<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Technology</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 23:03:55 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 23:03:55 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>خلا میں جانے سے پہلے خلا بازوں کی عقل داڑھ کیوں نکال دی جاتی ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30497960/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;خلائی سفر جتنا دلچسپ دکھائی دیتا ہے، اتنا ہی نازک اور خطرات سے بھرپور بھی ہوتا ہے۔ خلا میں موجود خلائی اسٹیشن پر نہ کوئی ایمرجنسی وارڈ ہوتا ہے اور نہ ہی فوری سرجری کی سہولت، اسی لیے خلا بازوں کو زمین سے روانگی سے پہلے سخت طبی مراحل سے گزارا جاتا ہے۔ انہی احتیاطی اقدامات میں ایک عقل داڑھ اور بعض اوقات اپنڈکس کو پہلے ہی نکلوانا بھی شامل ہے، چاہے وہ بظاہر کوئی مسئلہ پیدا نہ کر رہے ہوں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طبی ماہرین کے مطابق بعض اعضاء اور دانت ایسے ہوتے ہیں جو برسوں تک ٹھیک رہتے ہیں مگر اچانک شدید مسئلہ پیدا کر سکتے ہیں۔ عقل داڑھ انہی میں سے ایک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خوراک کے ذرات پھنسنے، انفیکشن اور سوزش کے امکانات کے باعث یہ دانت کسی بھی وقت درد یا بخار کی وجہ بن سکتے ہیں، اور خلا میں اس طرح کی صورتحال پورے مشن کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30497859/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30497859"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کہتے ہیں کہ صفر کششِ ثقل کے ماحول میں انسانی جسم کا ردِعمل زمین سے مختلف ہو جاتا ہے۔ چہرے پر سوجن، مدافعتی نظام کی کمزوری اور ہڈیوں کی طاقت میں کمی جیسے عوامل چھوٹے مسائل کو بھی سنگین بنا سکتے ہیں۔ ایسے میں دانت یا پیٹ سے متعلق تکالیف کی شدت بڑھنے کا خدشہ رہتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خلائی طب کا اصول یہ ہے کہ علاج کے انتظار کے بجائے خطرے کو پہلے ہی ختم کر دیا جائے۔ خلا میں نہ مکمل سرجری ممکن ہے، نہ اینستھیزیا اور نہ ہی طویل نگہداشت۔ اس لیے مشن سے پہلے مکمل طبی جانچ کے بعد وہ تمام عوامل ختم کر دیے جاتے ہیں جو بعد میں مسئلہ بن سکتے ہوں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30497893/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30497893"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق اگر کسی خلا باز کو دورانِ مشن شدید درد یا انفیکشن ہو جائے تو اس سے نہ صرف اس کی صحت متاثر ہوتی ہے بلکہ پوری ٹیم اور مشن کی کامیابی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر کوئی بڑا طبی مسئلہ پیدا ہو جائے تو زمین پر واپسی میں کئی دن یا ہفتے لگ سکتے ہیں، جو مریض کی جان کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ اسی لیے یہ سخت فیصلے انفرادی اور اجتماعی سلامتی کے لیے کیے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خلائی سفر میں جسمانی صحت کے معمولی خدشات کی بھی گنجائش نہیں ہوتی۔ عقل داڑھ نکلوانا یا دیگر احتیاطی اقدامات اسی غیر معمولی احتیاط کا حصہ ہیں، تاکہ خلا میں انسان صرف اپنے مشن پر توجہ دے سکے، کسی اچانک بیماری پر نہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>خلائی سفر جتنا دلچسپ دکھائی دیتا ہے، اتنا ہی نازک اور خطرات سے بھرپور بھی ہوتا ہے۔ خلا میں موجود خلائی اسٹیشن پر نہ کوئی ایمرجنسی وارڈ ہوتا ہے اور نہ ہی فوری سرجری کی سہولت، اسی لیے خلا بازوں کو زمین سے روانگی سے پہلے سخت طبی مراحل سے گزارا جاتا ہے۔ انہی احتیاطی اقدامات میں ایک عقل داڑھ اور بعض اوقات اپنڈکس کو پہلے ہی نکلوانا بھی شامل ہے، چاہے وہ بظاہر کوئی مسئلہ پیدا نہ کر رہے ہوں۔</strong></p>
<p>طبی ماہرین کے مطابق بعض اعضاء اور دانت ایسے ہوتے ہیں جو برسوں تک ٹھیک رہتے ہیں مگر اچانک شدید مسئلہ پیدا کر سکتے ہیں۔ عقل داڑھ انہی میں سے ایک ہے۔</p>
<p>خوراک کے ذرات پھنسنے، انفیکشن اور سوزش کے امکانات کے باعث یہ دانت کسی بھی وقت درد یا بخار کی وجہ بن سکتے ہیں، اور خلا میں اس طرح کی صورتحال پورے مشن کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30497859/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30497859"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ماہرین کہتے ہیں کہ صفر کششِ ثقل کے ماحول میں انسانی جسم کا ردِعمل زمین سے مختلف ہو جاتا ہے۔ چہرے پر سوجن، مدافعتی نظام کی کمزوری اور ہڈیوں کی طاقت میں کمی جیسے عوامل چھوٹے مسائل کو بھی سنگین بنا سکتے ہیں۔ ایسے میں دانت یا پیٹ سے متعلق تکالیف کی شدت بڑھنے کا خدشہ رہتا ہے۔</p>
<p>خلائی طب کا اصول یہ ہے کہ علاج کے انتظار کے بجائے خطرے کو پہلے ہی ختم کر دیا جائے۔ خلا میں نہ مکمل سرجری ممکن ہے، نہ اینستھیزیا اور نہ ہی طویل نگہداشت۔ اس لیے مشن سے پہلے مکمل طبی جانچ کے بعد وہ تمام عوامل ختم کر دیے جاتے ہیں جو بعد میں مسئلہ بن سکتے ہوں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30497893/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30497893"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ماہرین کے مطابق اگر کسی خلا باز کو دورانِ مشن شدید درد یا انفیکشن ہو جائے تو اس سے نہ صرف اس کی صحت متاثر ہوتی ہے بلکہ پوری ٹیم اور مشن کی کامیابی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔</p>
<p>اگر کوئی بڑا طبی مسئلہ پیدا ہو جائے تو زمین پر واپسی میں کئی دن یا ہفتے لگ سکتے ہیں، جو مریض کی جان کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ اسی لیے یہ سخت فیصلے انفرادی اور اجتماعی سلامتی کے لیے کیے جاتے ہیں۔</p>
<p>خلائی سفر میں جسمانی صحت کے معمولی خدشات کی بھی گنجائش نہیں ہوتی۔ عقل داڑھ نکلوانا یا دیگر احتیاطی اقدامات اسی غیر معمولی احتیاط کا حصہ ہیں، تاکہ خلا میں انسان صرف اپنے مشن پر توجہ دے سکے، کسی اچانک بیماری پر نہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30497960</guid>
      <pubDate>Sat, 03 Jan 2026 15:08:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/01/0315002575c9eaf.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/01/0315002575c9eaf.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
