی جائے، اور یہ بھی کہا کہ ان کے کلائنٹ اپنے چینل پر وی لاگ کر ہی نہیں رہے۔ عدالت نے کہا کہ گزشتہ سماعت پر دیا گیا بیانِ حلفی اجازت تصور نہیں کیا جا سکتا اور پوچھا کہ کوئی شخص خود سے اپنے لیے اجازت کیسے دے سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30477729/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30477729"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ سعدالرحمان کا یوٹیوب چینل اس وقت مالِ مقدمہ ہے اور اس چینل سے ویڈیوز اپ لوڈ کرنا غیر قانونی تصور ہوگا۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ اگر ملزم وی لاگنگ کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں، مگر اسی چینل سے اپ لوڈنگ کی اجازت نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سماعت کے دوران پروسیکیوشن نے بھی وی لاگنگ کے معاملے پر تحفظات کا اظہار کیا۔ عدالت نے کیس کی مزید کارروائی 16 جنوری تک ملتوی کر دی، جب ملزمان پر باضابطہ طور پر فردِ جرم عائد کیے جانے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ضلع کچہری میں یوٹیوبر سعدالرحمان المعروف ڈکی بھائی اور دیگر ملزمان کے خلاف جوئے کی تشہیر کے کیس کی سماعت ہوئی، جس میں عدالت نے تمام ملزمان کو 16 جنوری کو طلب کر لیا۔ آئندہ سماعت پر ملزمان پر فردِ جرم عائد کی جائے گی۔ عدالت نے کیس سے متعلق چالان کی کاپیاں بھی ملزمان کے حوالے کر دی ہیں۔</strong></p>
<p>سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے کہ بغیر اجازت وی لاگ کرنا غیر قانونی تھا اور اس مقصد کے لیے پہلے باقاعدہ درخواست دائر کی جانی چاہیے تھی۔ عدالت نے استفسار کیا کہ کسی بھی زیر سماعت معاملے میں اجازت صرف عدالت ہی دے سکتی ہے۔</p>
<p>ڈکی بھائی کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں سمجھ نہیں آ رہا کہ کس چیز کی اجازت لی جائے، اور یہ بھی کہا کہ ان کے کلائنٹ اپنے چینل پر وی لاگ کر ہی نہیں رہے۔ عدالت نے کہا کہ گزشتہ سماعت پر دیا گیا بیانِ حلفی اجازت تصور نہیں کیا جا سکتا اور پوچھا کہ کوئی شخص خود سے اپنے لیے اجازت کیسے دے سکتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30477729/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30477729"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ سعدالرحمان کا یوٹیوب چینل اس وقت مالِ مقدمہ ہے اور اس چینل سے ویڈیوز اپ لوڈ کرنا غیر قانونی تصور ہوگا۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ اگر ملزم وی لاگنگ کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں، مگر اسی چینل سے اپ لوڈنگ کی اجازت نہیں۔</p>
<p>سماعت کے دوران پروسیکیوشن نے بھی وی لاگنگ کے معاملے پر تحفظات کا اظہار کیا۔ عدالت نے کیس کی مزید کارروائی 16 جنوری تک ملتوی کر دی، جب ملزمان پر باضابطہ طور پر فردِ جرم عائد کیے جانے کا امکان ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30497945</guid>
      <pubDate>Sat, 03 Jan 2026 11:39:47 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ناطق ریحان)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/01/031137216445d7d.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/01/031137216445d7d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
